قبر مبارک
اسما بنت ابو بکر

روتی ہیں آنکھیں ہماری آپ کو یاد کر کے -
شرمندہ ہیں کہ ہم آپ کو بھول گیے ہیں -

==========================================
-



زیر نظر تصویر اسما بنت ابو بکر کی قبر مبارک کی ہے - یہ ہستی کون ہیں - ہم کیوں انہیں بھول چکے ہیں - ہم گو کہ انہیں بھول چکے ہیں لیکن اگر انکی یادوں کو تازہ کریں تو یقینا'' ہماری آنکھوں سے چند قطرے ضرور گر جائیں گے اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ ہم مکّہ مکرمہ جانے کے باوجود کیوں ان کی قبر کی زیارت سے محروم رہتے ہیں یا زیارت کی جستجو ہی نہیں کرتے - ہم نے انہیں کیوں فراموش کر دیا ہے - 

صحیح بخاری 5 جلد کے مطابق،" زات النطاقین " حضرت اسما جو سیدنا ابو بکر صدیق کی بیٹی تھیں ، کا لقب تھا - ہجرت نبی صلی الله علیہ وسلم کے موقع پر آپ نے کھانا تیار کیا تھا اور اس موقع پر اپ نے رازداری سے کھانا نبی پاک صلی الله علیہ وسلم اور اپنے والد سیدنا ابو بکر صدیق تک پہنچانے کے لیے ایک خاص طریقہ اختیار کیا جس کو دیکھ کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم اتنے خوش ہوے کہ آپ نے انھیں " زات النطاقین " کا لقب دیا یعنی دو بیلٹوں ( دو پٹوں ) والی -

انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ انھوں اپنی کمر کی بیلٹ کو دو حصوں میں منقسم کردیا اور کھانے کے ڈبوں یا برتنوں کو اس سے باندھ کر رازداری سے کھانا نبی پاک صلی الله علیہ وسلم اور اپنے والد سیدنا ابو بکر صدیق تک پہنچایا - " زات النطاقین " کے معنی ہیں
"دو بیلٹوں کے مالکہ

سیدہ اسما (ر - ض) بہت نیک خاتون تھیں. ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں شامل تھیں - اپ دین اسلام کے اٹھارویں ہستی تھیں جنھوں نے اسلام کو گلے لگایا - آپکی والدہ مسلمان نہ ہوئیں لیکن آپ نے اپنے والد کا ساتھ دیا اور مشرف بہ اسلام ہوئیں - آپ امان سیدہ عائشہ ( ر ض ) کے بڑی بہن تھیں -

آپکے والد سیدنا ابو بکر صدیق ( ر ض ) اور آپکے خاوند سیدنا زبیر بن عوام دونوں عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں - یہ اعزاز کسی اور کو حاصل نہیں 

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہجرت کے بعد آپ بھی مدینہ ہجرت کر گیئں - سو سال کے عمر پائی -آخری ایام میں مکّہ آگیئں - اس زمانے میں بہت دلگداز واقعیات کا سامنا کیا -

عبداللہ بن زبیر آپ ہی کے صاحبزادے تھے۔ جنہوں نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے سات برس تک اپنی حکومت قائم رکھی۔ عبدالملک کے زمانے میں جب حجاج بن یوسف نے مکہ کامحاصرہ کر لیا اور تنگ آکر بہت سے لوگ بھی حضرت زیبر کا ساتھ چھوڑ گئے تو آپ نے اپنی والدہ حضرت اسما سے مشورہ کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے؟ 

انھوں نے فرمایا کہ بیٹا اگر تجھے یقین ہے کہ تو حق پر ہے تو میں خوش ہوں گی کہ تو راہ حق میں لڑتا ہوا شہید ہو جائے۔ لیکن اگر دنیاوی جاہ طلبی کے لیے لڑ رہا ہے تو تجھ سے برا کوئی نہیں۔ ماں کی یہ بات سن کر ابن زبیر مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔ حجاج نے تین دن تک ان کی لاش کو سول پر لٹکائے رکھا۔ تیسرے دن حضرت اسماء اس طرف سے گزریں اور سولی پر بیٹے کی لٹکتی ہوئی لاش دیکھ کر فرمایا (ابھی اس شہسوار کے اترنے کا وقت نہیں آیا۔) بیٹے کی موت کے تھوڑے دنوں بعد تقریباً سو سال کی عمر میں جمادی الاول 73 ہجری میں انتقال ہوا۔ ان سے ساٹھ کے قریب حدیثیں مروی ہیں۔ مکّہ کے مقدس قبرستان جنت المعلیٰ میں مدفون ہیں - زیر نظر تصویر ان ہی قبر مبارک ہے - 

نہ جانے کیوں ہم آج کے مسلمان اس عظیم ہستی کو فراموش کر بیٹھے ہیں . - 
روتی ہیں آنکھیں ہماری آپ کو یاد کر کے -
شرمندہ ہیں کہ ہم آپ کو بھول گیے ہیں -

============================================================

اسما بنت ابو بکر


LIST PAGE

NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE