مکان سیدنا عباس رضی الله تعالی عنہ اور مسجد النبوی



مسجد النبوی میں اگر آپ '' باب السلام '' سے داخل ہوں تو آپ اپنے آپ کو مسجد النبوی کی پہلی صف میں پاین گے اور بس اس دوازے سے داخل ہوتے ہی اگر آپ سامنے کی دیوار پر نظر ڈالیں گے تو آپکو اسپر قرانی آیات اور رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم کے اسما گرامی لکھے نظر آہیں گے - وہاں آپکو جہاں '' صدق الله '' لکھا ہے اس سے کچھہ پہلے ایک چوکور سیاہ نشان نظر یے گا جو اس تصویر میں میں نے نیلے اسکویر سے ظاہر کیا ہے -اس کو بارے غور سے دیکھیں اور پلیز بس
'' باب السلام '' سے داخل ہوتے ہی اپنے سیدھے ہاتھہ والی دیوار پر اپر کی جانب دیکھیں - زیادہ آگے نہ جائیں -

یہ دراصل رسول الله صلی الله علیہ وہ آلہ وسلم کے چچا '' سیدنا عباس رضی الله تعالی عنہ '' کا مکان تھا جو آپکے طائف سے مستقلا'' مدینہ رہائش اختیار کرنے کے بعد رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے آپکو عطا کیا تھا اور عین اس مقام پر آپ صلی الله علیہ وہ آلہ وسلم نے اپنے چچا '' سیدنا عباس رضی الله تعالی عنہ '' کو اپنے کندھے مبارک پر کھڑا کر کے اس مکان کی چھت پر ایک '' پر نالہ '' لگوا تھا اور اس مقام پر اس خاص موقع الله سبحان و تعالی سے رحمت کی دعا کی تھی -

انصاف
=======
مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متصل ایک مکان تھا جس کا پرنالہ مسج کی طرف تھا اور بارش کے دنوں میں اس کا پانی جب گرتا تو نمازی ان چھینٹوں سے بچ نہیں پاتے
خلیفہ رضی الله تعالی عنہ وقت کے پاس اس کی شکایت گئی ، انہوں نے وہ پرنالہ مالک مکان کی عدم مودوگی میں اکھڑوا دیا
مالک مکان جب تشریف لائے اور انہوں نے دیکھا تو بہت رنجیدہ ہوئے اور خلیفہ وقت کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا -

وہ خلیفہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے جن کی حکومت سے بڑی اس وقت دنیا میں کوئی اور حکومت نہ تھی
مدعی حضرت عباس رضی اللہ عنہ تھے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے
 
اور قاضی سیدنا ابی بن کعب تھے
فرمان جاری ہوا کہ خلیفہ وقت حاضر ہوں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو اس وقت ابی بن کعب دوسرے مقدمات میں مصروف تھے سو اندر آنے کی اجازت نہ ملی ، دنیا کا سب بڑا بادشاہ ایک مجرم کی طرح دروازے پر اپنی پیشی کا منتظر تھا-

ابی بن کعب نے پھر انہیں اندر بلایا ، حضرت عمر کچھ کہنا چاہتے تھے مگر انہیں روک دیا اور کہا پہلے میں مدعی کی بات سن لوں ، اور حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے واقعات بتائے ، پھر ابی بن کعب نے حضرت عمر سے صفائی مانگی
حضرت عمر نے کہا ، ان کے پرنالے سے گرنے والا پانی نمازیوں کے لئے باعث تکلیف تھا اس لئے میں نے اسے نکلوا دیا اور میں اسے ناجائز نہیں سمجھتا -

ابی بن کعب پھر حضرت عباس کی طرف متوجہ ہوئے ۔ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں
انہوں نے کہا ،
قاضی صاحب ! اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کردئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں.. میں نے ایسے ہی کیا.. پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا. اور مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے کندھوں پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ لگاؤں..اور ان کے اصرار پر میں آپ صلی اللہ کے کاندھے پر چڑھ کر یہ پرنالہ لگایا تھا-

قاضی نے پوچھا.. " آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے ہیں..؟ "
حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باہر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواہی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم کے کندھوں پر کھڑے ہو کر نصب کیا تھا..
مقدمے کی گواہی کے ختم ہونے بعد خلیفہ وقت نگاہیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑے تھے.. یہ وہ حکمران تھے جس کے رعب اور خوف سے قیصر و کسری بھی ڈرتے تھے.. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا..
" اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو.. مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ نالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لگوایا ہے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا.. جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ لاعلمی میں ہوئی.. آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کریہ نالہ وہاں لگادیں.."

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا.. " ہاں انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے.. "
اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والے حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑے تھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے.. پر نالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا.. " امیر المومنین ! میں نے جو کچھ کیا ' اپنے حق کے لیے.. جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا..
اب یہ پرنالہ کیا میں اپنا پورا مکان مسجد نبوی کے لئے وقف کرتا ہوں !!!

'' سیدنا عباس رضی الله تعالی عنہ '' نے اس پر نالے کو ہمیشہ عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھا - اور آج بھی جب مسجد النبوی جدید تعمیر کے باعت نہات وسیع ہو چکی ہے اور وہ مکان بھی اب موجود نہیں لیکن یادگار کے طور پر اس پر نالے کی جگہہ پر یہ سیاہ نشان لگایا گیا ہے تا کہ اسکی یاد باقی رہے -

تو آپ مسجد النبوی جا کر اس کی زیارت سے کیوں محروم رہتے ہیں. ------ اھلا'' آپ سب کو انشااللہ ایسی یادگاروں سو متعارف کرتا رہے گا انشااللہ
======================================================
 NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE