JABAL DIYAN AND KABA
A PROPHET MRACLE





سوال
=====

یہ ایک سیٹیلایٹ سے لی گئی تصویر ہے - اس میں " نمبر ایک"
مسجد الحرام یعنی کعبہ مشرفہ کی نشاندہی کر رہا ہے جبکہ
" نمبر دو " ایک پہاڑ اور " نمبر تین " ایک تاریخی مسجد کے مقام کو ظاہر کر رہا ہے - اگر ان تینون مقامات کو ملا کر دیکھا جاتے تو اس کا سلسلہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ایک عظیم معجزے سے جا ملتا ہے جسکو ہم سب فراموش کر بیٹھے ہیں تاہم آج کی سائنس اس معجزے کی حقانیت کو چیخ چیخ کے بیان کر رہی ہے -

یاد رہے یہ پہاڑ اور یہ مسجد سعودی عرب کی حدود میں نہیں ہے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان مقامات پر کبھی تشریف بھی نہی لیے گے لیکن انہون نے ان مقامات کے بارے میں اس وقت کے لوگوں کو جو بتایا وہ انکے لئے بھی حیرت کا پاعت تھا اور آج کے انسانوں کے لیے بھی - اس پہاڑ اور اس مسجد کا کعبہ مشرفہ سے ایک انوکھا تعلق ہے جو صرف رسول الله صلی الله
علیہ وسلم ہی جانتے تھے -

اپ یہ بتادیں :
١. اس پہاڑ کا کیا نام ہے اور یہ کہاں واقع ہے ؟
٢- اس تاریخی مسجد کا کیا نام ہے اور یہ کہاں واقع ہے ؟
٣- ان دونوں مقامات کا کعبہ مشرفہ سے کیا تعلق ہے ؟ اور
٤- رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ان مقامات سے متلق کونسا معجزہ ہے جو عقل کو دنگ کر دیتا ہے


جواب

====

جواب نمبر -١- تصویر میں جس مقام پر دو کا ہندسہ درج ہے ، وہ ایک پہاڑ ہے جسکا نام " جبل د یاں " ہے اور یہ یمن کے دار الحکومت " صنعا " میں واقع ہے


جواب نمبر -٢- تصویر میں جس مقام پر تین درج ہے ، یہ ایک مسجد کا ہے جو یمن میں حضور صلی الله و سلّم کے کہنے پر بنائی گئی تھی اور جگہ کی نشاندہی بھی آپ صلی الله و سلّم نے فرما دی تھی- اس مسجد کا نام " مسجد صنعا " ہے -

جواب نمبر -٣- ان دونون مقامات کا کعبہ مشرفہ سے یہ تعلق ہے کہ اگر مسجد صنعا میں کھڑے ہوکر جبل د یاں کی چوٹی کی جانب منہ کیا جایے، جو مسجد سے صاف نظر آتی ہے تو یہ سو فیصد درست قبلہ کا رخ بنتا ہے -

جواب نمبر-٤- حضور صلی الله و سلّم کا یہ معجزہ عقل کو دنگ کر دیتا ہے کہ سن چھہ ہجری میں جب یمن کے لوگ اسلام قبول کر کے اسکی تعلیمات کے لیے حضور صلی الله و سلّم کے پاس آے تو حضور صلی الله و سلّم نے ایک صحابی " ویبر بن یوھنس" کو انکا معلم بناکر یمن بھیجا - جب آپ حضور صلی الله و سلّم سے دریافت کیا گیا کہ ہم مسجد بناکر قبلے کے رخ کا اندازہ کیسے لگائیں گے تو حضور صلی الله و سلّم نے ارشاد فرمایا کہ " آپ " بیتھان" ( جگہ کا نام ہے ) میں اس طرح مسجد بنائیں کہ آپکے سامنے " جبل د یاں " کی چوٹی ہو - یہ بالکل کعبہ کا سامنا ہوگا -

حضور صلی الله و سلّم کے فرمان پر جانیں قربان کرنے والے اصحاب نے یقین کامل کے ساتھ اس حکم پر عمل کیا لیکن عقلیں حیران تھیں کہ بغیر کسی پیمائش کے آپ صلی الله و سلّم نے یہ کیسے بتادیا - لیکن آج کی سائنس اور گوگل ارتھ اس کو ثابت کر چکے ہیں کہ اگر مسجد صنعا سے " جبل د یاں " کی چوٹی کی جانب کی سیدھا خط کھنچا جایے اور پھر اسکو بالکل سیدھا ابے بڑھاتے جائیں تو یہ خط کعبہ مشرفہ کے بالکل وسط کو چھوتا ہے-
الله اکبر.- الله اکبر- الله اکبر- یہ ایک زندہ معجزہ ہے ہمارے سچے اور پیارے نبی کا -


see prove by clicking following link

http://www.youtube.com/watch?v=SAmsZwMAjNs


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE