اریس کا کنواں



ابن عمر رضی الله فرماتے ہیں کہ حضور اقدس نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور وو انگوٹھی نبی پاک کہ دست مبارک میں رہی اور پھر حضرت ابو بکر رضی الله کے ہاتھ میں رہی پھر حضرت عمر رضی الله کے دست مبارک میں رہی پھر حضرت عثمان رضی الله کے دست مبارک میں رہی پھر ان ہی کے زمانہ میں بیر اریس میں گر کر گم ہو گئی اس انگوٹھی کا نقش محمّد رسول الله تھا . ( شمائل ترمذی : باب حضور اقدس کی انگوٹھی مبارک کا ذکر صفحہ ٧٦ )
بیر اریس مسجد قبا کے پاس ایک کنواں ہے یہ انگوٹھی چھ برس تک حضرت عثمان غنی رضی الله کے پاس رہی اس کے بعد اتفاق سے کنویں میں گر گئی حضرت عثمان رضی الله نے بہت کوشش کی اور تلاش کیا لیکن وو نہ مل سکی تین دن تک پانی نکلوایا گیا لیکن انگوٹھی نہ ملی علما نے لکھا ہے کے ان انگوٹھی کے گم ہونے کے ساتھ ہی فتنے اور حوادث شروع ہو گئے تھے جو حضرت عثمان غنی رضی الله کی شہادت تک جاری رہے

اہل شام کی لغت میں اریس کے معنی "فلاح" کے ہیں۔ مذکورہ کنواں بئر اریس‏، بئر خاتم‏ اور "بئر النبى(ص)" بھی کہلاتا ہے۔ اسلامی مصادر میں اس کنویں کا ذکر دسوں بار آیا ہے۔ اس کنویں کی طرف اہم ترین تاریخی اشارے کا تعلق حضرت عثمان رضی الله  کے دور میں اس میں رسول اللہ(ص) کی انگشتری کا اس میں گرنے کے واقعے سے ہے۔ یہ انگشتری حضرت عثمان رضی الله کے ہاتھ سے گری تھی۔[52]۔


NEXT PAGE 
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE