مکان سیدہ عاتکہ بنت زید اور
 '' باب الرحمہ
''
=============================================


مسجد النبوی کی مغربی دیوار میں پہلا دروازہ '' باب السلام '' ہے جبکہ دوسرہ دروازہ ''باب الصدیق'' ہے اور تیسرا دروازہ '' باب الرحمہ '' ہے - آج کی اھلا'' تصویر اسی دروازے کی
ہے - گزشتہ سفر عمرہ کے دوران جب میں مسجد النبوی کے اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوا تو اس دروازے کے دونوں پٹون کے درمیان اس دایرے کو جسے لال تیر سے میں نے تصویر نمبر ''ایک '' میں ظاہر کیا گیا ہے ، دیکھ کر میں ٹھٹھک گیا اور سوچنے لگا کہ مسجد النبوی کے فرش پر یہ نشان بلاوجہ نہیں ہو سکتا - یقینا'' یہ کوئی اہم مقام زیارت ضرور ہے - عصر کی نماز سے مغرب تک میں یہیں بیٹھا اس دائرے کو بڑی جستجو اور حسرت سے تکتا رہا -


لوگ اس دروازے سے مسلسل اندر آ رہے تھے لیکن ظاہر کوئی اس جانب توجہ نہیں دے رہا تھا - میں پوچھتا بھی تو کس سے ؟ - بس مغرب کی نماز کا وقت ہوا تو میں اس دروازے کے بالکل مقابل مشرقی دروازے '' باب جبریل کی جانب چل دیا تا کہ مغرب روضۂ رسول صلی الله علیہ وسلم کے قریب پڑھ سکوں مگر دل و دماغ میں اس دایرے کی جستجو بڑھتی گئی -

پاکستان آنے کے بعد جب پرانی مسجد النبوی کے کچھہ نقشوں کو دیکھا تو اتنا علم تو ضرور ہوا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں مسجد النبوی کے چاروں طرف صحابہ اور صحابیت کے مکانات تھے اور اس مقام پر جہاں مجھے دایره نظر آیا تھا ، وہاں مجھے '' دارعاتکہ '' لکھا ملا یعنی '' عاتکہ کا مکان '' -
مجھے اتنا تو علم پہلے ہی تھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک پھوپھی کا نام '' عاتکہ '' تھا جنکی قبر مبارک کی میں'' جنت البقیع '' میں زیارت بھی کر چکا تھا اور اس قبر مبارک کی میرے پاس تصویر بھی تھی - تو پہلا ذھن تو میرا اسی جانب گیا کہ غالبا '' یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پھوپی کا ہی مکان ہوگا لیکن ابھی تصدیق کے مراحل باقی تھے -

وقت تو بہت لگا - ڈیڑھ سال کے لگ بھگ مگر جوں جوں پرانی کتابوں کی دھول جھاڑی اور انٹرنیٹ کی مدد لی ، نئی نئی باتیں سامنے آنے لگیں - یہ تو تصدیق ہو گئی کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پھوپی کا مکان نہیں ہے - اب سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ کون سی معزز ہستی '' عاتکہ'' ہیں جن کے مکان کے نشان کو آج بھی مسجد النبوی میں برقرار رکھا گیا ہے؟ -
انکی یقینا'' ضرور کوئی ایسی فضیلت ہوگی کہ جن کا نام آج بھی مسجد النبوی میں زندہ ہے -

بہت تگ و دو کے بعد اس بات پر یقین سا ہونے لگا کہ یہ مکان عظیم صحابیہ ''سیدہ عاتکہ بنت زید '' کا ہے انکی کیا فضیلت ہے اسکو جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ اس مقام یا دائرے کی مرد تو آسانی سے زیارت کر سکتے ہے لیکن خواتین بھی باہر سے اسے بہت آسانی سے دیکھ سکتی ہیں -
تصویر نمبر دو ''باب رحمہ '' کی باہر کی تصویر ہے - اس تصویر میں میں نے جہاں '' سرخ کراس کا نشان لگایا ہے خواتین یہاں کھڑی ہوکر اس دایرے کی زیارت کر سکتی ہیں جو عظیم صحابیہ ''سیدہ عاتکہ بنت زید '' کا مکان تھا جسکو میں نے سبز تیر سے ظاہر کیا ہے -

مضمون کی تیاری کے وقت ایک اور مشکل پیش آئی ، جسکا ذکر میں مضمون کے آخر میں کروں گا - آپ پہلے ''سیدہ عاتکہ بنت زید '' کے بارے میں مکمل جان جائیں تا کہ دشواری کا احساس آپکو احسن طریقے سے ہو سکے -

UNCOVERD BY CARPET.
CIRCLE POINTING OUT ''PLACE OF ATIKAH'' 


CIRCLE POINTING OUT ''PLACE OF ATIKAH'' COVERED BY CARPET

''سیدہ عاتکہ بنت زید ''ایک عظیم جلیل القدر صحابیہ تھیں اور انکے ساتھہ تواتر سے کچھہ ایسے واقعیات رونما ہوۓ کہ انکے لیے مدینہ المنوره میں اس وقت زبان زد عام ہوگیا کہ '' جو مسلمان شہادت حاصل کرنا چاہے وہ ''سیدہ عاتکہ بنت زید '' سے نکاح کر لیے -

آپکے والد کا نام '' ذید بن عامر'' تھا اور وہ دین حنیف پر قایم تھے - ان کی آنکھوں نے اسلام سے پہلے ہی کفر وشرک کے ظلمت کدہ میں توحید کا جلوہ دیکھا تھا اورہر قسم کے فسق وفجور، یہاں تک کہ مشرکین کے ذبیحہ سے بھی بچتے رہے تھے۔ اسلیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، قیامت کے دن اکیلے امت کے ساتھہ اٹھاۓ جاین گے حالنکہ آپکے انتقال کے وقت تک نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع نہیں ہوا تھا -

حضرت عاتکہ بنت زید رضی اللہ عنہا ''سیدنا سعید بن زید '' کی ہمشیرہ ہیں جنھیں ''عشرہ مبشرہ '' ہونے کا عظیم اعزاز حاصل ہے - حضرت عاتکہ مہاجرین میں سےتھیں- آپکو مکی زندگی میں رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھوں پربیعت لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے -آپ نہایت خوبصورت اور خوب سیرت خاتون تھیں - والد اور بھائی کی بزرگی کا آپ پر بہت گہرا اثر تھا اور بہت راس العقیدہ مسلمان ہونے کے ساتھہ بہترین شاعرہ بھی تھیں -

وہ تواتر سے چار مرتبہ اس طرح بیوہ ہوئیں کہ ہر بار آپکے شوہر شہادت کے درجے پر فایز ہوتے گیے اور یوں عقیدت اور احترام کے ساتھہ پورے مدینہ المنوره میں یہ مشہور ہوگیا کہ ' جو مسلمان شہادت حاصل کرنا چاہے وہ ''سیدہ عاتکہ بنت زید '' سے نکاح کر لیے -

اپکے پہلے شوہر عبداللہ بن ابو بکر تھے جو سیدنا ابو صدیق کے فرزند تھے -
جب شادی ہوکر ابو بکر رضی الله کے عنہا کے گھر ایں تو اپنے نوٹ کیا اپکا بیٹا اپکے عشق میں اسطرح مبتلا ہو گیا ہے کہ وہ زیادہ وقت اپنا گھر پر گزارنے لگے اور یہ بات ابو بکر کو بہت گراں گزری تو اپ نے اپنے بیٹے کو کہا طلاق دے دو- ایک طرف انکی محبت اور دوسری طرف چہتی بیوی مگر پھر باپ کا حکم جیت گیا - ایک دن تہجد کی نماز کے لیے ابو بکر (رض) عنہ اٹھے تو بیٹے کے درد بھرے اشعار کی آواز آئی جسکا مفہوم تھا '' تجھ کو بے گناہ طلاق دینی پڑی مگر میں تجھے بھول نہیں سکتا '' - باپ کا دل پگھل کیا اور آپ نے آواز دے کراپنے بیٹے سے کہا ''عاتکہ '' سے رجوع کی اجازت ہے '' سیدنا عبداللہ بن ابو بکراس قدر خوش ہوے کہ اپنے غلام ایمن کو آواز دے کر اسکو شکرانے کے طور پر آزاد کیااور بیوی کو رجوع کا پیغام دیا۔ جو انہوں نے قبول کیا۔
سیدہ عاتکہ نے سیدنا عبداللہ بن ابو بکر سے ٹوٹ کر محبت کی مگر ''غزوہ حنین ''
 میں ایک زہریلے تیر سے آپ زخمی ہوے اور پھر اسی زخم سے شہادت پائی اور سیدہ عاتکہ بیوہ ہو گیئں اور آپ نے عدت کے کٹھن ایام میں اپنے شوہر کے لیے دل گداز مرثیے کہے -
==============
دوسرے شادی آپکی خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب (رض) عنہ سے ہوئی جن سے آپ نے اس شرط پر شادی کی حامی بھری کہ وہ انکو مسجد النبوی میں با جماعت نماز ادا کرنے سے نہ روکیں گے - اس بات سے آپ اندازہ لگایں کہ آپکو نمازوں سے کتنا شغف تھا - سیدنا عمر بن خطاب (رض) عنہ نے آپکی یہ شرط قبول کرلی اور آپ کے نکاح میں آ گیں - آپ نے سیدنا عمر بن خطاب سے خوب علم سیکھا -
بعد میں سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ بھی مسجد النبوی میں فجر کی نماز کی امامت کرتے ہوے مجوسی غلام '' ابو فیروز لولو '' کے بے رحم ہاتھوں شہید ہوے اور آپ ایک مرتبہ پھر بیوہ ہوگیئں - جب آپ سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا آپ سیدہ عاتکہ مسجد میں ہی تھیں - سیدنا عمر بن خطاب بھی '' عشرہ مبشرہ '' میں شامل ہیں - آپ نے اپنی دوسری عدت کے دوران بھی دلسوز مرثیے کہے جو سیدنا عمر بن خطاب کی جدائی سے متلعق تھے -
==============
آپکے تیسری شادی '' زبیر بن عوام رضی الله تعالی عنہ '' سے ہوئی - وہ بھی '' عشرہ مبشرہ '' میں سے تھے - گویا آپکے بھائی ''سیدنا سعید بن زید '' اور دو شوہروں کو زندگی میں ہی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جانب سے جنت کی بشارت ملی - جنگ جمل میں'' سیدنا زبیر بن عوام رضی الله تعالی عنہ'' کو حضرت علی کے مخالفین میں سے ایک شخص ''جرموز'' نامی نے ، حالت نماز میں شہید کر دیا اور یوں حضرت عاتکہ بنت زید کو تیسری مرتبہ بیوگی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا - تیسری عدت کا کرب بھی کم نہ تھا - آپ نے اس غم کو بھی الله تعالی کی رضا جانا اور حوصلے سے داشت کیا -
==============
آپکی چوتھی شادی سیدنا امام حسین بن علی علیہ سلام سے ہوئی -
ابتدا میں سیدنا زبیر بن عوام کی شہادت کے بعد آپ سے سیدنا امام حسین علیہ سلام کے والد محترم سیدنا علی رضی الله عنہ نے نکاح کا پیغام بھیجا مگر اپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ قوم کو اپکی ضرورت ہے - الله اپ کو لمبی زندگی دے -
اپ کا امت کے لیے موجود رہنا ضروری ہے - آپ نے اس معذوری کا اظہار محض امت کی بھلائی کے لیے کیا تھا - انھیں احساس ہونے لگا تھا کہ جو ان سے شادی کرتا ہے شہید ہوجاتا ہے - بلا شبہ انکے تینوں پہلے شوہر ، عبداللہ بن ابو بکر ' سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا زبیر بن عوام اسلام کے عظیم سپاہی تھے جو ان سے شادی کے بعد شہادت کے مرتبے پر فائز ہوچکے تھے -
=============== -
مگر الله کی قدرت دیکھیں کہ اپکی چوتھی شادی سیدنا امام حسین بن علی علیہ سلام سے ہوئی جنہوں نے کربلا میں اسلام کی عظیم ترین شہادت نوش فرمائی جسکا علم مسلم دنیا کے بچے بچے کو ہے - سیدہ عاتکہ کربلا کی شہادت کے وقت بھی اپ سیدنا امام حسین علیہ سلام ساتھ تھیں- کہا جاتا ہے آپ سے امام حسین ع نے ٣٨ہجری میں عقد کیا تھا آپ کے فرزند کربلا میں شہید ہوئے یا آپ ابھی شکم مادر میں تھے اور یہاں اسقاط حمل ہوا ( الله اعلم ) - شہر حلب میں امام حسین ع کے جن محسن نامی فرزند کا روضہ ہے وہ آپ ہی کے فرزند ہیں - اس مقام پر روضۂ الحمد للہ موجود ہے -
=================
سیدہ عاتکہ بنت زید معمولی صحابیہ نہیں تھیں - بار بار غم کے پہاڑ آپ پر ٹوٹتے رہے لیکن آپ صبر و استقامت کا پیکر بنی رہیں اور ہمیشہ الله کی رضا میں راضی رہیں اور انکا یہی استقلال انکو اسلامی تاریخ میں امر کر گیا -
=================
ایک وضاحت
=========
جب میں اس مضمون کی تیاری کے لیے حوالاجات تلاش کررہا تھا تو کچھہ مقامات پر اس تصویر کے مقام کو مکان ''سیدہ عاتکہ بنت زید '' کے بجایے مکان '' عاتکہ بنت عبدللہ بن یزید بن معاویہ '' سے موسوم کیا گیا ہے جو درست محسوس نہیں ہوتا کیوں کہ یزید خود چھبیس ہجری میں سیدنا عثمان رضی الله تعالی عنہ کے دور میں پیدا ہوا جبکہ یہ خاتون یزید کی پوتی ہیں اور کچھہ نے یزید کی بیٹی بھی لکھا ہے ، جبکہ ''سیدہ عاتکہ بنت زید '' رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت والے سال ہی یا اس سے ایک آدھ سال بعد ہی الحمد للّہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ چکی تھیں اور اوپر بیان کیے گئے تقریبا'' سارے واقعیات سواۓ شہادت امام حسین علیہ سلام کے ، یزید کی پوتی یا بیٹی ''عاتکہ بنت عبدللہ بن یزید بن معاویہ '' کی پیدایش سے بہت پہلے کے ہیں اورمسجد النبوی کا ''باب رحمہ '' جو 'سیدہ عاتکہ بنت زید '' کے مکان کے سامنے تھا ، مسجد النبوی کی ابتدائی تعمیر کے وقت بناتے جانے والے تین دروازوں میں سے ایک تھا --یہ وہ وقت تھا جب بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھی جاتی تھی - اگر بالفرض تھوڑی دیر کے لیے یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ یزید کی پوتی یا بیٹی '' عاتکہ بنت عبدللہ بن یزید بن معاویہ '' کا مکان تھا تو کم از کم آج کے دور میں تواسے کسی طور ، بطور یادگار نہیں رکھا جاتا - الله اعلم


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
 LIST PAGE