MASJID IMAM BUKHARI


a
THIS IS MASJID IMAM BUKHARI few steps away from masjid nabvi. . It was actually the place where Imam bukhari stayed when he lived in madina for collecting and writing HADEES
nearly 200 years after the holy death of Prophet Muhammad sallallaho allihi wasalam.

Though Iman bukhari was not an arab yet his marvelous job of collecting and 
writing thousands of authenticated HADEES made his personality immortal even in arabs .

In islamic society it is accepted that the collection of AHADEES by Iman bukhari is the first authenticated islamic refrence book after GLORIOUS QURAN.

Because of such islamic work the importance of this masjid to see while staying in Madina becomes more important for pilgrims. They must not miss to see this holy masjid (.

He was born in 810A.D/194 HIJRA in the city of Bukhara in Khorasan (now in Uzbekistan). His father, Ismail Ibn Ibrahim, was a known hadith scholar who died while he was young. At age of sixteen, he, together with his brother and widowed mother made the pilgrimage to Makkah. From there he made a series of travels in order to increase his knowledge of hadith. He went through all the important centres of Islamic learning of his time, talked to scholars and exchanged information on hadith. It is said that he heard from over 1,000 men, and learned over 700,000 traditions

==============================
مسجد نبوی سے باہر کچھ فاصلے پر موجود یہ مسجد '' مسجد امام بخاری '' کے نام سے موسوم ہے - اصل میں یہ وہ مقام ہے جہاں علم و تحقیق کی جستجو میں '' بخارا '' سے تشریف لیے '' امام بخاری رحمتہ الله '' نے قیام فرمایا اور دین اسلام کا ایک ایسا لافانی کام انجام دیا کہ انکی اس کوشش کو تا قیامت نہ صرف اہل عجم بلکہ اہل عرب بھی فراموش نہ کر سکیں گے - امام بخاری عرب نسل سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن انہوں نے مدینہ میں اس مقام پر قیام کرتے ہوے صحیح احادیث جمع کرنے کا ایک ایسا لافانی کام انجام دیا کہ انکی احادیث کی کتاب کو کو دنیا اسلام میں '' قرآن پاک '' کے بعد سب سے معتبر سمجھا جاتا ہے - 

اس مسجد کے قریب کھڑے ہوکر امام بخاری رحمتہ الله کی خدمات کو ذہن میں گھومایا جائے تو یہاں کی زیارت کا مزہ دو چند ہو جاتا ہے - امام بخاری کو امام مالک کی شاگردی کا بھی اعزاز حاصل ہے جو مدینہ کے رہنے والے تھے اور انکی قبر مبارک بھی مدینہ میں موجود ہے مگر '' امام بخاری '' کی قبر مدینہ نہیں بلکہ '' بخارا ''میں ہے -

آپ بخارا میں پیدا ہوئے گو ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے مگر احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانچ پڑتال، پھر ان کی جمع و ترتیب پر آپ کی مساعی جمیلہ کو آنے والی تمام مسلمان نسلیں خراج تحسین پیش کرتی رہیں گی۔ آپ کا ظہور پر سرور عین اس قرآنی پیش گوئی کے مطابق ہوا جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمائی تھی۔

واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم (سورہ الجمعہ 3)

یعنی زمانہ رسالت کے بعد کچھہ اور لوگ بھی وجود میں آئیں گے جو علوم کتاب وحکمت کے حامل ہوں گے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ یقینا ان ہی پاک نفوس کے سرخیل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آل فارس میں سے کچھہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ اگر دینی علوم ثریا ستارے پر ہوں گے تو وہاں سے بھی وہ ان کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔



LIST PAGE
Previous Page

Next Page