WELL 0F DHARWAN
(WELL OF MAGIC)

HOTEL ANWAR-E-MADINA . It is the exact spot where the well of Dharwan was situated. It was rthe well uder which a man named '' Lubaid bin assam '' put 11 knotted hairs of prophet Muhammad sallalaa ho allihi wasalam and did magic over beloved prophet sallallaho allihi wasalam and he started to live serious ill . one night in the holy dream angels informed prophet MUHAM,MAD SALLALLA HO ALLIHI WASALAM the location of Dhrwan well and the whole story of magic.

prophet sallallaho allihi wasalam recovered this 11 knotted bunch of holy hairs and recited 11 ayats of surah FLAQ and surah NAS and untied every knot on every ayat. And in this way by the blessings of Almighty Allah Prophet Muhammad sallalla ho allihi wasalam Alhamdollillah recovered from such  illness completely .In the end prophet Muhammad sallalla ho allihi wasalam refilled and levelled this well of Dharwan . Now the hotel  ''Anwar -e- madina '' is there.


مسجد نبوی کے باہر اگر مشرقی سمت نگاہ اٹھا کر دیکھا جایے تو ہمیں ایک فایو اسٹار ہوٹل

نظر آے گا '' فندق انور مدینہ '' کے نام کا - اس لگزری ہوٹل کے ساتھ آپکو دوسرے اور بہت سے بلند و بالا ہوٹل بھی نظر آیین گے - یہیں ایک مشہور عمارت '' شریعہ کورٹ '' کی بھی ہے ( اس تصویر میں درمیان والی عمارت انور مدینہ ہوٹل کی ہے جو درمیان والے لال تیر کے نشان سے واضح کی گئی ہے - )

-حاجی اور زایرین عمرہ ان عمارتوں کے گرد گھومتے پھرتے ہیں - اور کچھ تو ان ہوٹلوں میں قیام بھی کرتے ہیں لیکن کم ہی کو معلوم ہے کہ اس علاقہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے جسمانی زمانے میں

'' بنو زریق '' نامی قبیلہ آباد تھا - اور اس علاقہ کے دو مقامات تاریخی لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں جن میں سے ایک مقام وہ ہے جہاں بعد میں ایک مسجد بھی بنا دی گیئ تھی لیکن جدید تعمیر کے بعد وہ مسجد اب موجود نہیں تاہم مقام ان ہی ہوٹلوں کے درمیان کہیں ہے - اس مقام کی خصو صیت یہ ہے کہ مدینہ کی فضاؤں میں پہلی مرتبہ ''قرآن پاک '' کی تلاوت یہاں کی گیئ -


یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ابھی مدینہ ہجرت نہیں کی تھی اور مکّہ میں بارہ مدینہ کے لوگوں نے منی میں عقبہ کے مقام پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ہاتھوں خفیہ طور پر اسلام قبول کیا تھا جسکو'' بعیت عقبہ اول '' کہتے ہیں- ان بارہ افراد میں ایک '' سیدنا رافع بن مالک " تھے جنہوں نے مدینہ واپس آکر اس مقام کے آس پاس جہاں آج یہ ہوٹل قائم ہے ، پہلی مرتبہ مدینہ کی فضاؤں میں قرآن پاک کی تلاوت کی اور اہل مدینہ کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا پیغام سنایا-


'' بنو زریق ''( موجودہ--- '' فندق انور مدینہ '' ) کے علاقے میں
'' دھرواں '' نام کا وہ تاریخی کنواں موجود تھا جسمیں ایک منافق '' لبید بن آسسام '' نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گیسو مبارک پر جادو کر کے ایک کنگھی, کافور اور کھجور کے درخت کی چھال کے حصوں کی مدد سے ان مبارک بالوں کو بٹ کر اسمیں نو گراہیں لگائیں اور ہر گراہ میں ایک سوئی پیوست کر کے اس نا عاقبت منافق انسان نے اسکو بنو زریق ''( موجودہ--- '' فندق انور مدینہ '' ) کے علاقے میں موجود 
'' دھرواں '' نامی کنویں میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا -

اس جادو سے رسول مکرم سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم کی صحت مبارک خراب رہنے لگی - کافی عرصے بعد الله کی مدد سے آپ کو دو فرشتوں نے خواب میں پوری خبر دیئ کہ وہ کون انسان ہے جس نے یہ عمل قبیح کیا - ''دھرواں'' کے اس کنویں اور اس کے مقام کی خبر دی گیئ اور قرآن پاک کی دو مشھور سورتیں '' سوره فلق '' اور ''سوره الناس '' کی تلاوت کرنے کی ہدایت کی جو نازل تو مکّہ میں ہوئیں مگر انکی انفرادیت اور اہمیت یہاں مدینہ میں واضح ہوئی -
ان کی آیات کی کل تعداد بھی نو ہے جو ان نو گانٹھوں کے مساوی ہیں جو اس شیطان نما شخص نے جادو کے لیے گیسو مبارک میں لگائیں تھیں -

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے , بی بی عایشہ رضی الله تعالی عنہا سے فرمایا کہ میں نے جب اس کنویں کے پانی کا رنگ دیکھا تو وہ ایسا سرخ تھا جیسے مہندی - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس بالوں کی گانٹھوں کو اس طرح کھولا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم '' سوره فلق '' اور '' سوره الناس '' کی ہر ایک آیت پر ایک گراه کھولتے جاتے اور جب یہ نو آیات مکمل ہوئیں تو ان بالوں میں لگی نو گراہین بھی کھل گیئں اور یوں رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر کیے گیے جادو کا اثر بھی زائل ہو گیا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فوری طور سے اس کنویں کو بھروادیا -

حاجی اور زایرین عمرہ کو چاہیے کہ وہ جب مسجد نبوی تشریف لیے جائیں تو اسکے مشرق میں موجود سپر لگزری ہوٹل '' انوار مدینہ '' کے گرد و نواح میں کھڑے ہوکر یہ ضرور تصور باندھیں جسکا ذکر اوپر کیا گیا ہے تاکہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس کرب کا اندازہ ہوسکے جو انھیں منافق '' لبید بن آسسام '' کے شیطانی جادو سے ہوا .- اور یہی تاریخی واقعہ سوره الفلق اور سوره الناس کی انفرادیت اور اہمیت کا محرک بنا - اور الله سپحان و تعالی نے اسی کرب ناک واقعہ میں جسکی تکلیفیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جھیلیں ، امّت مسلمہ کے لیے اس طرح رحمت پنہاں کردی کہ یہ دونوں خوبصورت سورتیں قیامت تک کے لیے امت کے لیے شفایابی کی سورتوں کا تحفہ قرار پا گیئں -
 


Another view of hotel ANWAR-E-MADINA


LIST PAGE
Previous Page

Next Page