حضرت سلمان فارسی کے کھجوروں کے باغ


اهلا'' مشکور ہے '' بھائی عفان احمد '' کی اس تصویر و تحریر کا
=========================
=======================

حضرت سلمان فارسی فا رس کے رہنے والے تھے۔آپ کےباپ دادا آگ کی پوجا کیا کرتے تھے۔جب آپ شام پہنچے تو آپ نے تورات اور انجیل میں پڑھا کے عرب کی سر زمیں پر ایک اِیسا نبی آنے والا ہےجو حق اور سچ کی بات کرے گا۔جب آپ مدینہ پہنچے تو ایک یہو دی کے پاس قید ہوگئے اوربغیر کسی معاوضہ کے کام کر نے لگے۔نبی کریمﷺ کی خدمت میں پیش ہوۓ اور عر ض کی کہ یا رسو ل اللہﷺ میں صد قہ دینے آیا ہوں۔ رسو ل اللہﷺ نے فر مایا سید زات پر صد قہ حرام ہے میں نہیں لیتا اور آپ چلے گئے۔ حضرت سلمان فارسی رسو ل اللہﷺ کی خدمت میں دوبارہ پیش ہوے اور عر ض کی یا رسو ل اللہﷺ میں مسلمان ہونا چہتا ہوں دین کی خدمت کرنا چہتا ہوں اور اپنے مالک یہو دی سے آزادی چہتا ہوں۔آپ ﷺنے فرمایا اپنے مالک سے پوچھو تمہے آزاد کرنے کی کیا قیمت لگائے گا۔ حضرت سلمان فارسی اُس یہو دی کے پاس پہنچے اور آزاد ہونے کی قیمت پوچھی تو یہو دی نے ایک شرط رکھی۔میری ایک بنجر زمین پر جب تم 360کھجوروں کے درخت لگا دو اور وہ درخت جوان ہو کرکھجور دینے کے کابل ہو جائیں گیں تب میں تمہیں آزاد کر دو ں گا ۔ یہو دی نے سو چا کے اُن درختوں کو جوان ہونے میں 10 سے 12 سال لگے گیں تب تک یہ میرا غلام ہی رہے گا۔حضرت سلمان فارسی رسو ل اللہﷺ کی خدمت میں پیش ہوئے اور بتایا کے یہو دی کی ایک بنجر زمین ہے جب اُس پر 360کھجوروں کے درخت لگادیے جائیں گیں اور وہ درخت جوان ہو کرکھجور دینے کے کابل ہو جائیں گیں تب وہ مجھے آزاد کر دے گا۔ نبی کریم ﷺ نے صحا بہ اکرام کو حکم دیا جاؤ 360 گھڈ ے کھو دو۔ رسول اکرم ﷺ اپنے مبارک ہاتھوں سے کھجور لگا تے گئے اور صحا بہ اکرام اس کو پانی دیتے گئے۔ جب آخری کھجور کاپودا لگا کر پیچھے دیکھا تو سب کھجو روں کے درخت جوان ہو کرکھجور دینے کے کابل ہوچکے تھے۔یہو دی یہ دیکھ کر خیراں ہوا، وہ مسلمان ہوگیا اور اُس نے حضرت سلمان فارسی کوبھی آزاد کر دیا۔ اس تصویر میں دکھا ئے گئے کھجوروں کے باغ حضور پاک ﷺکی ہاتھوں کےلگا ۓگئے ہیں۔
===================================================================================

 NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE