QABAR (GRAVE)
OF
SYEDNA ABDULLAH

(Father of prophet Muhammad S.A.W )


OLD VIEW OF GRAVE SYEDNA ABDULLAH BIN
 ABU MUTALIB

یہ تصویر اس مقام کی ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے والد جناب سیدنا عبداللہ ابن عبدالمطلب مدفون ہیں - یہ قبر مسجد النبوی کے قریب ہی ہوا کرتی تھی مگر اب آنکھوں سے اوجھل ہے اور ڈھونڈھے نہیں ملتی -

یہ مسجد النبوی سے کتنی قریب ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مسجد النبوی مدینہ کے ایک قبیلے 
'' بنو نجار '' میں واقع ہے اور یہ قبر مبارک بھی ''بنو نجار '' میں عبدالله بن ابو مطلب کے سسرالی خنداں کے ایک شخص ''An-Nabigha Al-Ju‘di
کے گھر میں یا اسکے قریب موجود تھی- ایک دو جگہ یہ بھی مرقوم ہے کہ یہ شخص ''An-Nabigha Al-Ju‘di
سیدنا عبداللہ ابن عبدالمطلب کے کزن تھے - 

کچھہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قبر مبارک مسجد النبوی کے ''باب السلام '' کے سامنے ہے جبکہ کچھہ جگہوں پر یہ بھی مرقوم ہے کہ آپ کے جسم مبارک کو موجودہ صدی میں مسجد النبوی کی توسییع کی وجہ سے پرانے
مقام سے نکال کر ''جنت البقیع '' میں دفنا دیا گیا تھا - الله أعلم

ANOTHER VIEW OF GRAVE OF SYEDNA ABDULLAH BIN ABU MUTALIB

حضرت عبداللہ ابن عبدالمطلب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد تھے۔ آپ 545ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا اور ان کا نسب حضرت عبداللہ کے ساتھ مرہ بن کعب پر جا کر مل جاتا ہے۔ آپ دینِ حنیف (دینِ ابراہیمی) پر قائم تھے۔ ۔ آپ اپنی خوبصورتی کے لیے بے انتہا مشہور تھے اور بہت خواتین نے ان کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی یا ان سے عقد کی خواہش کی مگر پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ محترمہ بننے کی سعادت حضرت آمنہ بنت وھب علیہا السلام کی قسمت میں لکھی تھی۔ جو بنی زھرہ کے سردار کی بیٹی تھیں۔

حضرت عبداللہ ابن عبدالمطلب بہت کم عمری (تقریباً پچیس سال) کی عمر میں 570ء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش سے تقریباً کچھہ ماہ پہلے مدینہ اور مکہ کے درمیان سفر کرتے ہوئے وفات پا گئے۔ وہ شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام کو روانہ ہوئے تھے مگر یثرب(مدینہ) میں بیماری کی وجہ سے آرام کرنے کے لیے رک گئے تھے۔ جب شام کا تجارتی قافلہ مکہ واپس آیا تو حضرت عبدالمطلب اور حضرت آمنہ نے حضرت عبداللہ کو نہ پایا۔ انہیں پتہ چلا کہ وہ یثرب(مدینہ) میں بیمار ہو کر رک گئے تھے۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے ایک بیٹے حارث بن عبدالمطلب کو مدینہ بھیجا تاکہ وہ حضرت عبداللہ کو لے آئیں مگر وہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ وہ وفات پا چکے ہیں۔ حضرت عبداللہ ان کا نام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لفظ اللہ اسلام سے پہلے بھی رائج تھا اور اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ وہ اور ان کے والد یا خاندان اللہ پر یقین رکھتا تھا۔

نوٹ :- آپ نے جواب پڑھ لیا ہو اور پسند آیا ہو یا یونیک لگا ہو تو ---- یا تو آپ کمنٹس کریں یا کم از کم جواب کےنیچے بنے لایک کو ضرور پریس کریں تاکہ مجھے علم ہو سکے کہ جواب آپکی نظر سے گزر چکا ہے - جزاک الله خیرا''-



LIST PAGE
Previous Page

Next Page