MASJID ABU ZAR GHAFFARI
                                  OR
MASJID SIJDAH
Ayat of Drood revealed here




مسجد ابی زر غفاری







مسجد ابی زر غفاری

 
اس مسجد کا ایک نام تو '' مسجد ابی زر غفاری '' ہے کیوں کہ اس جگہ سیدنا ابی زر غفاری ر - ض کا گھر تھا اور اسکا دوسرا نام

'' مسجد سجدہ '' ہے کیوں کہ اس مقام پر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ایک مرتبہ طویل سجدہ کیا تھا - 

آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ آپکے ایک صحابی سیدنا عبدالرحمان بن عوف بھی تھے اور جب آپ نے رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کو اتنا طویل سجدہ کرتے دیکھا تو آپ کو گمان ہوا کہ شاید آپ صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر سے آپکی روح
 
مقدس پرواز کر گیئ ہے - اس سے یہ بات ثابت ھوئی کہ رسول

 

لله صلی الله علیہ وسلم کے اس سجدے میں کس قدر خشوع و خضوع تھا


اور اس تاریخی سجدے میں اتنا خشوع و خضوع کیوں نہ ہوتا کیوں کہ یہ سجدہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سیدنا جبریل علیہ سلام کے اس پیغام کے فورا'' بعد الله کا شکر ادا کرنے کے لیا کیا جس میں الله کریم نے یہ ارشا فرمایا تھا
 :

'' جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر ایک مرتبہ
 

درود بھیجے گا . الله اس پر دس مرتبہ رحمتی
ں
نازل فرمائیں گے ''



گویا '' درود شریف '' کی اہمیت اور فضیلت والی آیات اس مقام پر نازل ہوئیں جو
 

واقعی الله کریم کا ایک ایسا تحفہ ہے جس سے آج کے مسلمان بھی مستفید ہو رہے ہیں اور قیامت تک انے والے تمام مسلمان مستفید ہوتے رہیں گے - جب ہی تو اس مسجد کو دیکھ کر بے اختیار زبان پر '' درود شریف '' کا ورد جاری ہو جاتا ہے

اگر آپ اس مسجد ایک کلپ دیکھنا چاہیں تو پلیز اس لنک کو الگ ونڈو پر کلک کر کے دیکھ لیں -


http://archive.tellytube.in/video/J8GJfuyMjco/Masjid-e-Abu-Zar-Ghaffari-RA.html




تاریخی مسجد جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لمبا سجدہ ادا فرمایا تھا.
اس وجہ سے اس مسجد کو مسجد سجدہ کہا جاتا ہے
اسکو مسجد اسواف بھی کہتے ہیں. اسلئے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اسواف کے ایک باغیچہ میں تشریف لے گئے اور طویل سجدہ کیا:
علامہ سمہودی کے نزدیک اسواف اس مسجد کے قریب ایک جگہ کا نام ہے
( سنن بہقی. وفاءالوفا)
(نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سجدہ شکر.)
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم بیت المال کے صدقات کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں قبلہ رخ ہو کر سجدے میں چلے گئے اور بہت لمبا سجدہ کیا. مجھے خیال آیا کہ کہیں آپ صلی علیہ والہ وسلم کی روح قبض نہ ہو گئ ہو میں آپ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا. تو آپ نے سر اٹھایا اور فرمایا کون ہو؟ میں نے عرض کیا کہ عبدالرحمن ہوں؛آپ نے فرمایا کہ کیا بات ہے. میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ میں ڈر گیا کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان نہ قبض کر لی ہو. آپ نے فرمایا جبریل نے آ کر مجھے خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو آپ پر دورود پڑهے گا. میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو آپ پر سلام پڑهے گا میں اسے سلامتی دوں گا. تو پھر میں نے بارگاہ الہی میں سجدہ شکر ادا کیا.
( مسندِ احمد) بہقی. شعب الایمان)
(محل وقوع) مسجد نبوی کے 26 نمبر گیٹ سے باہر نکلے تو 900 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے. اسے شارع ابو زر غفاری بھی کہا جاتا ہے. مسجد کے ساتھ مدینہ منورہ کا اڈہ بھی ہے اور اسے نقل جماعی کہا جاتا ہے. ( حافظ ذوالفقار مدنی)



LIST PAGE
Previous Page

Next Page