BAB -UN- NISA .

BAB -UN- NISA .
ا
مسجد نبوی شریف  یہ دروازہ  ''باب النساء '' خلیفہ دوم سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ نے سن سترہ ہجری میں مسجد النبوی کی مشرقی سمت کی دیوار میں باب جبریل سے تھوڑے فاصلے پر تعمیر کروایا - اس وقت یہ مسجد نبوی کی آخری حد تھی اور اس دروازے کا مقصد خواتین کو مسجد میں آنے کی اور مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دینا تھی کہ خواتین بالکل الگ ایک دروازے سے مسجد النبوی میں تشریف لاین اور نماز کے ساتھ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر چاہیں تو حاضری دیں اور آسانی سے واپس چلی جائیں - یہ دروازہ مشرقی جانب اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اقدس تک پہنچنا بہت آسان تھا - کیونکہ یہ دروازہ خواتین کے لیے مخصوص تھا اس لیے اس کا نام انہوں نے '' باب النساء '' رکھا - عربی میں ''نساء '' خواتین کو کہتے ہیں - 

آج کل مشرقی سمت میں تین دروازے ہیں '' باب 

baqee'' 

باب جبریل '' اور تیسرا دروازہ ''باب النساء '' ہے - میں نے سن ٢٠٠٠ تک یہی دیکھا کہ خواتین اسی دروازے سے مسجد نبوی میں سلام عرض کرنے جاتی تھیں لیکن آپ کیوں کہ مسجد النبوی کافی پھیل گئی ہے ، اس لیے خواتین کو اس دروازے سے اندر آنے کی اجازت نہیں - تاہم وہ اندر جاکر یا باہر سے بڑی آسانی سے اسکی زیارت کر سکتی ہیں - اس دروازے کی دونون جانب جعلی حروف میں '' باب النساء '' لکھا ہے


LIST PAGE
Previous Page

Next Page