FAKE KABA OF ABRAHA

 
AL-QULAIS





یمن کے سردار ابرہہ آشرم نے ''شاہ حبشہ '' کی خوشنودی کے لیے یمن کے شہرصنعا میں بڑے اہتمام اور کر و فر سے بہت اونچا ، بہت مضبوط بے حد خوبصورت اور منقش اور مزین گرجا بنوایا جس کی بلندی اس قدر زیادہ تھی کہ اسکی چوٹی دیکھنے والوں کی ٹوپی سروں پر سے گر پڑتی - اس لیے اہل عرب ایسے '' القلیس '' کہنے لگے یعنی '' ٹوپی بھیک دینے
والا ''-

اگر بات یہاں تک رہتی تو کوئی حرج نہ تھا مگر
'' ابرہہ آشرم '' کو اپنی اس تعمیر پر اتنا ناز ہوا کہ اسے بے پر کی سوجھی اور اسکی خواہش ہوئی کہ لوگ معاذ الله '' کعبہ مشرفہ '' کا حج چھوڑ کر '' القلیس گرجے '' کا حج کرنے لگیں - اس کے لیے اس نے اپنی پوری مملکت میں اسکی منادی کرادی - 

اہل قریش کو یہ بات بہت بری لگی اور انمیں سے ایک شخص نے اس گرجے '' القلیس '' میں احتجاجا'' رفع حاجت کر دی اور اس کی خبر جب ابرہہ آشرم تک پہنچی تو اسکو اتنا شدید غصہ آیا کہ اسنے قسم کھالی کہ وہ مکّہ مکرمہ جاکر کعبہ مشرفہ کی معاذ الله ( خاکم بدہن ) اینٹ سے اینٹ بجا دے گا - 

اس کے لیے وہ اپنے ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھہ مکّہ مکرمہ کی جانب بڑھنے لگا - اسکا سب سے مظبوط ہاتھی جس کا نام '' محمود '' تھا وہ خود اس پر سوار تھا - مکّہ سے چند کوس دور ''وادی محسر '' جو ''مزدلفہ''کے قریب ہے وہاں الله کے حکم سے چھوٹے چھوٹے ''ابابیلوں '' کے لشکر نے '' ابرہہ آشرم '' کے ہاتھی بردار لشکر پر اپنی چونچوں میں دبی چھوٹی چھوٹی 
کنکروں کی بارش کی اور یوں یہ طاقتور لشکر نیست و نابود ہو گیا اور یون الله سبحان و تعالی نے معجزاتی انداز میں اپنے مقدس گھر '' کعبہ مشرفہ''کی حفاظت فرمائی - جس کا ذکر قران پاک کی '' سوره فیل '' میں آیا ہے اور ہر مسلمان اس واقعہ کو بخوبی جانتا ہے - 

لیکن کم ہی ہونگے جنہوں نے اس عبرت کدے '' القلیس '' کو دیکھا ہوگا جو آج بھی یمن کے دارالخلافہ ''صنعا '' میں حسرت و یاس کی تصویر بنا اپنی قسمت پر گریہ و زاری کر رہا ہے - 

اھلا'' کے اس چھوٹے سے فورم سے آپکو آج اس عبرت کدے کی تصویر دیکھلائی جا رہی ہے - آپکو یہ معلومات کیسی لگی - ضرور بتائیں -
=========================================================================================================================

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE