مسجد النبوی میں ''خوخہ ابی بکر صدیق '' کیا ہے ؟
=================================


مسجد النبوی کی مشرقی جانب بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا کا حجرہ مبارک ہے جو ظاہر ہے اب روضۂ رسول صلی الله علیہ وسلم کی صورت ہم سب کی توجہ کا مرکز رہتا ہے - مشرقی جانب روضۂ رسول صلی الله علیہ وسلم سی متصل باہر نکلنے کے لیے مشہور دروازہ '' باب البقیع '' ہے جسکو مسجد النبوی کی مشرقی دیوار میں '' پہلا '' دروازہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اس کے بالکل مقابل یعنی سامنے مغربی دیوار میں جو پہلا دروازہ ہے اسے '' باب السلام '' کہتے ہیں اور یہ حقیقت میں نمبر شمار کے حساب سے مسجد النبوی کا '' باب نمبر ایک دروازہ ہے -
اس دروازے یعنی باب السلام کی بائیں جانب مغربی دیوار میں جو دروازہ ہے اسکا نمبر
'' باب نمبر دو '' ہے اور اسکا نام '' الصدیق ؓ '' ہے جو باہر سے ایسا نظر آتا ہے جو آج کی تصویر نمبر ١ میں دیکھایا گیا ہے اور باہر کی جانب ، اس دروازے پر جو لوح لگی ہے اسپر '' باب الصدیق ؓ '' لکھا ہے ( لال تیر دیکھیں ) ----- یہ دروازہ خواتین بھی باہر سے دیکھ سکتی ہیں اور اس کے اندر ایک '' کمرہ نما '' سا نظر آتا ہے اسکی زیارت بھی وہ باہر سے ہی کر سکتی ہیں - یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ خواتین اس دروازے سے اندر نہیں جا سکتیں اور اسی لیے وہ اندر نہ جاکر ، پلٹ کر اس تحریر کوبھی نہیں دیکھہ سکتیں جو تصویر نمبر '' دو '' میں لکھی نظر آ رہی ہے جسکو میں نے نیلے تیر سے واضح کیا ہے اور آج اسی کی اہمیت کو بیان کرنا مقصد ہے کہ مسجد النبوی شریف میں اس مقام کو کیا انفرادیت حاصل ہے -

 باب نمبر دو '' ہے اور اسکا نام '' باب الصدیق ؓ '' ہے
 جو باہر سے ایسا نظر آتا ہے

=============================================
'' 
باب الصدیق ؓ '' سے اگر مسجد النبوی میں داخل ہوں تو پہلے ہم اپنے آپ کو ایک ''کمرہ نما '' جگہ پر موجود پاتے ہیں - ( تصویر نمبر دو میں سبز چوکور خانے کو دیکھیں ) گو کہ یہ بھی مسجد النبوی کا اندرونی ہی حصہ ہے اور یہاں بھی لوگ نماز پڑھتے ہیں بلکہ فرض نماز کی صفیں یہاں تک آجاتی ہیں لیکن اگر ہم اس مقام سے آگے چند قدم چلیں تو ہم اس کمرہ نما جگہ سے مسجد النبوی میں داخل ہو جاتے ہیں اور پھر اگر ہم پلٹ کر'' کمرے نما '' جگہ کی پیشانی کو دیکھیں تو اندر کی جانب اوپر یہ تحریر لکھی ملتی ہے == '' هذا خوخہ سیدنا ابوبکر صدیق ''==== ( یعنی یہ خوخہ ابوبکر ؓ ہے) - تصویر نمبر دو میں نیلا تیر اسکی نشاندھی کر رہا ہے -
یہ خوخہ سیدنا ابوبکر صدیق مسجد النبوی شریف کی مغربی دیوار میں ہے اور اس کے بلکل سامنے مشرقی دیوار میں بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا کا حجرہ مبارک تھا جو اب روضۂ رسول صلی الله علیہ وسلم کہلاتا ہے اور تمام مومنین اور مسلیمن کی دلوں کی دھڑکن ہے -

ابتدا میں مسجد نبوی شریف میں بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کے گھر مسجد نبوی شریف سے متصل تھے چھوٹے چھوٹے دروازے مسجد نبوی میں داخلے کے لیے رکھے ہوئے تھے، '' خوخہ سیدنا ابوبکر صدیق'' دروازہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک کھڑکی تھی جو سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کے گھر میں تھی جو بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا کا حجرہ مبارک کی جانب تھی - کچھہ تحریروں میں اسے کھڑکی کے بجایے ایک روزن یعنی سوراخ کہا گیا ہے -
رات میں اپنی تمام مصروفیات سے فارغ ہونے کے بعد سیدنا ابوبکر ؓاپنے مکان کے اس'' خوخہ '' میں آکر وہاں کھڑے ہوجاتے اور دراقدس کو تکتے رہتے تاآنکہ بدرالدجی ﷺ چلمن کی اوٹ سے اپنا چہرہ اقدس نمودار فرماتے تو نورانی کرنیں سب سے پہلے چہرہ ابوبکر ؓ پر پڑتیں -
یہ عشق کا لازوال انداز تھا سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کا - اس محبت کو آقا کریم صلی الله علیہ وسلم بھی بہت خوب جانتے تھے . اسی لیے حیات بشری کے آخری احکام میں جناب رسالت مآب ﷺ کا ایک حکم یہ بھی تھا ====
'' سدوا لابواب الاخوخۃ ابوبکر ؓ ''
یعنی مسجد النبوی شریف میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں سوائے خوخہ ابوبکر ؓ کے لہٰذا یہ خوخہ نہ صرف حضرت ابوبکر ؓ کی حیات طیبہ میں قائم رہا بلکہ صدیوں تک قائم رہا -
سعودیہ کی پہلی تعمیر میں وہاں دروازہ تعمیر کر کےاس کا نام ''باب الصدیق'' رکھ دیا گیا اب یہ تین متصل دروازوں پر مشتمل ہےاسکا جنوبی دروازہ خوخہ ابوبکر ہے وہاں یہ عبارت لکھی ہوئی ہے: *هذه خوخة سيدنا أبي بکر الصدیق رضی الله*.

علامت کے طور پر یہ تحریر آج بھی عشاق کی رہنمائی کرتی ہے کہ دراقدس کو تکتے رہنانہ صرف سنت ابی بکر صدیق ؓ ہے بلکہ عبادت بھی ہے۔ نہ جانے کتنے ماہ و سال سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ نے '' حب رسول اور دیدار رسول صلی الله علیہ وسلم '' کے انتظار میں روزانہ یہاں گزرے ہوں گے -


اب جب بھی آپ مدینہ منورہ بلایے جائیں تو اس مقام کی زیارت بھی کریں اور اس کمرے نما چھوٹی سی جگہ پر کچھہ نوافل بھی چاہیں تو ادا کر لیں - یہ عشاق کا محبوب مقام ہے اور اس مقام کے تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھ کر تھوڑی دیر خود یہاں کھڑے ہوکرسامنے موجود روضۂ رسول صلی الله علیہ وسلم کی جانب دیکھیں تو اس مقام پر آپکی حاضری کا مزہ دوچند ہو جایے گا کہ کیسے محب اپنے محبوب کو تکتے ہوں گے - یا کیسے محب اپنے محبوب کی روز آنہ زیارت کرتے ہونگے - کتنی ٹرپ ہوتی ہوگی انتظار میں - الله الله


PLIGRIMS ENTERING IN MASJID AL NABVI  THROUGH ''KHOKHA ABI BAKAR '' USING GATE NO.2
 ''BAB SIDDIQ'' FROM OUT SIDE
===========

اس مقام کی مزید وضاحت ہو جایے ، اسلئے درج ذیل لنک کو کلک کر کے ایک مختصر سی ویڈیو بھی دیکھیں - یہ ویڈیو مسجد کے اندر سے بنائی گئی ہے اور چھوٹے سے'' کمرے نما '' جگہ پر ایک یا دو انسان نماز پڑھتے ہوے نظر آ رہے ہیں - باقی فرض نماز کے انتظار میں بیٹھے ہیں -

https://www.youtube.com/watch?v=PE0JpB4KhsI

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
 LIST PAGE