آآٹھہ (8) زلھجہ ( حج کا پہلا دن ) '' یوم الترویہ '' کہلاتا ہے پر

کیوں ؟ ( جاننے کے لیے اھلا'' کی یہ پوسٹ پڑھیں )
=======================================================

ہر سال لاکھوں حجاج ٨ زیلھجھ کو مکّہ سے احرام باندھ کر حج کے ارکان کا آغاز کرتے ہیں - اس روز فجر کی نماز مکّہ میں ادا کر کے حجاج مکّہ میں اپنی رہائش گاہوں یا حرم سے احرام زیب تن کرتے ہیں اور اپنی پہلی منزل '' منی '' MINA کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور ٨ زیلھجھ کا پورا دن وہیں خیموں میں گذرتے ہیں - ( زیر نظر تصویر '' منی '' کی ہی ہے - )

شرعا '' اس روز کو '' یوم الترویہ --- tarweyah -------- کہتے ہیں لیکن کیا آپکو معلوم ہے کہ اس دن کو ''یوم الترویحہ'' کیوں کہتے ہیں ؟ کیا تاریخی پس منظر پوشیدہ اس دن کو ''یوم الترویحہ'' کہنے میں ؟

عربی میں '' ترویہ '' کے لغوی معنی '' چھڑکاؤ '' کے ہوتے ہیں - ابتدائی دور میں کیوں کہ منی میں حاجیوں کو پانی کی بہت دقت ہوتی تھی ، لہذا وہ ٨ زلھجھ کو مکّہ مکرمہ سے خوب پانی پی کر اور اسکا انتظام کرکے منی روانہ ہوتے اور وہاں آرام کرتے کیوں کہ انھیں ٩ زیلھجھ کو حج کا رکن اعظم ادا کرنے '' عرفات '' جانا ہوتا تھا - اس لیے ترویہ کا مفہوم کچھ یوں ہوتا کہ '' حج کا وہ دن جس دن حاجی پانی سے اپنے آپکو سیراب کرتے اور آرام کرتے تا کہ اگلے دن آسانی سے '' وقوف عرفات '' کا فریضہ انجام دے سکیں -

چونکہ قدیم زمانے میں عرفات میں پانی ناپید تھا اسی لئے حجاج منی کے خاص اعمال انجام دینے کے ساتھ اس روز عرفات اور اس کے بعد مشعر الحرام میں ٹہرنے کے لئے پانی فراہم کرتے تھے چنانچہ اس کو یوم الترویہ کا نام دیا گیا۔ یوم الترویہ یعنی آب رسانی کا دن۔ اس روز حجاج حج تمتع کی نیت سے احرام باندھ کر مکہ سے منی کی طرف عزیمت کرتے ہیں، رات وہیں بسر کرتے ہیں اور صبح عرفات پہنچتے ہیں۔ یہ دن روز عرفہ کے اعمال کے لئے ابتدائیہ ہے اور یہیں عرفہ کے اعمال کی تیاری ہوتی ہے -

۔ یوم الترویہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کے حج کی یادگار ہے کیونکہ جبرائیل(ع) نے انہیں بتایا کہ عرفات، مشعر اور منی کے لئے پانی بھی ساتھ لے جائیں کیوں کہ وہاں پانی نہیں ہے -

نیز اسی دن حجۃالوداع کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا قافلہ مکہ سے نکل کر منی پہنچا تھا اور وہیں سے عرفات روانہ ہوا تھا۔ یہ دن ذوالحجہ کے اہم دنوں میں سے ایک ہے اور امام جعفر صادق رضی الله و تعالی عنہ سے منقولہ حدیث کے مطابق اس دن کو روزہ رکھنا انسان کا ساٹھ سال کا کفارہ ہے۔

(1)ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت ابراہیم (ع) کو تعمیر کعبہ کا حکم ملا تو انہیں کعبہ کا اصل مقام معلوم نہ تھا چنانچہ جبرائیل (سلام اللہ علیہ) نے اللہ کے حکم سے وہ مقام انہیں بتا دیا اور الله سبحان و تعالی نے کعبہ کے ستون بہشت سے نازل کئے اور حجرالاسود بھی نازل ہوا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کے لئے دو دروازے قرار دیئے ایک مشرق کی جانب اور دوسرا مغرب کی جانب۔ جس کو مستجار کہا جاتا ہے۔

جب تعمیر کعبہ کا کام مکمل ہوا تو ابراہیم اور اسمعیل (علیہما السلام) نے حج کی نیت سے طواف کیا اور آٹھ ذوالحجۃ الحرام کو جبرائیل نازل ہوئے اور ان سے کہا کہ اٹھیں اور پانی اکٹھا کریں کیونکہ زمین عرفات میں پانی نہيں ہے۔ اسی وجہ سے اس دن کو یوم الترویہ (پانی جمع کرنے) کا دن کہا گیا -
===================================================

BACK TO HAJ PAGE FOR MORE
HAJ RELATED POSTS