وادی محسر- اردو میں
===============


مزدلفہ کے مقدس اور روحانیت سے لبریز میدان سے متصل منٰی کی جانب ایک چھوٹا سا میدان ہے جسے وادی محسر یا وادی النہار کہتے ہیں جسکی تصویر آج کی اھلا'' پوسٹ میں آپکی خدمت میں پیش کی جارہی ہے ۔

یہ دراصل عذاب کا میدان ہے اور حاجیوں کے لئے بالخصوص اور دیگر لوگوں کے لئے بالعموم حکم ہے کہ قیامت تک کوئی اس میدان میں کبھی کسی غرض سے نہ رکے- بہتر تو یہ ہے کہ اس میدان سے گزرا ہی نہ جائے اور اگر کسی طور اس سے گزرنا ناگزیر ہو تو ضروری ہے کہ پیدل چلنے والے اپنی عام رفتا کو بڑھا کر اور سواریاں بھی اپنی اسپیڈ تیز کرکے اس عذاب کے میدان سے جلد از جلد گزر جائیں۔


دراصل یہی وہ میدان ہے جہاں اللہ کے حکم سے ابابیلوں کے جھنڈ کے جھنڈ ابرہہ کے ہاتھی بردار لشکر پر کنکریاں برسانے آئے تھے۔ ابرہہ جو یمن کا گورنر تھا، اللہ کے گھر کعبۃاللہ کو معاذاللہ ڈھانے کا خواب لیے اپنے دیوہیکل ہاتھیوں کے ساتھ مکہ کی جانب بڑھ رہا تھا ۔ کنکریاں دراصل کنکریاں نہیں بلکہ حکم ربی تھیں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس وادی محسر میں ایک عذاب برپا ہو گیا ۔ ہاتھی بھُس بن گئے۔ تمام فوج نیست و نابود ہو گئی اور یہ میدان قیامت تک کے لئے عبرت گاہ بن گیا۔ اسی واقعہ کا ذکر قرآن پاک کی '' سوره فیل '' میں آیا ہے -


یمن و حبشہ کا بادشاہ ابرہہتھا۔ اُس نے شہر صنعاءمیں ایک گرجا گھر بنایا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ حج کرنے والے بجائے مکہ مکرمہ کے صنعاء میں آئیں اور اسی گرجا گھر کا طواف کریں اور یہیں حج کا میلہ ہوا کرے۔ اس گرجے کو شایان شان بنانے کے لیے دنیاوی وسائل بیجا استمعال کیا گیا - عمارت اتنی اونچی اور پر شکوہ بنائی گئی کہ جب کوئی انسان اسکی بلندی کو دیکھتا تو اسکے سر کی ٹوپی گر جاتی - اسی لیے اس گرجے کا نام '' القلیس '' رکھا گیا جس کے معنی تھے '' سر سے ٹوپی کو گرا دینے والی عمارت '' یہ خصوصیت یمن کے بادشاہ کے لیے بہت اعزاز کا باعث تھی - اس مقام کی تصویر آپ نیچے  دیکھ سکتے ہیں -



Do not see this picture for long time as it is the place of Almighty Allahs' 
anger.Actually in yemen it is the
 exact place where maloun abraha had built 
ficticious
  and fake cathedral. '' AL- QULAIS ''


خصوصاً مکّہ کے قریشیوں کو جو ظاہر ہے اس وقت تک مشرک تھے اور اس وقت تک رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی لیکن بہر حال کعبہ مشرفہ انکو محبوب تھا اور ابرہہ کی یہ بات بہت شاق گزری۔ چنانچہ قریش کے قبیلہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے آپے سے باہر ہو کر صنعاء کا سفر کیا اور ابرہہ کے گرجا گھر میں داخل ہو کر جان بوجھہ کر رفع حاجت کا عمل کر دیا ۔ اور اس کے درو دیوار کو نجاست سے آلودہ کرڈالا۔ کسی نے اسکو آگ بھی لگادی دی - اس حرکت پر ابرہہ بادشاہ کو بہت طیش آیا اور اس نے کعبہ معظمہ کو ڈھا دینے کی قسم کھالی۔ اور اس ارادہ سے اپنا لشکر لے کر روانہ ہو گیا۔ اس لشکر میں بہت سے ہاتھی تھے اور ان کا پیش رو ایک بہت بڑا کوہ پیکر ہاتھی تھا جس کا نام ''محمود '' تھا۔ ا ابرہہ نے اپنی فوج لے کر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کردی اور اہل مکہ کے سب جانوروں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ جس میں عبدالمطلب کے اونٹ بھی تھے۔ یہی عبدالمطلب جو ہمارے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا ہیں، خانہ کعبہ کے متولی اور اہل مکہ کے سردار تھے۔ یہ بہت ہی رعب دار اور نہایت ہی جسیم و باشکوہ آدمی تھے۔ یہ ابرہہ کے پاس آئے، ابرہہ نے ان کی بہت تعظیم کی اور آنے کا مقصد پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم میرے اونٹوں کو مجھے واپس دے دو۔

یہ سن کر ابرہہ نے کہا کہ مجھے بڑا تعجب ہو رہا ہے کہ میں تو تمہارے کعبہ کو ڈھانے کے لئے فوج لے کر آیا ہوں جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا ایک بہت مقدس و محترم مقام ہے۔ آپ نے اس کے بارے میں کچھ بھی مجھ سے نہیں کہا، صرف اپنے اونٹوں کا مطالبہ کررہے ہیں؟ حضرت عبدالمطلب نے فرمایا کہ میں اپنے اونٹوں ہی کا مالک ہوں اس لئے اونٹوں کے لئے کہہ رہا ہوں اور کعبہ کا جو مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت فرمائے گا۔ مجھے اس کی کوئی فکر نہیں - بعد میں آپ نے کعبہ مشرفہ کا دروازہ پکڑ کر بارگاہ ِ الٰہی میں کعبہ مشرفہ کی حفاظت کے لئے خوب رو رو کر دعا مانگی اور دعا سے فارغ ہوکر آپ بھی اپنی قوم کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے -

ابرہہ نے صبح تڑکے اپنے لشکروں کو لے کر کعبہ مقدسہ پر دھاوا بول دینے کا حکم دے دیا اور ہاتھیوں کو چلنے کے لئے اٹھایا لیکن ہاتھیوں کا پیش رو
'' محمود'' جو سب سے بڑا ہاتھی تھا وہ کعبہ کی طرف نہ چلا جس طرف اس کو چلاتے تھے چلتا تھا مگر کعبہ مکرمہ کی طرف جب اس کو چلاتے تھے تو وہ بیٹھ جاتا تھا۔
اتنے میں اللہ تعالیٰ نے سمندر کی جانب سے پرندوں کا لشکر بھیج دیا اور ہر پرندے کے پاس تین کنکریاں تھیں، دو پنجوں میں اور ایک چونچ میں۔ ابابیلوں کے اس لشکر نے ابرہہ کی فوجوں پر اس زور کی سنگ باری کی کہ ابرہہ کی فوج بدحواس ہو کر بھاگنے لگی۔ مگر کنکریاں گو چھوٹی چھوٹی تھیں لیکن وہ قہر الٰہی کے پتھر تھے کہ پرندے جب ان کنکریوں کو گراتے تو وہ سنگریزے فیل سواروں کے خود کو توڑ کر ،سر سے نکل کر، جسم کو چیر کر، ہاتھی کے بدن کو چھیدتے ہو ئے زمین پر گرتے تھے۔ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جو اس کنکری سے ہلاک کیا گیا۔ اس طرح ابرہہ کا پورا لشکر ہلاک و برباد ہو گیا اور کعبہ معظمہ الحمد لللہ محفوظ رہا-

ابابیلوں نے جس مقام پر پر کنکریاں برساین اس وہ مقام مکّہ مکرمہ میں مزدلفہ کے متبرک مقام سے تقریبا'' ملحق ہے اور اسکا نام '' وادی محسر'' ہے جسکی تصویر آپ آج کی اہل'' پوسٹ میں دیکھ رہے ہیں لیکن الله سبحان و تعالی کی بے نیازی دیکھیں کہ مزدلفہ کی زمین مقدس اور وادی محسر '' عبرت کا نشان''- بے شک الله سبحان و تعالی جس کو چاہیں عزت دیں اور جسکو چاہیں ذلت -

یہ واقعہ جس سال وقوع پذیر ہوا اس سال کو اہل عرب عام الفیل(ہاتھی والا سال)کہنے لگے اور اس واقعہ سے پچاس روز کے بعد حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔ (تفسیر خزائن العرفان، ص ۱۰۸۳،پ۳۰، الفیل)

اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرماتے ہوئے ایک سورہ نازل فرمائی جس کانام ہی

اَلَمْ تَرَ کَیۡفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْحٰبِ الْفِیۡلِ ؕ﴿1﴾اَلَمْ یَجْعَلْ کَیۡدَہُمْ فِیۡ تَضْلِیۡلٍ ۙ﴿2﴾وَّ اَرْسَلَ عَلَیۡہِمْ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ۙ﴿3﴾تَرْمِیۡہِمۡ بِحِجَارَۃٍ مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ﴿4﴾۪ۙفَجَعَلَہُمْ کَعَصْفٍ مَّاۡکُوۡلٍ ٪﴿5﴾ (پ30،الفیل:1۔5)
 ترجمہ کنزالایمان:۔اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تمہارے رب نے ان ہاتھی والوں کا کیا حال کیا، کیا ان کا داؤ ں تباہی میں نہ ڈالا اور ان پر پرندوں کی ٹکڑیاں(فوجیں)بھیجیں کہ انہیں کنکر کے پتھروں سے مارتے تو انہیں کرڈالا جیسے کھائی کھیتی کی پتی(بھوسا)۔
 درسِ ہدایت:۔اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی طرح کعبہ معظمہ کی حفاظت کا ذمہ بھی خداوند ِ قدوس نے اپنے ذمہ کرم پر لے رکھا ہے کہ کوئی طاغوتی طاقت نہ قرآن مجید کو فنا کرسکتی ہے نہ کعبہ کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتی ہے کیونکہ خداوند ِ کریم ان دونوں کا محافظ ونگہبان ہے۔
 (واللہ تعالٰی اعلم)





LIST PAGE
NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE