بدر کے یہ شہید


یہاں کیوں دفن نہیں ہوسکے ؟
=====================================

یہ بدر کا وہ روحانی مقام ہے جہاں حق و باطل کا اولین معرکه وقوع پذیر ہوا - ایک ہزار انسانوں ، 100 گھوڑوں اور 170 اونٹوں پر مشتعمل کفّار کے مقابلے میں مسلمانوں کی فوج محض 313 انسانوں ، 2 گھوڑوں اور 70 اونٹوں پر مشتعمل تھی - مادی پیمانوں میں حق اور باطل کی قوت میں زمین آسمان کا فرق تھا مگر جب مسلمان راسخ العقیدہ ہوں تو ہمیشہ مدد الله سبحان و تعالی کی جانب سے آتی ہے - اور یہ مدد آج بھی آ سکتی ہے مگر شرط اخلاص حب الله . حب رسول اور عقیدے کا راسخ ہونا ہے -

بدر کے میدان میں ایک سنہری ریت والا خوبصورت پہاڑ بھی ہے جسے
'' جبل ملا یکہ '' یعنی فرشتوں کا پہاڑ کہتے ہیں- مسلمانوں کی مدد کے لیے بدر کی جنگ والے دن الله سبحان و تعالی نے اس پہاڑ پر ایک ہزار فرشتوں کو اتارا اور جن کی مدد سے مسلمانوں کو عظیم فتح و نصرت حاصل ہوئی -

سنہری ریت والا خوبصورت پہاڑ جہاں ملایک یعنی فرشتے اترے

 اس جنگ میں کفّار کے 70 لوگ جہنم واصل ہوے اور اتنے ہی گرفتار ہوے جب کہ 14 مسلمان شہید ہوے جنکو بدر کے اسی مقام پر دفن کر دیا گیا اور آج بھی جو لوگ بدر جاتے ہیں ان قبروں کی زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں -
بدر کے میدان میں جہاں شهداۓ بدر مدفون ہیں وہاں انکے 14 آسماے گرامی ایک خوبصورت کتبے میں کندہ کر کے آویزاں کیے گیے ہیں جو آپکو اس تصویر میں بڑے واضح نظر آرہے ہیں - آپ ان ناموں کو پڑھ بھی سکتے ہیں - یہ چودہ نام ہیں -
لیکن کیا آپ کے علم میں ہے کہ انمیں سے ایک شہید اس مقام پر دفن نہیں ہیں - کیا آپ بتا سکتے ہیں ان ناموں میں سے وہ کونسے صحابی ہیں جو یہاں دفن نہیں ہیں اور پھر یہ بھی بتائیں کہ وہ یہاں کیوں دفن نہیں اور انکی قبر مبارک کہاں ہیں ؟
ایک بات آپکی خدمت میں عرض ہے کہ ان صحابی کی شہادت ایک اور وجہ سے بھی سب منفرد ہے - بس آپ ان چودہ صحابیوں میں سے جنکے آسماے گرامی آپکو اس تصویر میں لکھے نظر آرہے ہیں . انکا نام بتا دیں ؟

جواب حاضر ہے
===============

غزوہ بدر میں مسلمانوں کی جانب سے شہید ہونے والے 14 مسلمانوں میں سے 13 بدر کے اسی مقام پر دفن کیے گیے جسکی تصویر اوپر آج کے کویز میں دی گئی ہے - تصویر میں نظر آنے والے کتبے میں 14 کے 14 شہدا کے اسماۓ گرامی نظر آرہے ہیں -
وہ کون سے صحابی ہیں جو یہان دفن نہ ہوسکے اور کیوں نہ ہوسکے ، انکا ذکر کرنے سے پہلے غزوہ بدر سے متعلق مزید 3 دلچسپ باتیں آپ سے share کرنا ضروری ہیں کیوں کہ عام کتب میں اسکا ذکر موجود نہیں ہے اور بحثیت مسلمان اس کا جاننا اپکا حق ہے -
پہلی بات تو یہ ہے کہ اوپر کی تصویر میں نظر آنے والے کتبے میں ایک نام آپکو سیدنا '' مھج بن صالح '' کا نظر آرہا ہے - یہ صحابی وہ صحابی ہیں جنھیں غزوہ بدر میں سب سے پہلے شہید ہونے کا اعزاز حاصل ہوا -
دوسری بات یہ ہے کہ ان ناموں میں آپکو ایک صحابی '' حارثہ بن سراقہ '' کا نام بھی نظر آرہا ہے - عمر کے اعتبار سےغالبا'' وہ بچے تھے اور وہ غزوہ میں جنگ لڑنے کے بجاے ، صرف جنگ کا مشاہدہ کرنے کے لیے شریک ہوے تھے مگر شہادت کے درجے پر فایز ہوے -
تیسری بات یہ ہے کہ غزوہ بدر میں جسمانی طور پر 313 اصحاب نے شرکت کی لیکن سیدنا عثمان غنی رضی الله و تعالی عنہ سمیت 5 اصحاب رسول صلی الله علیہ و الیہ وسلم ایسے تھے جنھیں رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم نے ضروری اموار کی انجام دہی کے لیے مدینہ المنوره میں ہی ٹہرنے اور غزوہ بدر میں ظاہری و جسمانی طور پر شرکت نہ کرنے کی ہدایت کی تھی تا ہم ان اصحاب کو درجے کے اعتبار سے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں میں شامل کیا گیا تھا - اور یہی وجہ ہے کہ غزوہ بدر میں ہاتھہ آنے والے مال غنیمت میں ان پانچوں اصحاب کا بھی حصہ لگایا گیا تھا -
اب ہم اپنے اصل سوال کی جانب آتے ہیں - غزوہ بدر کے آغاز کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے تین بہادروں کو میدان میں اترا - ان میں سے ایک سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ تھے جو رشتے میں آپکے سگے چچیرے بھائی تھے . دوسرے سیدنا امیر حمزہ رضی الله تعالی عنہ تھے جو رشتے میں آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بذات خود چچا تھے اور تیسرے سیدنا عبیدہ بن حارث رضی الله تعالی عنہ تھے جو رشتے میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے ایک اور سگے چچا حارث بن عبد المطلب کے بیٹے تھے -
کفّار کی جانب سے ولید سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ کے مقابلے پر آیا جبکہ شیبہ کا مقابلہ سیدنا امیر حمزہ رضی الله تعالی عنہ سے ہوا - ان دونوں کو آن واحد میں سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ اور سیدنا امیر حمزہ رضی الله تعالی عنہ نے جہنم واصل کیا -
تیسرے صحابی سیدنا عبیدہ بن حارث رضی الله تعالی عنہ جو اول الذکر دونوں صحابیوں سے عمر میں کافی بڑے تھے انکا مقابلہ کفّار کی جانب سے میدان میں اترنے والے عتبہ سے ہوا - گو کہ سیدنا عبیدہ بن حارث رضی الله تعالی عنہ نے جنکی عمر شریف اسوقت 63 سال تھی انھیں نے عتبہ کو خوب گھائل کیا لکن آپ خود بھی شدید زخمی ہوے - آ[پکی ٹانگ مبارک شہید ہوگی - سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ اور سیدنا امیر حمزہ رضی الله تعالی عنہ جو اپنے حریفوں کو زیر کر چکے تھے جب انھوں نے سیدنا عبیدہ بن حارث رضی الله تعالی عنہ کو زخمی دیکھا تو آن واحد میں انہوں نے عتبہ کو تھ تیغ کر دیا اور زخمی سیدنا ابو عبیدہ بن حارث رضی الله تعالی عنہ کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے قدمیں پر لاکر لیٹا دیا -
جنگ ختم ہوگی اور اسلامی لشکر فتحیاب
ہو
ا

اس وقت تک سیدنا ابو عبیدہ بن حارث رضی الله تعالی عنہ زندہ تھے لیکن مدینہ واپسی کے سفر پر پر وہ ''االصفرا '' نامی مقام پر خالق حقیقی سے جا ملے اور یوں بدر میں شہید ہونے والے یہ جلیل قدر صحابی بدر کے اس مقام پر دفن نہ ہوسکے جہاں انکے دوسرے 13 شہید ساتھی مدفون ہیں -
تا ہم انکا نام آج بھی بدر کے قبرستان میں لگے کتبے پر کندہ ہے جسے آپ تصویر میں دیکھہ سکتے ہیں -


صفرا کے مقام پر سیدنا  ابو عبیدہ بن حارث رضی الله تعالی عنہ
 کی قبر مبارک کا مقام



NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE
LIST PAGE