ذی طویٰ

=====


فتح مکّہ اور ذی طویٰ کا کنواں 
===================

رمضان المبارک وہ عظیم مہینہ ہے جس کی عظیم ساعتوں میں مکّہ مکرمہ فتح ہوا اور آٹھہ ہجری سے اب تک الحمد الله رب واحد کے سامنے جھکنے والوں کی رکوع و سجود کا مقام بنا ہے اور انشا الله قیامت تک بنا رہے گا -
فتح مکّہ سے قبل جو رات رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے جس مقام پر گزاری وہاں ایک کنوان تھا جس کو ذی طوی کا کنوان کہتے ہیں یعنی " بیر ذی طوی '' - زیر نظر تصویر اسی کنویں کی ہے اور فتح مکّہ کی مناسبت سے اس زیارت اپکا حق ہے جو اھلا'' کے اس چھوٹے سے فورم سے آپکو کرایا جا رہا ہے - عربی میں بیر '' کنویں '' کو کہتے ہیں -
رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے فتح مکّہ والے دن اس کنویں کے پانی سے غسل فرمایا اور اس عجز و انکساری سے اپنی اونٹی پر سوار مکّہ مکرمہ میں داخل ہوے کہ آپ کا اپنا سر مبارک اتنا جھکا جارہا تھا کہ آپکی داڑھی مبارک کے بال کجاوے کی لکڑی سے لگ رہے تھے -
مکّہ پہنچ کر آپ نے فتح کا علم گاڑا جہاں آج بھی مسجد الرایہ کے نام سے ایک مسجد جنت المعلی قبرستان کے قریب محلہ ''حجون '' میں موجود ہے - الرایہ عربی میں جھنڈے کو کہتے ہیں -
آپ نے فتح مکّہ کے بعد عام معافی کا اعلان فرمایا اور پھر کعبہ مشرفہ کو بتوں سے پاک فرمایا اور جب آپ صلی الله علیہ وسلم بتوں کو اپنی چھڑی سے گراتے تو قرآن حکیم کی یہ آیات پڑھتے جاتے جس کا ترجمہ ہے '' حق آیا اور باطل مٹ گیا اور باطل کو تو مٹنا ہی تھا - ''

ذی طویٰ مکہ معظمہ سے قریب مدینہ کے راہ ایک چھوٹی سی بستی یا کنواں کا ناناممہ ہے -   نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم وہاں رات میں پہنچ گئے تھے،رات وہاں گزارکر بعد نماز فجر وہاں سے چلے تھے اور دن میں مکہ معظمہ داخل ہوئے تھے - فتح مکہ میں بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں راستوں سے داخل و خارج ہوئے-
یہ کنواں مکّہ کے قریب ایک وادی میں موجود ہے جسکو آج کل '' جرول '' کا علاقه کہتے ہیں . پہلے یہاں ایک مسجد بھی تھی لکن اب نہیں ہے - صرف یہ کنواں ہے جو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا ہے -

اس تصویر میں حرم مکّی کے سامنے بنے اونچے کلاک ٹاور کو بھی آپ دیکھ سکتے ہیں اور اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ حرم مکّی سے اب کس قدر فاصلے پر ہے - 
==================================================================


LIST PAGE
NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE