MOUNT OF ABU-LHAB

STONING PLACE

پرانے وقتوں کے لوگ یہاں پتھر مارتے تھے - پر کیوں ؟
=====================================




پرانے وقتوں کے لوگ یہاں پتھر مارتے تھے - پر کیوں ؟
=====================================
مکّہ مکرمہ کی طاہر فضاؤں میں گھومتے گھماتے اگر آپکی موٹر کار یا بس اس سڑک پر جا نکلے جس کا نام '' شارع حسان بن ثابت '' ہے تو ذرا رک جائیں - اس سڑک کو غور سے دیکھیں - پھر اس سڑک کے ایک کونے پر بنی اس مسجد کو دیکھیں جو آپکو تصویر میں نظر آ رہی ہے - اور سب سے بڑھ کر اس مسجد کے عقب میں جو پہاڑ نظر آرہا ہے جسکو میں نے کالے تیر سے واضح کیا ہے ، اسکو غور سے دیکھیں -

ایک وقت تھا اس سڑک . اس مسجد اور اس پہاڑ کو ایک ہی نام سے یاد کیا جاتا تھا - مگر بعد میں سڑک کا نام تو رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی حیات پاک میں انکی شان اقدس میں نعت پڑھنے والے صحابی '' حسان بن ثابت '' کے نام سے منسوب کے دیا گیا جبکہ مسجد کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا اور اس کا نیا نام جاننے کی کوشش کرنے کے باوجود مجھے معلوم نہ ہوسکا - البتہ بتانے والوں نے اس مسجد کا وہی پرانا نام بتایا جو اب اس کا سرکاری نام نہیں ہے - البتہ اس پہاڑ کا نام آج بھی وہی ہے جو آج سے چودہ سو سالوں قبل مشھور ہوگیا تھا - 

اس پہاڑ کے دامن میں آج سے چودہ سو سالوں قبل ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے متعلق ہم سب نے بہت کچھہ پڑھ رکھا ہے - قرآن حکیم میں بھی اس واقعے کے کردار کا ایک مقام پر ذکر ہے - 

واقعہ اور اسکے کردار کے بارے میں تو ہر مسلمان بہت کچھہ جانتا ہے لیکن--- اھلا'--' الحمد و الله اپنے چھوٹے سے فارم سے آپکو اس مقام کو بھی دکھانے کی سعادت حاصل کر رہا ہے جسکو دیکھنے کی آپ جستجو کر سکتے ہیں - یہ آپکی خواہش ہو سکتی ہے -

بتانے والوں نے بتایا کہ آج کل کے حجاج اور زایرین مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے اس کی جانب توجہ نہیں دیتے لیکن پرانے وقتوں کے لوگ اس پہاڑ کے قریب پہنچ کر اس پر سنگ باری کیا کرتے تے تھے - لیکن یہ سوالیہ نشان ہے کہ وہ ایسا کیوں کرتے 
تھے -

یقینا'' ہر چہز کا مکمل علم الله سبحان و تعالی کو ہی ہے - 

کیا آپ بتا سکتے ہیں اس پہاڑ کا کیا نام ہے جو کبھی اس مسجد اور سڑک کا بھی ہوا کرتا تھا اور چودہ سو سال پہلے اس پہاڑ کے دامن میں کون سا واقعہ پیش آیا جس کی بنا پر اس پہاڑ کا نام اسی سے منسوب ہو گیا اور آج تک ہے -

پھر اپ کے پاس ایسی لاتعداد تصاویر اور معلومات کے لیے
وسیم کی ویب "اہلا" تو ہے ہی نا 

CLICK
http://www.ahlanpk.org/ 

=================================================
جواب حاضر ہے
===========
مسجد الحرام سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر موجود '' حسان بن ثابت روڈ کے عقب میں نظر انے والا یہ پہاڑ '' جبل ابو لہب '' کے نام سے جانا جاتا ہے - 

ابو لہب گو کہ رشتے کے اعتبار سے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کا چچا تھا مگر اسکا شمار آپ صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے ازلی دشمنوں میں ہوتا تھا - وہ کتنا بڑا دشمن تھا کہ اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملعون کا ذکر قران پاک تک میں آیا ہے - قرآن پاک میں جب کسی اچّھی چیز کا ذکر آیے تو اسکے اچّھے ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا جیسا کہ کھانے پینے کی چیزوں میں '' انجیر یا زیتون '' کا ذکر ہے - گویا ان چیزوں میں انسانوں کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے اور یہ تمام دوسری حلال چیزوں سے محض اس لیے برتر ہیں کہ انکا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے - اسی طرح جب کسی نجس چیز کا ذکر قرآن حکیم میں آجایے تو پھر وہ شے مجسم نجس قرار پا جاتی ہے اور اسکی نجاست حتمی اور ناقابل بحث ہوتی ہے - جیسے کہ حرام چیزوں میں ''خنزیر '' - یہ جانور دیگر حرام چیزوں کے مقابلے میں الله سبحان و تعالی کو اتنا نا پسند ہے کہ الله سبحان و تعالی نے ، وضاحت سے اس کا نام لیکر قرآن پاک میں ذکر کر دیا - اسی طرح رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم اور اسلام کے بڑے بڑے دشمنوں میں ابو لہب اتنا بڑا دشمن تھا کہ الله سبحان و تعالی نے اس ذکر قرآن پاک تک میں کر دیا تا کہ مومنوں کو اسلام سے اور رسول الله صلی الله علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس سے اسکی دسمانی کی شدت کا اندازہ ہو سکے -

یہ اس وقت کی بات ہے جب سن دو ہجری میں مکّہ کے کفّار '' جنگ بدر '' کے لیے '' بدر '' کے میدان میں صف آرا تھے تو مکّہ میں ابو لہب جسکا اصلی نام '' عبد العزا بن عبد المطلب '' تھا سخت بیمار تھا اور اسی وجہ سے وہ جنگ میں شریک بھی نا تھا - اسکو عجیب و غریب بیماری تھی - اسکا جسم پھول چکا تھا اور اسکے وجود تعفن زدہ ہو چکا تھا اور اسمیں سے ایسی بدبو آتی تھی کہ کوئی اسکے پاس بیٹھنا گوارہ نہیں کرتا تھا

جب اسکا انتقال ہو گیا تو اسکے اپنوں نے اسے ، اسکے جسم سے اٹھنے والی نہ قابل برداشت بد بو کی وجہ سے ، دفنانے کی زحمت نہ کی اور مسجد الحرام سے دو کیلو میٹر کے فاصلے پر مکّہ سے باہر ( یہ جگہ اس وقت مکّہ سے باہر متصور کی جاتی تھی ) اس پہاڑ کے دامن میں جو تصویر میں نظر آ رہا ہے اسکو ایک گڑھے میں جیسے تیسے دھکیل دیا اور پھر اس گڑھے کو بھرنے کے لیے دور کھڑے ہوکر خوب پتھر برساتے - اور اسکے بعد یہ راویت بن گئی جو یہان سے گزرتا اسپر سنگ باری کرتا - 

اس پہاڑ کے دامن میں کیوں کہ ملعون ابو لہب دفن کی گیا تھا ، اس لیے اہل عرب اس پہاڑ کو '' جبل ابو لہب '' کہنے لگے اور آج بھی یہ پہاڑ اسی نام سے جانا جاتا ہے - اب سے کچھ عرصے قبل تک اس سڑک کا نام بھی '' شراع ابو لہب '' تھا جو طبیعتوں کو مکدر کر دیتا تھا - اسلئے اب یہ سڑک رسول الله صلی الله علیہ و اله وسلم کے نعت گو صحابی سیدنا حسسان بن ثابت کے نام سے منسوب کر دی گئی ہے - اس سڑک پر بنی اس مسجد کو بھی لوگ '' مسجد ابو لہب '' کہ دیتے ہیں جو میرے خیال سے درست نہیں - یہ الله کی مسجد ، اسکا گھر ہے ، لہذا اسکا نام اس دشمن اسلام سے منسوب کرنا مناسب نہیں - ہوسکتا ہے افیشیلی اس مسجد کا نام کچھ اور ہو لیکن لوگ صرف لوکیشوں سمجھنے کے لیے اسے اس نام سے پکارتے ہے جو میرے خیال سے درست نہیں - ہمیں از خود احتیاط کر نی چاہیے -

============================
IN ENGLISH 
=====================
it is mount of ABU LAHAB where he was burried in such a way that a grave was dug and he was thrown in and the people of his own family and tribe threw stones to fill his grave standing far from here cos his body was spreading immense bad smell . people of old days used to throw stone here just to show Hatred with him. the road alongwith this mount was previously called '' abu lahb road '' but now its name is changed and known as '' shara-e- hassan bin sabit . r,a ''.

=================================================


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE