IDOLS OF ISAF AND NAILA


کعبہ مشرفہ میں رکھے وہ دو بت ہاتھوں
سے نہیں بنائے گیے تھے
----------------------------------------





کعبہ مشرفہ میں رکھے وہ دو بت ہاتھوں
سے نہیں بنائے گیے تھے
----------------------------------------
سوال
-----------
آٹھھ حجری کو جب الله کے رسول سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں مکّہ فتح ہوا تو آپ مسجد الحرام میں قرآن پاک کی یہ سورتیں پڑھثے ہوے داخل ہوے :-

'' حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل کو تو مٹنا ہی تھا ''

زمانہ جاہلیت میں کعبہ مشرفہ کے گرد عرب کے ہر قبیلے نے اپنے اپنے بت رکھے ہووے تھے جن کی تعداد تین سو ساٹھ

تھی - ان میں سب سے بڑا بت ''ہبل '' نامی بت تھا جسکا ایک ہاتھ سونے کا تھا - اس کے علاوہ ''لات ''، ''منات '' اور'' اعزی '' نامی بت بھی چیدہ چیدہ بڑے بتوں میں شمار کیے جاتے تھے اور اہل عرب ان بتوں کی پرستش بھی کرتے تھے اور ان کی قسمیں بھی
کھا تے تھے -

ظاہر یہ تمام بت ہر قبیلے نے اپنے ہاتھوں سے بنائے تھے مگر ان تین سو ساٹھ بتوں میں سے دو بت ایسے تھے جو کسنے اپنے ہاتھوں سے نہیں بنائے تھے - پھر یہ سوال پیدہ ہوتا ہے کہ یہ بت کیسے کعبہ مشرفہ میں آ گئے ؟

کیا ایسا ہوا کہ یہ دونون بت کعبہ میں نہ صرف آیے بلکہ ان کی پوجا بھی کی جانے لگی - ان دونون بتوں کے ساتھ ایک تاریخ ساز واقعہ منسلک ہے -

آپ کو ایک اشارہ بھی دے دوں کہ ان بتوں میں سے ایک کو کچھ عرصے '' صفا '' کی پہاڑی پر اور دوسرے کو'' مروا '' کی پہاڑی پر بھی رکھا گیا اور بعد میں انمیں سے ایک کو ''زم زم '' کے کویں کے قریب ---- لال ڈاٹ دیکھیں ------- اور دوسرے کو کعبہ مشرّفہ کے قریب----سبز ڈاٹ دیکھیں --- رکھ دیا گیا تھا -

١- کیا آپ بتا سکتے ہیں ان دونو بتوں کا کیا نام تھا اور کیوں کسی نے انہیں اپنے ہاتھوں سے نہیں بنایا تھا ؟ اور

٢- کونسا تاریخ ساز واقعہ ان دونوں بتوں کے ساتھ منسلک ہے ؟


======================================================================================
جواب نوٹ کرلیں :-
------------------------

اس سوال کا درست جواب ''بھائی منور سعید صدیقی '' نے بالکل درست دیا - وہ لایق مبارک ہیں -

کعبہ مشرفہ کی تاریخ میں ایک مرتبہ ایک ایسا دل دھلادینے واقعہ رونما ہوا جسکا ذکر کرتے ہوے دل کانپ اٹھتا ہے - زمانہ جہالیت میں ایک مرتبہ ایک مرد اور ایک عورت کعبہ مشرفہ جیسے پاک مقام پر بد فعلی کے مرتکب ہو گے - انکا یہ عمل بد الله رب العزت کو غضبناک کرنے کے لیے کافی تھا - الله کے حکم سے یہ دونوں جیتے جاگتے انسان وہیں پتھر کے مجسمے بن گیے - ان دونوں بتوں کو لوگوں نے کعبہ سی باہر لیجا کر، ایک کو صفا کی پہاڑی پر اور دوسرے کو مروا کی پہاڑی پر رکھ دیا - ( یہ دونون پہاڑیاں اسوقت کعبہ یا حرم سے کافی فاصلے پر تصور کی جاتی تھیں مگر اب حرم کی توسیع کے بعد یہ دونوں پہاڑیاں حرم مکّی کے اندر آگیئ ہیں-) 

بعد میں بت پرست جاہل قبیلوں نے ان دونون بتوں کو پوجنا شروع کر دیا اور وہ ان دونوں بتوں کو اٹھا کر واپس کعبہ کے قریب لے آے اور ایک کو کعبہ کی دیوار کے ساتھ رکھ دیا جبکہ دوسرے کو زم زم کے کویں پر رکھ دیا - تاریخ میں مرد والا بت ''ایساف '' اور عورت والا بت '' نائلہ '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے -

یہ دونوں بت جہاں اپنے اس گھناونے فعل کی وجہ سے تاریخ کا حصہ بنے ہوے ہیں ، وہیں کعبہ مشرفہ میں رکھے ہوے تین سو ساٹھ بتوں میں سے یہ دو بت ایسے تھے جنکو کسی انسان نے اپنے ہاتھوں سے نہیں بنایا تھا بلکہ یہ حکم ربی سے خود بخود انسان سے بت بن گیے تھے -

PLEASE READ ABOUT IT EXPLAINED IN FAMOUS AND RELIABLE ''TAFSEER IBN-NE- KASEER ''


https://www.facebook.com/photo.php?fbid=243399815694013&set=a.102319033135426.5648.100000719903974&type=1&permPage=1



ANSWER IN ENGLISH 
----------------------------
The worst that happened to the Holy Ka'bah, at the lime of Jahiliyyah, was that a man and a woman committed adultery inside it. They were called Isaf and Naylah. They were turned into stone and then taken out of the Holy Ka'bah, and one of them was put on AI-Safa, the other on AI-Marwa. Later they were converted to idols to be worshipped as instructed by Amr Ibn Lahi AI-Khuzaic. Qusai later put one of them close to the Holy Ka'bah, the other on Zamzam.
=========================================================
wazahat 
--------------
آپ سب کی توجہ کا طالب ہوں 
-----------------------------------
اوپر والے سوال کے جواب میں ہمارے ایک بھائی جناب عثمان محمّد صاحب نے یہ اعترض کیا کہ اساف اور نائلہ کی بد کاری کاری والا واقعہ ہضم نہیں ہوتا کیوں کہ شرک تو اس سے بھی بڑا گناه ہے جو کعبہ کے گرد ہوتا تھا مگر ان لوگوں پر ایسا عذاب نہیں آیا تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ زمانہ جہالیت میں جب لوگ صفا اور مروا کے درمیان دوڑتے تھے تو وہ صفا پر ایساف کے بت کو چھوتے اور چومتے اور مروا کی پہاڑی پر نائلہ کے بت کو چھوتے اور بوسہ دیتے - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب ان بتوں کو وہاں سے ہٹوایا اور صفا مروا کے درمیان ڈور کر ان بتوں کو بوسہ دینے سے روکا تو لوگ یہ سمجھے کہ شاید صفا اور مروا سعی کرنا کوئی بری بات ہے اور انھوں نے اس کو ترک کرنا شروع کر دیا تھا - اس موقع پر قرآن پاک کی آیت نازل ہوئیں جو سوره البقرہ کی آیت ١٨٥ ( ایک سو پچاسی ) ہے جس میں الله فرماتے ہیں :-

'' بے شک صفا اور مروا الله کی نشانیوں میں سے ہے، سو جو شخص
حج کرے بیت الله کا یا عمرہ کرے تو نہیں ہے کچھ گناہ اس پر جو سعی کرے ان دونوں کے درمیان اور جو شخص خوش دلی سے کرتا ہے کوئی نیک کام تو بے شک الله ہے قدر دان ، سب کچھ جاننے والا ''

قرآن پاک کی اس سورت کا شان نزول بھی اسی واقعہ سے جڑا ہوا ہے - گو کہ تاریخ کے بہت سے اوراق اس واقعہ کی شہادت پیش کرتے ہیں تاہم یہاں میں قرآن پاک کی اور پیش کی گیئ آیات کی تفسیر کے لیے آپکی خمت میں مشھور زمانہ تفسیر '' تفسیر ابن کثیر '' کا ایک لنک پیش کر رہا ہوں جو سورہ البقرہ کی اسی آیت نمبر ١٨٥ کی تفسیر ہے جس میں انھوں نے سیدنا عبّاس سے روایت کر تے ہوے اس واقعہ کی وضاحت کی ہے - امید ہے یہ تفسیر 'ایساف اور نائلہ والے واقعہ کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہوگی - آپ پلیز اس لنک کو پڑھیں اور اس پر تبصرہ بھی کریں - اھلا'' ایک چھوٹا سا فورم ہے جو پوری کوشش کرتا ہے کہ آپ کو سچ بات سے اگاہ کی یا جایے-
PLEASE REFER THIS LINK TO READ ABOUT IT EXPLAINED IN FAMOUS AND RELIABLE ''TAFSEER IBN-NE- KASEER ''

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=243399815694013&set=a.102319033135426.5648.100000719903974&type=1&permPage=1


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE