THE Graves of
 al-Harrah
  SHAHEED



Red dotted rectangular   place in Janat al baqi is actually the burial place of
AL-HURRAH  
martyrs

THE Graves of the al-Harrah martyrs ARE HERE in the grave yard of jannat ul baqee.

very few people knows the importance of Alharrah Battle which was really a painful history for muslims

Alharrah Battle (683 CE) is a battle fought at al-Harrah and inside City of Madinah between the Umayyad army commanded by Muslim bin Uqbah and people of Madinah as a reaction to Madinites decision to expel the Umayyad Governor of Madina appointed by Yazid ibn Muawiyah (The 2nd Umayyad Caliph). The Syrian army looted the city for three bloody days. Muslim bin Uqbah was henceforth known as Musrif meaning he who exceeds all bounds of propriety and offended women and the girls.
 
DURING THIS BATTLE SALAT ------ PRAYER---------COULD NOT BE OBSERVED THREE DAYS IN MASJID NABVI SHAREEF.

after madina yazid army invaded over Makkah and throws stones over holy kabba and seige of yazid army continued for two months. At last nature came in action and Almighty Allah took HIS silent revenge and yazid fell ill seriously and eventually died.yazid forces have to go back without doing any further cruel action
 



اصل میں جنّت البقیع میں اس مقام پر جنگ حرہ کے مظلوم شہیدوں کی قبور ہیں - یہ بڑے مظلوم madina کے لوگ ہیں جنھوں نے بڑی مظلوم شہادتیں پائیں لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے - اگر انھیں حرہ کی جنگ کی اہمیت اور مظلومیت کا اندازہ ہو جاتے تو انکی نظروں میں خود بخود جنت البقیع میں موجود اس قطعہ ارضی کے اہمیت بڑھ جاتے گی اور وہ اس مقام کو سرسری طور سے دیکھنے کے بجایے چشمہ تر سے دیکھنے لگیں گے --تو پلیز آپ آپ اسلامی تاریخ کی ان چند سطروں کو ضرور پڑھیں جب ظالموں نے مدینہ المنورہ کو بھی نہ چھوڑا اور ہمر جان سے زیادہ عزیز مسجد نبوی تین دیں تک نماز کی رونقوں سے محروم رہی-

چند سطریں تاریخ کے اوراق سے
--------------------------
---------------

یزید بن معاویہ کے دور میں سانحۂ کربلا کے بعد دوسرا بڑا سانحہ مدینہ پر شامی افواج کی چڑھائی تھی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور مدینہ میں قتل عام کیا گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ 63ھ میں پیش آیا اور واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی




سانحۂ کربلا کے بعد حجاز میں یزید کے خلاف غم و غصہ اور نفرت اپنے عروج پر پہنچ گیا تھا اور وہاں سے ایک انقلاب اٹھ رہا تھا۔ اہل مکہ نے عبد اللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور اہل مدینہ نے بھی یزید کے خلاف کاروائی شروع کردی۔ اس صورتحال میں یزید سلطنت اسلامیہ میں کشت و خون نہیں چاہتا تھا اور اہل مدینہ کو سمجھانے کے لیے اس نے وفد بلوایا اور امیر مدینہ عثمان بن محمد نے ایک وفد عبد اللہ بن حنظلہ کے ہمراہ دارالحکومت دمشق روانہ کیا۔ یزید کے وفد سے نرم سلوک اور انعام و اکرام سے نوازنے کے باوجود سانحۂ کربلا سے پیدا ہونے والا خلا برقرار رہا اور اہل مدینہ امویوں کے مقابلے میں کھلم کھلا مخالفت اختیار کر گئے۔ اس مخالفت کے نتیجے میں اموی خاندان کے افراد کو مدینہ سے نکال دیا گیا۔

[


ان واقعات کا علم جب یزید کو ہوا تو اس نے مسلم بن عقبہ کو مدینہ پر فوج کشی کا حکم دیا۔ مسلم بن عقبہ یزید کے حکم پر بارہ ہزار آدمیوں کے لے کر مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ لشکر کی روانگی کے وقت یزید نے بذات خود چند احکامات کی پابندی کا حکم دیا۔ وہ احکامات یہ تھے:


اہل مدینہ کو تین دن کی مہلت دینا تاکہ وہ اس عرصے میں کوئی فیصلہ کر لیں

تین دن کے بعد اگر وہ اطاعت قبول نہ کریں تو جنگ کرنا

جنگ میں کامیابی کی صورت میں تین روز تک قتل عام جاری رکھنا اور مال و اسباب لوٹنا

علی بن حسین رضی اللہ عنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچانا۔


ان احکامات پر عمل کرنے کا وعدہ کر کے مسلم اپنے لشکر کے ہمراہ مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔ مدینہ کے قریب پہنچ کر مسلم نے اہل مدینہ کو مصالحت کی دعوت دی اور ساتھ ہی تین دن کی میعاد مقرر کی۔ لیکن اس عرصے میں اہل مدینہ خاموش رہے۔ تین دن کے بعد مسلم بن عقبہ نے اہل مدینہ کو جنگ یا صلح میں سے ایک راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی۔ اہل مدینہ یزید کی اطاعت قبول کرنے پر تیار نہ تھے، انہوں نے جنگ کو ترجیح دی۔


جنگ میں مدنی لشکر کی قیادت عبد اللہ بن حنظلہ نے کی لیکن اہل مدینہ کو شکست ہوئی اور عبدالرحمٰن بن عوف اور عبد اللہ بن نوفل سمیت کئی اکابرین شہید ہوئے۔ مسلم نے فتح حاصل کرنے کے بعد یزید کے حکم کے مطابق قتل و غارت گری کی اور یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا۔ اس واقعے میں 306 شرفائے قریش و انصار اور دیگر قبائل کے آدمی کام آئے۔ تین دن کےبعد باقی ماندہ لوگوں سے بیعت کرنے پر اصرار کیا گیا۔ ان سے جبراً بیعت لی گئی اور انکار کی صورت میں قتل کر دیا جاتا۔ امام زین العابدین بھی پیش ہوئے لیکن یزید کی ہدایت کے مطابق ان سے کوئی سختی نہ کی گئی۔ مدینۃ النبی پر حملہ 63ھ میں ہوا جو واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یہ یزیدی عہد کا ایک بڑا المیہ تھا۔


یزیدیوں نے مکہ کی طرف پیش قدمی کی اور محاصرہ کر لیا۔ دو ماہ تک فوج وہاں رہی اور اس مقدس شہر کی بے حرمتی کرتی رہی۔ خانہ کعبہ پر پتھر برسائے گئے جس سے اس کی چھت اڑ گئی۔ جب مکہ میں کعبہ شریف پر پتھر برسائے جا رہے تھے اسی اثنا میں اللہ نے یزید کو عذاب سے ہمکنار کیا اور وہ تین دن میں تڑپ تڑپ کر مرگیا۔ اس کے مرنے کی اطلاع پر فوج محاصرہ اور قبضہ ختم کر کے دمشق لوٹ گئی






LIST PAGE
L
I
Previous Page

Next Page