BAGH FATIMA ZEHRA

RADI ALLAH EALA ANHA





باغ  سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا

======================

وپر کی بڑی تصویر مسجد نبوی کے اندرونی صحن کی ایک پرانی تصویر ہے جس میں ایک کنارے پر کھجور کے درخت نظر آرہے ہیں - اصل میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے مدنی دور میں یہ حصہ مسجد کے باہر بلکل مسجد کی دیوار سے لگا ہوا تھا اور اس زمانے میں یہ چھوٹا سا کھجور کا باغ یہاں موجود تھا -

مسجد النبوی کی توسیع کے بعد یہ باغ مسجد کے اندر آ گیا اورمسجد نبوی کی سعودی جدید تعمیر سے قبل تک یہ باغ نشانی کے طور پر مسجد کے صحن میں موجود تھا جیسا کہ آپ تصویر میں دیکھ رہے ہیں - لیکن جدید سعودی تعمیر کے وقت اس باغ کو ختم کر دیا گیا اور نمازیوں کی آسانی کے لیے یہاں خوبصورت فرش تعمیر کر دیا گیا اور اس صحن میں چھہ خوبصورت 
چھتریاں لگا دی گئیں ہیں جو خود کر نظام کے تحت کھل بند ہو جاتی ہیں - 

چھوٹی تصویر اس صحن کی موجودہ تصویر ہے جسمیں چھتریوں کے پول نظر آرہے ہیں اور چھتریاں اس وقت بند ہیں -

سبز چوکور خانے میں تیر کی مدد سے میں نے اس مقام کو دکھایا ہے جہاں یہ باغ موجود تھا - آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم سے کس قدر نزدیک ہے - آج کل زائرین اور حجاج اس مقام پر صفیں بناتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں لیکن انمیں سے شاید کم کو ہی علم ہو کہ اس مقام پر رسول الله صلی الله علیہ کی حیات مبارکہ میں ایک چھوٹا سا کھجور کا باغ تھا  اس باغ کا  نام '' باغ  سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا ''تھا''  ''

س باغیچے کا نام '' سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا '' کے نام سے کیوں منسوب ہے اس کا ذکر میری نظر سے گزارنے والی کتب میں وضاحت کے ساتھہ نہیں آیا ہے تا ہم غالب امکان یہی ہے کہ یہ مسجد النبوی سے متصل وہ باغیچہ ہے جہاں بی بی سیدہ فاطمہ رضی الله عنہا اپنے زمانہ طفلی میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیلا کرتی ہونگی-

تا ہم اس باغیچے کے متعلق کتابوں میں یہ ضرور مذکور ہے کہ مسجد نبوی میں بنی اسلامی تاریخی کی پہلی درس گاہ ''صفہ چبوترا '' جہاں دن کے وقت طالب علم ، دین، قرآن اور احادیث کی تعلیم حاصل کرتے تھے اور رات کو یہ چبوترا بے اسرا لوگوں کی اور مسافروں کی آرام گاہ بن جاتا تھا - یہ وہ دور تھا جب مسلمان عسرت کی زندگی گزر رہے تھے - اس موقع پر ان طالب علموں اور اہل صفہ کے مسافروں اور یہان قیام کرنے والے بے گھر لوگوں کے لیے درد دل رکھنے والے اہل مدینہ جو کھجوریں بھیجا کرتے تھے ، انکی گٹھلیوں کو مسجد سے متصل اس مقام پر دبا دیا جاتا تھا تاکہ یہان چند کھجور کے درخت اگ آئین اور صفہ کے ان ضرورت مند لوگوں کی خوراک کا مستقل انتظام ہو سکے - یہی مقام بعد میں '' بستان فاطمه '' کے نام سے مشھور ہوا- 

مسجد نبوی کی جدید تعمیر کے بعد آپ یہ باغیچہ جیسا کہ اوپر کی پرانی تصویر میں نظر آرہا ہے , اپنی اصلی حالت میں تو نہیں ہے تا ہم مسجد نوی کے اندورنی صحن میں یہ حصہ اب بھی کھلی جگہہ پر موجود ہے تا ہم یہاں خوبصورت چھتریاں لگا دی گئی
ہیں - آج بھی اس مقام پر چند لمحوں کے لیے رک کر اگر تصور کی آنکھہ 
سے دیکھا جایے تو یہان کی حاضری کا لطف دو چند ہو جاتا ہے -

LIST PAGE
Previous Page

Next Page