مسجد غمامہ
====================================

(مسجد الغمامہ کے متعلق جاننے سے پہلے اوپر دی گئی ''اھلا'' تصویر '' پر ایک نگاہ ڈالیں - یہ دراصل دو تصاویر ہیں ٠ سیدھے ہاتھہ پر '' مسجد الغمامہ '' کی مکمل تصویر دی گئی ہے جبکہ الٹے ہاتھہ والی تصویر میں '' مسجد النبوی اور گنبد خضرا'' نظر آ رہا ہے لیکن آگے کچھہ فاصلے پر چار مختلف رنگوں میں چار چوکور خانوں میں چار مساجد نظر آرہی ہیں -
ان میں الٹے ہاتھہ کی پہلی مسجد '' مسجد عثمان رضی الله تعالی عنہ '' ہے جسکو سرخ چوکور خانے میں دیکھایا گیا ہے جبکہ اگلی مسجد جسکو نارنجی چوکور خانے میں دیکھایا گیا ہے '' مسجد الغمامہ '' ہے جسکا تذکرہ آج کی پوسٹ میں ہو رہا ہے تا کہ آپکو اندازہ ہو سکے کہ یہ مسجد مسجد النبوی سے چند قدموں پر واقع ہے اور اسکی زیارت بڑی آسانی سے کی جاسکتی ہے -
اگلے دو چوکور خانوں میں بالترتیب '' مسجد ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ اور '' مسجد علی رضی الله تعالی عنہ '' ہیں جن کی تفصیل پھر کسی پوسٹ میں ان شا الله پیش کی جایے گی - '' آیے اب '' مسجد الغمامہ '' کے بارے میں جانتے ہیں '' )

مسجد غمامہ

یہ وہ متبرک مسجد ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سخت دھوپ میں جب مدینہ قحط کی صورت سے دو چار تھا اور انسانوں سمیت جانور اور درخت تک سوکھ گئے تھے ، الله سبحان و تعالی کی بارگاہ میں بارش کی دعا کی تھی تو دوران دعا بادل کا ایک ٹکڑا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سر مبارک پر سایہ فگن ہوگیا تھا اور فوری طور سے مدینہ میں بارش شروع ہوگی اور پورا مدینہ ہرا بھرا ہوگیا - اس واقعہ کے وقت آپکے نو عمر نواسے سیدنا حسن رضی الله عنہ بھی آپ کے ساتھہ تھے - اس واقعہ کی مناسبت سے اس مقام پر بنائی جانے والی اس مسجد کا نام '' مسجد غمامہ '' رکھا گیا کیوں کہ عربی میں غمامہ ''بادل '' کو کہتے ہیں -

اس کے علاوہ اس مقام پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عید کی نمازیں بھی پڑھی ہیں اور قربانی کے اونٹ اور بھیڑیں بھی نحر یعنی قربان کی ہیں -

مسجد غمامہ کے مقام پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ '' نجاشی '' جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بہت محبت کرتا تھا اور دائرۂ اسلام میں داخل ہو چکا تھا ، کی موت کی خبر بھی اسی دن لوگوں کو دی جس دن اسکا انتقال ہوا حالانکہ اس وقت کمیونیکیشن کے کوئی زرایع نہ تھا - اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسی مقام پر نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی تھی -


مسجد غمامہ صحن مسجد نبوی سے قریب ہی بجانب جنوب مغرب میں واقع ہے, اس کی تجدید متعدد بار ہوئی, عثمانی فرمانروا سلطان عبد المجید نے (۱۲۷۵ھ/۱۸۵۸) میں اس کی تعمیر نو کی اور ابھی تک یہ اسی حال میں ہے, مسجد لمبی شکل کی اور سرمئی رنگ کے پتھر سے تعمیر شدہ ہے, اس کی چھت میں بہت سےگنبد بنے ہیں, اندرونی دیواروں اور گنبدوں کے سوراخوں کو سفید رنگ کیا گیا ہے جبکہ تراشیدہ پتھروں کو اپنے اصلی رنگ پر باقی رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مسجد کا منظر حسین نظر آتا ہے.

  In the above picture you may see masjid-e-gahamama  in circle  Which is NO 1 
                                  Green dome of rodha-e-rasool(s.a.w) which is NO 2. 
                                  Bab-us-salam gate which is NO 3. 
                                  Jannat ul baqqi graveyard  which is NO 4.


SEE LOCATION BELOW 
 
                     masjid             masjid                          masjid
                ghamama           Abubakar                         Ali


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE