احد  پہاڑ جہاں دندان مبارک محفوظ تھے
===========================

مدینہ المنوره میں احد کا پہاڑ ہمیشہ سے حجاج اور زائرین عمرہ کے لیے کشش کا باعث رہا ہے کیوں کہ یہ وہ پاک مقام ہے جہاں حق و باطل کو دوسرا بڑا معرکہ ظہور پذیر ہوا اور اسی معرکے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیارے چچا سیدنا امیر حمزہ کی مظلوم شہادت ہوئی جس کا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بہت رنج رہا - اور انکی قبر مبارک کیونکہ احد کے میدان میں موجود ہے لہٰذہ ، ہر حاجی اسکی زیارت کا متمنی ہوتا ہے جو اس ہی مقام پر ممکن ہے - اسکے علاوہ اس مقام پر جبل '' رماہ ''بھی ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پچاس تیر انداز متعین کیے تھے جو وقتی فتح دیکھ کر درے کو خالی چھوڑ کر میدان میں اتر گئے جسکا فائدہ اٹھاتے ہوے دشمن نے درے کے راستے واپس پلٹ کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگائی اور مسلمانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اور اس دوبارہ حملے کی وجہ سے سیدنا حمزہ رضی الله و تعالی عنہ کی شہادت ہوئی اور اسی معرکہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چہرے اطہر پر بھی زخم آیے اور آپکے دندان مبارک شہید ہوے -
آج کی پوسٹ میں اصل مقصد واقعہ احد کو بیان کرنا نہیں کیوں کہ اھلا'' کے پلیٹ فارم سے اس موضوع پر مختلف انداز میں چار پانچ پوسٹیں پہلے ہی پیش کی جاچکی ہیں - آج اصل میں آپکو ایک ایسی زیارت کروانا مقصود ہے جو اب انسان کی احد کے میدان میں جسمانی حاضری کے باوجود ممکن نہیں -

پہلے آج کی تصویر کو غور سے دیکھیں - اس میں میں نے نمبر دیکر تین تصویریں پیش کی ہیں - تصویر نمبر ایک پرانی بلیک اینڈ واہیٹ تصویر ہے جسمیں ''کالے تیر '' سے میں نے سیدنا حمزہ رضی الله و تعالی عنہ کی قبر مبارک کو دیکھایا ہے جس پر ترکیوں کے دور حکومت میں گنبد بنے تھے اور قبر مبارک ایک عمارت کے اندر تھی اور اسی سے کچھ فاصلے پر پیچھے کی جانب ایک اور عمارت تھی جس پر بھی ایک گنبد یا قبہ موجود تھا جسکو میں نے اسی تصویر نمبر ایک میں لال تیر سے ظاہر کیا ہے -

بس آپکو آج اسی قبہ یا گنبد کے بارے میں بتانا ہے - یہ بڑی محترم جگہ ہے کیوں کہ یہ ہی وہ اصل مقام تھا جہاں نبی مکرم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوے تھے اور ترکیوں نے ان محترم اور مبارک دانتوں کو اس قبہ کے نیچے موجود عمارت میں زایرین کی زیارت کے لیے رکھا ہوا تھا اور اس مناسبت سے اس قبہ کو '' قبہ ثنایا '' کہا جاتا تھا - عربی میں ''أسنان '' دانت کو کہتے ہیں جبکہ '' ثنایا '' دانتوں کی جمع ہے یعنی دو دانت ہے - اس قبہ کی بڑی تصویر میں نے پیکچر نمبر تین میں دی ہے جس کے باہر اس وقت وہ خوش نصیب زایرین کھڑے ہیں جنہوں نے ختم النبین آقا و سرکار سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کے دندان مبارک کی زیارت کو لازوال شرف حاصل کیا اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشی - واہ کیا دن ہوتے ہونگے وہ جب آقا صلی الله علیہ وسلم کے مبارک دانتوں کی خوش نصیب لوگ زیارت کرتے ہوں گے -
ترکیوں کو جب حجاز سے رخصت ہونے پر مجبور ہونا پڑا تو وہ ان مبارک و محترم دانتوں کو بھی اپنے ساتھہ لیے گیے اور آج کل یہ اسطنبول کے ٹوپ کاپی میوزیم جس کو میں میوزیم کے بجایے '' زیارت گاہ '' کہتا ہوں ، میں محفوظ ہیں - اب ان کی احد کے میدان میں زیارت ممکن نہیں بلکہ اب تو وہ قبہ جسکو '' قبہ ثنایا '' کہا جاتا تھا جسکو آپ پکچر نمبر تین میں دیکھ رہے ہیں موجود نہیں - صرف آپ تصور بندہ سکتے ہیں کہ موجودہ احد کے میدان میں '' قبہ ثنایا '' کہاں ہوتا ہوگا - اس کے لیے آپ پکچر نمبر دو کو دیکھیں اور اس مقابلہ پرانی تصویر پکچر نمبر ایک سے کریں تو اندازہ ہوگا کہ اب سیدنا حمزہ رضی الله و تعالی عنہ کی قبر مبارک کھلے آسمان تلے ہے اور انکی قبر مبارک پر بنی عمارت اور قبے ہٹا دیے گیے ہیں - پکچر نمبر دو میں نیلے تیر سے سیدنا حمزہ رضی الله و تعالی عنہ کی قبر کی نشاندھی کی گئی ہے اور سبز ستارے کے نشان سے ایک محتاط اندازے کے مطابق اس مقام کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں '' قبہ ثنایا'' ہوا کرتا تھا-
 (مقام کے تعین میں غلطی کا امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا - یہ صرف اندازہ ہے )
 - الله واعلم

====================================================
NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
 LIST PAGE