بئر عُرْوَة

Well of Urwah  



قلعہ عروہ بن زبیر
===============


قلعہ عروہ بن زبیر
===============
نبی پاک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ کی زیارت کے لیے مدینہ طیبہ آنے والے عاشقان رسول اگر قلعہ عروہ ابن زبیر کی زیارت نہ کر سکیں تو وہ ایک اہم تاریخی مقام کے دیدار سے محروم رہیں گے۔ یہ قلعہ اسلام کی فاتحانہ شان وشوکت کی اولین یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ بیتے دنوں میں مسلمانوں کی فتوحات کا بھی گواہ ہے۔

خاکروب حرم یعنی خاکسار وسیم احمد خاکی کو بھی الله سبحان و تعالی کی جانب سے اجازت ملنے والی انیس سو پچاسی سے دو ہزار سولہ تک کے بارہ حاضریوں میں سے اس مرتبہ یعنی بیس سو سولہ کی حاضری کے دوران ، فیس بک فرینڈ بھائی ''طاہر اظہر '' کی پرخلوص محبتوں کی وجہ سے اس مقام عظیم کی زیارت کا موقع ملا اور زیر نظر تصویر اسی قلعہ کی ہے جس کی مقدس رفاقت میں خادم کو چند روحانی ساعتیں نصیب ہوئیں اور یہ تصویر بھی بھائی ''طاہر اظہر '' نے بڑی محبت سے لی - الله سبحان و تعالی انھیں ہمیشہ خوش رکھیں صحت زندگی اور ایمان کے ساتھہ - وہ واقعی الله سبحان و تعالی کے مہمانوں کا مدینہ منورہ میں بہت خیال کرتے ہیں - بہت کم گو ، دھیمے لہجے اور ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجایے اپنی پر خلوص خدمات میں مصروف رہتے ہیں -_( BHAI Tahir Azhir Qureshi)

آیے اب کچھہ '' قلعہ عروہ بن زبیر '' کے متعلق
==============================
اسلامی تہذیب ثقافت اور تمدن کو اگر مجسم شکل میں پیش کرنا ہو قلعہ عروہ ابن زبیر اس عظیم الشان عمارت کی پہلی اینٹ قرار دی جا سکتی ہے۔ تیرہ سو برس قبل تعمیر ہونے والا یہ قلعہ مدینہ منورہ کی بطور اسلامی ریاست کے درالحکومت کی یاد دلاتا ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے 'من الحرمین الشریفین' کے عنوان سے رمضان المبارک کی خصوصی رپورٹ سیریز کی حالیہ قسط میں اس قلعہ کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔

خمیس الزھرانی کی رپورٹ کے مطابق عروہ ابن زبیر ہمیشہ یاد رکھی جانے والی شخصیت ہیں۔ عروہ خود تو تابعی تھے لیکن نسب کے اعتبار سے خلیفہ اسلام حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے نانا ہیں اور ان کے والد زبیر بن العوام کا شمار عشرہ مبشرہ میں شامل خوش قسمتوں میں ہوتا ہے۔ وہ غزوہ احد میں شریک ہوئے۔ ان کا شمار مدینہ منورہ کے چار مشاہیر فقہاء میں ہوتا تھا۔

عروہ ابن زبیر نہایت متقی اور پرہیز گار شخصیت تھے۔ نماز میں ان کا استغراق مشہور ہے۔ نماز میں ایسے محو ہوتے کہ دنیا و مافیھا کی خبر نہ رہتی۔ عروہ نے مدینۃ الرسول کے مغرب میں مکان بنایا۔ ان کا آشیانہ دور دراز سے آنے والےحجاج و معتمرین کے لیے 'میقات' کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ تھکے ہارے مسافر ان کے مہمان بنتے، گھر کے سائے سے فائدہ اٹھاتے اور ٹھنڈا پانی پیتے۔

اصل میں واقعہ یہ ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وادی عقیق جو اس وقت مسجد النبوی سے تین یا چار کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے ایک صحابی ''بلال بن حارث رض الله تعالی عنہہ '' کو الله کے نام سے لکھہ کر دی تھی کہ وہ اس زمین پر کاشت کریں گے - یہ ایک وسیع و عریض وادی ہے جسکا مشاہدہ الحمد لللہ اس دفعہ مجھے ہوا -

سیدنا عمر رضی الله و تعالی عنہہ کے دور میں آپ نے سیدنا ''بلال بن حارث رض الله تعالی عنہہ '' سے کہا کہ آپ اس زمین میں سے جتنی آپ کاشت کے سکتے ہیں کریں ، باقی دوسرے لوگوں میں منقسم کر دیں - سیدنا بلال بن حارث نے سیدنا عمر رضی الله و تعالی عنہہ سے عرض کیا کہ '' کیا آپ وہ چیز مجھہ سے واپس لےلیں گے جو خود رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمائی '' تو آپ سیدنا عمر رضی الله و تعالی عنہہ نے جواب دیا کہ رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے آپکو یہ زمین اس شرط پر دی تھی کہ آپ اسے زرخیز بنائیں ، نہ کہ بے مصرف -

اس کے بعد سیدنا عمر رضی الله و تعالی عنہہ نے وہ بقیہ زمین جو سیدنا ''بلال بن حارث رض الله تعالی عنہہ '' کے استعمال میں نہ تھی ، ان سے لیکر عروه کے کنویں ( جس کے واضح آثار آج بھی موجود ہیں اور جسکو ان شا الله پھر کبھی اھلا'' کے فورم پر زیر بحث لایئں گے ) کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا '' یہ بہت اچها زمین کا ٹکڑا ہے - اسکو کون کینہ پسند کرے گا ؟

'' اس موقع پر اولا'' تو سیدنا '' خوات بن جبیل الانصاری '' نے اس زمین کو لے لیا لیکن اکتالیس ہجری میں '' سیدنا عروہ بن زبیر '' نے ان سے اسکا ایک اچھا خاصہ حصه خرید لیا اور اسکو ایک زرعی فارم میں تبدیل کر دیا اور ایک بہت بڑا قلعہ بنایا جو آج بھی زایریں کی نگاہوں کا مرکز بن ہے اگر زایریں کو اس کا علم ہو تو -

مدینہ منورہ میں یہ اس دور کے مسلمانون کے فن تعمیر کا عمدہ شاہکار ہے۔ حال ہی میں سعودی محکمہ آثار قدیمہ نے قلعے کے کھنڈرات کا ازسر نو جائزہ لیا اور یہ تسلیم کیا ہے کہ قلعہ عروہ ابن زبیر نہ صرف قرون اولیٰ کے مسلمان فن تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے بلکہ یہ مسلمانوں کی ابتدائی شان شوکت اور غلبہ اسلام کا چشم دید گواہ بھی ہے۔

اب آپ جب بھی مدینہ منورہ بلاتے جائیں اسےضرور دیکھیں - اس قلعہ کی نسبت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بھی ہے . سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ سے بھی ہے اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ سے بھی اس لحاظ سے ہے کہ سیدنا عروہ بن زبیر آپکے نواسے تھے اور آپ سیدنا زبیر بن عوام کے بیٹے تھے جنکو عشرہ مبشرہ ہونے کا لافانی اعزاز حاصل ہے - آپ '' سیدہ اسما بنت ابوبکر رضی الله تعالی عنہا '' جو ہجرت کے موقع پر نبی پاک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد کے لیے کفار مکّہ سے چھپتی چھپاتی اپنے کپڑوں میں چھپا کر کھانا '' غار ثور '' تک لاتی تھیں ، کے لخت جگر ہیں - سعودی حکومت آج کل اس قلعہ کو جدید خطوط پر استوار بھی کر رہی ہے -


 

Urwa bin Zubair bin Awwam (Radhiyallaahu 'anhu) had this well dug and it still exists today. It is at an approximate distance of 3.5km from Masjid Nabawi. On leaving Madinah towards Dhul Hulaifah on the old Makkah road, it is located on the left hand side of the road near the bridge of Aqeeq Valley. Next to it is the Palace of Urwah. History books make mention of a certain "Masjid Urwah" too and historians say that its water was the lightest and sweetest of the waters of Madinah.   -


Ruins of the Palace of Urwah in the background 



Ruins of the Palace of Urwah


The Prophet sallallaahu 'alayhi wasallam allocated the plain of Aqeeq to Bilal bin Harith (Radhiyallahu 'anhu) and had written for him, "In the name of Allah the Most Beneficient, the Most Merciful, this is what Muhammad the Apostle of Allah gave Bilal bin Harith from the valley of Aqeeq so that he may cultivate it." When Umar (Radhiyallaahu 'anhu) became the Khaifah, he said to Bilal, "Cultivate whatever you can of this land and the rest I shall distribute amongst the people." Bilal said, "Will you take away from me what was given to me by the Prophet of Allah sallallaahu 'alayhi wasallam?" Umar replied, "It was given to you on condition that you develop it, not that you debar it.   Consequently Umar (Radhiyallaahu 'anahu) took from him what he could not develop and announced while standing at the place of the well of Urwah, "This is a very fine piece of land, who would like to take it?" Khawwat bin Jubair Al-Ansari took it. In 41 A.H. Urwah bin Zubair (Radhiyallaahu 'anahu) purchased a portion of Khawwat bin Jubair's (Radhiyallaahu 'anhu) and converted it into a farm and also built a large fort on it. (Wafa ul Wafa Volume 3)  



Close up  Palace of Urwah

REFRENCE

"Pictorial History of Madinah Munawwarah" by Dr. Muhammad Ilyas Abdul Ghani -

 See more at: http://www.islamicteachings.org/forum/topic/20868-madinatul-munawwarah-pictures-info/page-6#sthash.bwRObzeU.dpuf



NEXT PAGE 
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE