3 HISTORIC AND TRAGIC
INCIDENT OF MASJID AL NABVI




سوال
اس مقام کے نیچے کیا ہے - 
============
مسجد نبوی کے '' ریاض الجننہ ''میں موجود اس ''ممبر رسول '' صلی الله علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں کا مرکز بناتے ہوے آپ لال کالے اور نیلے تیروں پر نظر دوڑائیں - 

لال تیر مسجد نبوی کے ایک اہم اور قدیم دروازے
'' باب السلام '' کی جانب اشارہ کر رہا ہے جبکہ نیلا تیر '' روضۂ اقدس '' اور اسکی جانب بنے دروازے '' باب الپقیع '' کی جانب اشارہ کر رہا ہے اور کالا تیر ان دونوں دروازوں کے بیچ ''ممبر رسول'' صلی الله علیہ وسلم کے قریب زمین کی جانب اشارہ کر رہا ہے -

اس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اگر کوئی '' باب السلام '' سے مسجد نبوی میں داخل ہوکر روضۂ اقدس کی جانب آگے  بڑھے تو اسے روضۂ اقدس آنے سے پہلے ''ممبر رسول '' صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے یہ مقام ملے گا جسے میں نے کالے تیر سے دکھایا ہے -

کیا آپ بتا سکتے ہیں اس مقام پر کون سا تاریخی واقعہ رونما ہوا اور یہاں زمین کے نیچے کیا ہے -

ایک بات بڑی عاجزی سے بیان کرتا چلوں کہ جس مقام کو کالے تیر سے میں نے دیکھایا ہے اور پوچھا ہے کہ یہان زمین کے نیچے کیا ہے ، ہوسکتا ہے وہ مقام اس جگہ سے تھوڑا سا آگے ، بیچھے یا دائیں ، بائیں ہو لیکن ہے اس ہی '' ممبر رسول '' صلی الله علیہ وسلم کے قریب - 

یہان سے ہر مرد حاجی اور معتمر [ عمرہ کرنے والا ] خوب خوب گزرتا ہے لیکن علم نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس مقام کی تاریخی حیثیت سے نا بلد رہتا ہے - 

یہ اتنا اہم واقعہ ہے کہ بطور مسلمان اس کاجاننا اپکا حق ہے اور اس کو جان 
کر آپ کی آنکھوں کا نم ہونا بھی لازم
ہے 

اور پھر ایسی انگنت تصویر اور معلومات کے لیے آپ کے پاس وسیم کی ویب سایٹ '' اھلا'' '' تو ہے ہی نا -
http://www.ahlanpk.org/
=======================
جواب حاضر ہے 
==========
اس سوال کا کوئی درست جواب نہ اسکا- نو پرابلم - آپکو اس کا درست جواب جاننے کے لیے نم آنکھوں کے ساتھہ ان تین سازشی واقعات کو مختصر جاننا ہوگا جو مختلف ادوار میں سرکش انسانوں نے رسول الله محمّد صلی الله علیہ وسلم ، سیدنا 
ابو بکر صد یق [ر - ض ] اور سیدنا عمر [ر - ض ] کی قبور مبارکہ کی بیحرمتی کے لیے کی کیں - ان نہ عاقبت اندیشوں نے اننی معزز ہستیوں کو ان کی ان طاہر اور مقدس قبور سے 
نکالنے کی گستاخانہ سازش رچائی تاکہ مدینہ منورہ 
معاذ الله عاشقان رسول صلی الله علیہ وسلم کی توجہ مرکز نہ رہے - ان سازشوں کا ذکر شیخ محمّد عبدالحق محد ث دہلوی نے اپنی کتاب '' تاریخ مدینہ '' ان سازشوں کا ذکر کیا ہے -

پہلی سازش 
=======
٣٨٦ ہجری سے ٤١١ ہجری تک ایک فاطمی حکمران مصر کا بادشاہ تھا اور مدینہ منورہ اسکے زیر اثر تھا - اس حکمران کی سوچ اور کوشش یہ تھی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور انکے دو اصحاب کے اجسام مبارک کو مدینہ منورہ سے مصر منتقل کیا جایے - اس طرح لوگوں کی توجہ مدینہ منورہ کے بجایے مصر کی طرف مبذول ہو جایے گی - اس نے مصر میں ایک شاندار عمارت بنوائی جس میں وہ ان اجسام مبارکہ کو رکھنا چاہتا تھا - حکمران نے اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے ایک کارندے '' ابو الفتوح '' کو مدینہ منورہ بھیجا - جب یہ کارندہ مدینہ منورہ پہنچا تو اہ مدینہ کو اس سازش کی خبر ہو گئی - انہوں نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرلیا- اہل مدینہ انھیں قتل کرنا چاہتے تھے - '' ابو الفتوح ''ڈر گیا اور بول اٹھا '' میں اس سازش کو کبھی بھی عملی جامعہ نہ پہناؤں گا خواہ حاکم مصر مجھے قتل ہی کر دے -اسی دوران مدینہ منورہ میں ایک بہت برا طوفان آیا جس سے 
'' ابو الفتوح '' کو بھاگ جاننے کا موقعہ مل گیا اور اس طرح سے یہ سازش الله کریم کے حکم سے ناکام ہو گیے اور تینوں محترم اجسام محفوظ رہے -

دوسری سازش 
===========
اس سازش کا '' اھلا'' کے فورم پر پہلے کہیں ذکر کیا جا چکا 
تاہم اس کو مختصرا'' یھاں بھی بیان کیا جارہا ہے -

عیسیٰیوں نے یہ سازش ٥٥٧ ہجری میں کی - اس وقت شام کے بادشاہ نور الدین زنگی تھے - ایک رات نور الدین زنگی نے خواب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تین بار دیکھا - ہر بار رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے سلطان سے کہا کہ '' مجھے ان دونون کی شرارت سے بچاؤ '' - سلطان بیقرار مدینہ پہنچا اور سب کے لیے تحفے لیے گیا - اسکے مشیر نے مدینہ میں اعلان کیا کہ ہر شخص اپنا تحفہ لینے خود حاضر ہو - سب ایے پر وہ دو اشخاص نظر نہ آیے- سلطان نے پوچھا کوئی شخص باقی تو نہیں رہ گیا - لوگوں نے جاب دیا دو متقی اور مالدار لوگ ہیں جو صرف عبادت میں مصروف رہتے اور کسی کا تحفہ قبول نہیں کرتے - بہت دیندار لوگ ہیں - سلطان نے حکم دیا انکو بھی حاضر کیا جایے - جب سلطان نے ان کو دیکھا تو وہ وہی اشخاص تھے جو خواب میں دکھائے گیے تھے -

تحقیق کرنے سے پتا چلا کہ کہ ان دونون یہودیوں نے اپنے مکان سے روضۂ اقدس تک زمیں کھود کر سرنگ بنائی تھی تاکہ وہ ان طاہر اجسام کو نقصان پہنچا سکیں لیکن الله نے غیب سے مدد فرمائی اور نور الدین زنگی نے ان کے سر قلم کروادیے اور روضۂ مبارک کے چاروں اطراف اتنی گہری کھدائی کروائی کہ پانی نکل آیا اور پھر اس میں سیسہ پگھلا کر زمین دوز ایسی چار دیواری بنوادی کہ اب قیامت تک کوئی زیر زمین اس مقدس مقام تک پہنچنے کی جرات نہیں کر سکے گا -


تیسری سازش 
===========
طبری نے اپنی کتاب ' الریاض النضرہ ''میں اس کا ذکر یوں کیا ہے -

حلب [ شام ] کے کچھ لوگ مدینہ آیے اور اسوقت کے مدینہ کے گورنر کے لیے تحائف لائے - انکی خواہش تھی روضۂ مبارک میں داخل ہو کر سیدنا ابو بکر اور سید عمر کے اجسام مبارک کو یہاں سے نکل کر باہر پھنکدیں - انھوں نے گورنر سے ساز باز کی اور گورنر نے منظوری دیدی - 

گورنر نے مسجد کے خادم سے کہا کہ اگر رات کو کچھ لوگ مسجد نبوی میں آئین تو ان کے لیے مسجد کا دروازہ کھول دینا دینا اور وہ جو کچھ کرنا چاہیں تو اس میں مداخلت نہ کرنا -عشا کی نماز کے کافی دائر بعد کسی نے '' باب السلام ''
[ تصویر میں لال تیر کو دیکھیں ] پر دستک دی - خادم جو بہت دیندار مگر کمزور انسان تھا . اس نے دروازہ کھول دیا - تقیبا'' چالیس آدمی مسجد نبوی میں داخل ہوے - انکے پاس توڑ پھوڑ اور کھدائی کے ہتیار تھے - خادم سہم گیا اور ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا اور سب دیکھنا لگا اور اس پورے واقعہ کا وہی شاہد ہے - وہ ناہنجار لوگ تیزی سے ناپاک عزائم لیے روضۂ اقدس [ تصویر میں نیلا تیر دیکھیں ] کی جانب بڑھنے لگے - ابھی ممبر رسول صلی آلہ علیہ وسلم تک بھی نہ پہنچ سکے تھے کہ الله کریم کے حکم سے زمین شق ہو گئی اور وہ سب کے سب اپنے ہتیاروں سمیت یہیں پیوست خاک
ہو گے - [ تصویر میں کالا تیر دیکھیں ] - صبح جب گورنر نے خادم سے دریافت کیا تو اسنے پورا واقعہ سنا دیا - گورنر کو یقین نہ آیا لیکن جب اسنے خود وہاں جا کر دیکھا تو زمین کو دھنسا ہوا پایا اور یقین کرنے پر مجبور ہوگیا -

سوره انفال میں الله رحیم فرماتے ہیں

'' [ ادھر تو ] وہ چال چل رہے تھے اور [ ادھر ] الله چال چل رہا تھا - الله سب سے اعلی تدبیر کرنے والے ہیں -

اب سوال کے جواب کی جانب آیں - گویا تصویر میں کالا تیر اس مقام کی نشان دہی کر رہا ہے جہاں دھنسنے کا یہ واقعہ رونما ہوا -


LIST PAGE
Previous Page

Next Page