قبر ''بی بی آمنہ رضی الله تعالی عنہا ''                                  




یہاں کون آسودہ خاک ہے ؟
 قبر ''بی بی آمنہ رضی الله تعالی عنہا ''                                                
=======================
سوال
====
امت مسلمہ کا ہر شخص اس عظیم ہستی کے احسان تلے دبا ہے
اوز ہر مومن کی آرزو ہوتی ہے کہ وہ اس متپرک ہستی کی
مرقد مبارکہ کی زیارت کرے لیکن مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حاضری کا شرف حاصل ہونے کے باوجود اہل ایمان اس عظیم قبر کی زیارت سے محروم رہتے ہیں اور اسکی بڑی وجہ ایک تو یہ ہے کہ یہ قبر مبارک خاص مکّہ اور مدینہ شہر میں نہیں ہے اور دوسرے یہاں تک پہنچنے کے لیے کوئی مناسب رہنمائی بھی موجود نہیں - لیکن اگر وقت ہو اور کوشش کی جائے تو یہاں تک پہنچا جا سکتا ہے -
یہ اتنی عظیم ہستی کی مرقد مبارک ہے کہ تمام اہل ایمان کو اس مقام تک پہنچ کر اس عظیم ہستی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اپنی محبتوں کے چند آنسوؤں انکی قبر مبارک پر ضرور نچھاور کرنے چاہیں -
آپ صرف یہ بتا دیں یہاں کون آسودہ خاک ہے ؟ یہ کسی قبر مبارک ہے؟ -
=======================
JAWAB HAZIR HAY
==============
اس سوال کا تقریبا'' تمام ساتھیوں نے درست جواب دیا اور وہ سب یقینا''مبارک باد کے لایق ہیں -
یہ رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ سیدہ بی بی آمنہ رضی الله تعالی عنہا کی مبارک قبر ہے جو مکّہ مکرمہ سے تقریبا'' ایک سو پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر '' ابوا '' کے مقام پر موجود ہے - اگر پرانی ہائی وے سے مدینہ منورہ کی جناب چلا جایے تو سڑک سے ہٹ کر تھوڑے فاصلے پر یہ مقام ہے . پر نہ جانے کیوں اس مقام تک پہنچنا بہت آسان نہیں - عام سواریاں اس متبرک مقام تک جانے سے اس لیے گریزاں رہتی ہیں کہ بقول انکے ''پولیس والے '' یعنی شرطے یھاں تک نہیں جانے دیتے مگر آفریں ہے عشق کے متوالوں پر کہ وہ کسی نہ کسی طرح یہاں پہنچ ہی جاتے ہیں -
بی بی آمنہ نے شادی کے بعد ابھی چند ماہ ہی اپنے شوہر سیدنا عبدللہ رضی الله تعالی عنہ کے ساتھہ گزارے تھے کہ انھیں اپنے شوہر کو الودع کہنا پڑا جو تجارت کی غرض سے روانہ ہو رہے تھے - تجارتی قافلے کے ساتھہ جب وہ واپسی کے سفر پر تھے تو یثرب ( اب مدینہ منورہ ) کے مقام جہاں آپ کا سسرال تھا آپ سخت بیمار ہو گیے اور بعد میں انتقال فرما گیے -
اس خبر سے سیدہ بی بی آمنہ کے معصوم دل پر جو چوٹ لگی ہوگی اسکے درد کا کون اندازہ لگا سکتا ہے - ابھی تو انہوں نے اپنے ماہ تمام کو جی بھر کر دیکھا بھی نہ تھا - کتنی آرزوئیں زندہ درگور ہوگئی ہونگی - کتنی امنگیں ادھوری رہ گئی ہونگی - اس جانکاہ خبر کے بعد سیدہ آمنہ نے کتنا نہ چاہا ہوگا کہ وہ اڑ کر یثرب پہنچ جائیں اور اس مٹی کے تودے کو دیکھیں جہاں انکا قرار جان استراحت فرما تھا -

لیکن وہ امانت جسکا آپکو امین بنا یا گیا تھا ، اسکی حفاظت کے احساس نے انکے دل کو اپنے محبوب خاوند کی مرقد کی زیارت سے باز رکھا یھاں تک کہ وہ نور حق جنکو کائنات رسول مکرم . ختم النبین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نام سے جانتی ہے ، آپ کے پیکر رعنا میں ظاہر ہویے -
پیدائش کے بعد پھر آپ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کا فرض بی بی آمنہ کی اس خواہش کے درمیان حائل رہا کہ آپ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کو جا سکیں - جب آپ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چھہ سال ہوئی تو آپ اپنے لخت جگر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی کنیز '' ام یمن '' کے ساتھہ یثرب کے سفر پر روانہ ہوئیں -
وہاں پہنچ کر اپنے آپ نے اپنے خاوند کی قبر مبارک کی دل کھول کر زیارت کی اور ایک ماہ قیام کے بعد جب ان تین مسافروں پر مشتمل قافلہ واپسی کے سفر پر تھاتو ابوا کے مقام پر آپکی طبیعت ناساز ہو گئی اور پھر آپ انتقال فرما گئیں -
آپ نے جب آخری سانسوں کے وقت اپنے معصوم لخت جگر پر جب نظر ڈالی ہوگی تو انکے قلب حزیں پر کیا گزری ہوگی - باپ کا سایہ پہلے ہی اٹھہ چکا تھا - ماں کی آغوش محبت اب چھوٹ رہی تھی - مکّہ سے دور ویرانے میں معصوم کم عمر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مان باپ کی جدائی کے بعد تنہا تھا - نہ دادا موجود تھے نہ چچا - صرف الله بزرگ و برتر کی ذات تھی جو آپکی رہنمائی فرما رہی تھی -

کنیز '' ام یمن '' نے معصوم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سینے سے لگایا اور اس بیاباں ویران علاقے میں بی بی آمنہ کو سپرد خاک کیا اور غم سے نڈھال امت کے اس آخری رسول کو گلے لگے مکّہ کی جانب روانہ ہوئیں -
ابوا کے جس مقام پر سیدہ ام یمن نے کمسن سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد سے بی بی آمنہ کو سپرد خاک کیا آج کی اھلا'' کی تصویر میں اسی مقام اور قبر کی تصویر پیش کی گئی ہے -


تصویر دیکھتے ہوے یہ تصور ضرور باندھیے کہ سنسان علاقہ ہے ماں کی تدفین ہو رہی ہے اور میت کے ساتھہ ایک خاتون اور ایک غمزدہ دل معصوم بچہ ہے جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اپنی ماں کو قبر کو مٹی دےرہا ہے - اسکی ننھی ہتیلوں میں کتنی مٹی آتی ہوگی جو اسکی
ماں کی قبر کو پاٹ سکتی -



بھر کیف دل بھر آنے والا مقام ہے اور آج بھی ویسا ہے سنسان اور بیاباں دکھائی دیتا ہے ہے پر بہت متبرک ہے - اگر موقع مل سکے تو ضرور زیارت کریں -



PATH  towards holy grave BIBI SYEDA AMEENA  R. A



ANOTHER  VIEW

LIST PAGE

NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE