اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات
اور قبر مبارک -

==============================================


ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے منگل 17 رمضان 58ھ مطابق 13 جولائی 678ء کی شب کو اِس دارِ فانی سے عالم بقاء کو لبیک کہا۔ آپ کی وفات کی خبر اچانک ہی تمام مدینہ منورہ میں پھیل گئی اور انصارِ مدینہ منورہ اپنے گھروں سے نکل آئے۔ جنازہ میں ہجوم اِتنا تھا کہ لوگوں کا بیان ہے کہ رات کے وقت اِتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا گیا، بعض عورتوں کا اژدھام دیکھ کر روزِ عید کے ہجوم کا گماں گزرتا تھا۔ آپ کی مدتِ حیات شمسی سال کے اعتبار سے 64 سال اور قمری سال کے اعتبار سے 66 سال 11 ماہ تھی۔

نمازِ جنازہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور آپ کی تجہیز و تکفین شب میں ہی عمل میں آئی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اُن دِنوں مدینہ منورہ کے قائم مقام امیر تھے ۔بوقت تدفین آپ کی قبر اطہر کے چاروں اطراف ایک کپڑے سے پردہ کر دیا گیا تھا تاکہ آپ کے احترام میں کوئی کمی واقع نہ ہو۔ آپ کو قبر اطہر میں آپ کے بھانجوں، بھتیجوں یعنی جناب قاسم بن محمد بن ابی بکر، حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، عروہ بن زبیر، عبد اللہ بن محمد بن عبد الرحمٰن بن ابی بکر اور عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن ابی بکر نے قبر اطہر میں اُتارا۔ شب بدھ میں تہجد کے وقت تدفین عمل میں آئی -
انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنینؓ اور رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔ سو ایسا ہی کیا گیا اور آج بھی جنت البقیع میں دیگر ازواج مطہرات کے ساتھہ ہی آپکی مرقد مبارک جنت البقیع کے مرکزی گیٹ سے چند قدموں کے فاصلے پر سامنے ہی موجود ہے جسکی تصویر آج کی اھلا'' پوسٹ میں پیش کی جارہی ہے -


کم و بیش ٩ ازواج مطہرات کی قبور برابر برابر بنی ہیں اورہر قبر مبارک سرہانے پتھر نصب ہیں جسمیں اس بات کا تعین کرنا ممکن نہیں کہ کونسی قبر آپ اماں بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک ہے پر یہ بات یقینی ہے آپ اسی چھوٹے سے قطعہ ارضی میں محو استراحت ہیں - تمام ازواج مطہرات امّت کی مایں ہیں لہذا سب کی قبور پر لاکھوں سلام -

آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد 47 سال بقیدِ حیات رہیں۔ ۔ سنہ 58ھ مطابق 678ء میں جب آپ کی عمر مبارک 67 سال کے قریب قریب تھی کہ ماہِ رمضان 58ھ/ جولائی 678ء میں علیل ہوگئیں اور چند روز تک علیل رہیں۔ماہ رمضان کی 17 تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہؓ نے وفات پائی۔ آپؓ 18 سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں اور وفات کے وقت آپ کی عمر 66 اور 67 سال برس کے درمیان تھی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
کوئی حال پوچھتا تو فرماتیں: اچھی ہوں۔

جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو فرمانے لگیں: کاش میں پیدا ہی نہ ہوئی ہوتی، کاش میں ایک درخت ہوتی کہ اللہ کی پاکی میں رطب اللسان یعنی نرم زبان ، مطلب صرف الله کی حمد و ثنا کرتی رہتی اور پوری طرح سے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوجاتی، کاش میں مٹی کا ایک ڈھیلا ہوتی، کاش اللہ تعالیٰ مجھے پیدا نہ فرماتا، کاش میں زمین کی بوٹیوں میں سے کوئی بوٹی ہوتی اور قابل ذکر شے نہ ہوتی۔
عیسیٰ بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر سے پوچھا کہ اِن تمناؤں سے کیا مراد تھا؟ کہنے لگے: اُم المومنین اِن تمناؤں سے دعا میں توبہ کا وسیلہ اختیار فرما رہی تھیں (یہ تمام تمنائیں آپ کسر نفسی میں فرما رہی تھیں حالانکہ آپ ازل سے اُم المومنین کے خطاب سے سرفراز ہوئی ہیں)۔
آپ کس قدر فضیلت کی حامل زوجہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھیں کہ آپکی میں سورۃ النور کی آیات 11 سے 20 تک نازل ہوئیں- اسکے علاوہ تابعی قاسم بن محمد بن ابی بکر (جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے ازواج المطہرات پر دس وجوہات سے فضیلت حاصل ہے۔ پوچھا گیا: اُم المومنین وہ دس وجوہات کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا:

١-نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سواء کسی کنواری عورت سے نکاح نہیں کیا۔
٢-میرے سواء کسی ایسی خاتون سے نکاح نہیں کیا جس کے والدین مہاجر ہوں۔
٣-اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری براءت نازل فرمائی۔
٤-نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرئیل امین علیہ السلام ایک ریشمی کپڑے میں میری تصویر لائے اور فرمایا: اِن سے نکاح کرلیجئیے، یہ آپ کی اہلیہ ہیں۔
٥-میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے۔
٦-آپ میرے پاس ہوتے تو وحی آ جایا کرتی تھی اور اگر کسی اور بیوی کے پاس ہوتے تو وحی -نہیں آیا کرتی تھی۔
٧-نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے گلے اور سینہ کے درمیان میں ہوئی (جب رسول اللہ ٨-صلی اللہ علیہ کا سر اقدس صدیقہ رضی اللہ عنہ کی رانِ مبارک اور زانوئے مبارک کے درمیان میں تھا)۔
٩-نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری باری کے دن فوت ہوئے (یعنی جب میرے یہاں مقیم تھے)۔
١٠--نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں مدفون ہوئے۔


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
 LIST PAGE