١٩٠٩ میں مسجد النبوی میں  کونسا
 تاریخ ساز واقعہ پیش آیا
=======================


سوال
=====
مسجد النبوی ہر مسلمان کی دل کی دھڑکن میں موجود ہے اور اس کا تقدس کسی واقعہ کا محتاج نہیں - یہاں کی پاک اور طاہر قطعہ ارضی میں مجسم رسول مکرم سیدنا محمّد صلی الله علیہ و الیہ وسلم موجود ہیں - یہاں کی فضائیں آپ صلی الله علیہ و الیہ وسلم کے جسم اطہر کا بوسہ لے چکی ہیں - جس مقام کو یہ لازوال اعزازت حاصل ہوں اسکا متبرک اور تاریخ ساز ہونا کسی دنیاوی واقعہ کا محتاج نہیں لیکن کچھہ باتیں اور واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کا جاننا بطور مسلمان ہمارے لیے ضروری ہوتا ہے کیوں کہ یہ بات معلومات میں اضافے کے ساتھہ ساتھہ دلچسپ بھی ہوتی ہے -

تو بس آج کے اھلا'' کویز میں صرف اتنا کہ آپ اپنے ذہن پر زور ڈآل کر صرف یہ بتادیں کہ '' ١٩٠٩ میں مسجد النبوی میں ایسا کونسا تاریخ ساز واقعہ پیش آیا جس کی کرنوں سے آج کا پورا جزیرہ نما عرب فیض یاب ہو رہا ہے ؟ ''


جواب حاضر ہے
============
١٩٠٩ میں جب ایڈیسن کا ایجاد کردہ بلب جزیرہ نما عرب میں پہلی بار متعارف ہونے لگا تو یہ سوچا گیا کہ اتنی کارآمد چیز کا افتتاح کس مقام کو روشن کر کے کیا جایے - ظاہر ہے اس کے لیے مسجد الحرام مکّہ اور مسجد النبوی مدنیہ منورہ سے با برکت کوئی اور مقام ہو ہی نہیں ہوسکتا تھا -

اسی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوے جزیرہ نما عرب میں پہلا بجلی کا قمقمہ مسجد النبوی میں ١٩٠٩ میں روشن کیا گیا اور یوں تاریخ میں مسجد النبوی کو ایک اور اہم تاریخ ساز مقام حاصل ہوا - اور پھر اس مقام سے روشن ہونے والا پہلا بجلی کا قمقمہ آہستہ آہستہ پورے جزیرہ نما عرب کو روشن کر گیا اور آج سعودی عرب سمیت پورا عرب رنگ و نور سے پر ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ روشنیوں کا ایک سیلاب ہے جو آ امڈا چلا آرہا ہے - -

مسجد النبوی اور مسجد الحرام میں بجلی کے قمقموں کے متعارف سے پہلے مٹی کے تیل اور سرسوں کے تیل کےدییے جلاتے جاتے تھے -


NEXT PAGE .

PREVIOUS PAGE.


LIST PAGE






.




//