غزوہ بدر الصغرى یا غزوہ بدر الآخرة
========================================


الحمد للّہ ہر مسلمان غزوہ بدر کے متعلق خوب جانتا ہے جو حق اور باطل کا پہلا معرکہ تھا جسمیں تین سو تیرہ مسلمانوں نے شرکت کی تھی اور یہ جنگ سن دو ہجری میں لڑی گئی لیکن
کم ہی کو علم ہے کہ سن چار ہجری میں عین اسی مقام پر ایک مرتبہ پھر مسلمان کفّار سے مقابلہ کرنے کے لیے خیمہ زن ہوے اور اس کو '' غزوہ بدر الصغرى '' کا نام دیا گیا - تا ہم
اسے '' غزوہ بدر الآخرة '' اور '' غزوہ المواعد '' بھی کہا جاتا ہے - عربی میں المواعد کے معنی ''وعدہ '' یا '' تاریخ مقررہ '' کے ہیں - اسکو '' غزوہ المواعد '' اس لیے کہتے ہیں کہ کفّار کے سردار '' ابو سفیان نے احد کی جنگ سے واپس ہوتے ہوے وعدہ کیا تھا کہ '' اب مقابلہ بدر کے مقام پر ہوگا -

غزوہ بدر صغریٰ شعبان 4ھ جنوری 626ء میں رسول اللہﷺ نے مدینے کا انتظام عبد اللہ بن رواحہ کو سونپ کرا س طے شدہ جنگ کے لیے بدر کا رُخ فرمایا۔ آپﷺ کے ہمراہ ڈیڑھ ہزار کی جمعیت اور دس گھوڑے تھے۔ آپﷺ نے فوج کا عَلَم علی کو دیا اور بدر پہنچ کر مشرکین کے انتظار میں خیمہ زن ہو گئے۔ دوسری طرف ابو سفیان بھی پچاس سوار سمیت دوہزارمشرکین کی جمعیت لے کر روانہ ہوا۔ اور مکے سے ایک مرحلہ دور وادی مَرا لظَّہران پہنچ کر مجنہ نام کے مشہور چشمے پر خیمہ زن ہوا۔ لیکن وہ مکہ ہی سے بوجھل اور بددل تھا۔ باربار مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی جنگ کا نجام سوچتا تھا۔ اور رعب وہیبت سے لرز اٹھتا تھا۔ مَر الظَّہران پہنچ کر اس کی ہمت جواب دے گئی۔ اور وہ واپسی کے بہانے سوچنے لگا۔ بالآخر اپنے ساتھیوں سے کہا : قریش کے لوگو! جنگ اس وقت موزوں ہوتی ہے جب شادابی اور ہریالی ہوکہ جانور بھی چر سکیں اور تم بھی دودھ پی سکو۔ اس وقت خشک سالی ہے لہٰذا میں واپس جا رہا ہوں۔ تم بھی واپس چلے چلو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے ہی لشکر کے اعصاب پر خوف وہیبت سوار تھی کیونکہ ابو سفیان کے اس مشورہ پر کسی قسم کی مخالفت کے بغیر سب نے واپسی کی راہ لی اور کسی نے بھی سفر جاری رکھنے اور مسلمانوں سے جنگ لڑنے کی رائے نہ دی۔ ادھر مسلمانوں نے بدر میں آٹھ روز تک ٹھہر کر دشمن کا انتظار کیا۔ اور اس دوران میں اپنا سامانِ تجارت بیچ کر ایک درہم کے دودرہم بناتے رہے۔ اس کے بعد اس شان سے مدینہ واپس آئے کہ جنگ میں اقدام کی باگ ان کے ہاتھ آچکی تھی۔ دلوں پر ان کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔ اور ماحول پر ان کی گرفت مضبوط ہوچکی تھی۔ یہ غزوۂ بدر موعد، بدر ثانیہ، بدر آخرہ اور بدر صغریٰ کے ناموں سے معروف ہے -


 

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
 LIST PAGE