FORT KAAB BIN ASHRAF

(A Naughty Jew)



Ruins of fort of Kaab Bin Ashraf

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ابتدائی مدنی دور میں اس مقام پر ایک شریر یہودی '' کعب بن اشرف '' رہا کرتا تھا اور اس مقام کو آج بھی '' قلعہ کعب بن اشرف '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے - یہ شریر انسان رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی شان میں ہجو یعنی گستاخانہ شاعری کیا کرتا تھا - اس کی اس گستاخی کا جواب گو کہ '' سینا حسان بن ثابت - ر - ض '' اپنی نعتوں یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مدحت بھری شاعری سے بھرپور انداز میں کیا کرتے تھے مگر جنگ بدر میں مسلمانوں کی عظیم کامیابی کی بعد یہ ناہنجار انسان اتنا بے باک ہوگیا کہ اسنے رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی طاہرہ اور پاکباز ازواج اور اہل بیت کی خواتین کی شان میں گستاخانہ کلام کہنا شروع کر دیا - اسکی یہ بے باکی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بہت ناگوار گزری اور بہت منع کرنے کی باوجود جب وہ باز نہ آیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ اکرم سے فرمایا ''کون ہے جو ہمیں ا اشرف کی بیٹے کعب کی شر سے بچائے گا ''-

اس کی جواب میں ایک صحابی '' سیدنا محمّد بن مسلمہ ''نے اس کو قتل کرنے کی ذمداری اپنے ہاتھوں میں لی - اس کی بعد '' سیدنا محمّد بن مسلمہ '' ، '' سیدنا ابو نائلہ '' ،
'' سیدنا عباد بن بشیر '' . '' سیدنا حارث بن اوس '' اور ''سیدنا ابو عبس بن جبر '' پر مشتعمل ایک دستہ متعین کیا گیا جو کمال مہارت اور جامع منصوبہ بندی سے '' قلعہ کعب بن اشرف '' جسکے کھنڈرات کی تصویر اوپر دی گیئ ہے ، تک پہنچا اور اس بد بخت ، نہ ہنجار کو جہنم واصل کیا - 

اس واقعہ کو پورا سن لیں

'' سیدنا محمّد بن مسلمہ '' منصوبے کی مطابق پہلے خود کعب بن اشرف کے پاس گے اور اس سے اوپری دل سے کہا کہ میں تو اس نیے دین سے [ معاذ الله ] تنگ آ چکا ہوں - اپنی ضرورت کا تمام غلہ اس دین کے احکامات کے سامنے صدقہ خیرات کر چکا ہوں. اب کھانے کو کچھ نہیں ہے - اور میں تو اپنے بچوں کے لیے تم سے کچھہ غلہ لینے آیا ہوں - 

'' سیدنا محمّد بن مسلمہ '' کی یہ حکمت عملی بہت کارگر ثابت ھوئی اور کعب بن اشرف بہت خوش ہوا اور کہنے لگا میں تو تم سے پہلے کہتا تھا کہ تم بہت جلد اس دین سے [ معاذ الله ] اکتا جاؤ گے - کعب نے غلہ دینے کا وعدہ کیا مگر رہن کے طور پر پہلے تو یہ کہا کہ اپنی عورتوں کو ہمارے پاس رکھو - 
'' سیدنا محمّد بن مسلمہ '' نے اسکی اس شرارت پر تحمل اور حکمت سے کم لیا اور اس سے کہا '' تم کعب اتنے خوبصورت ہو کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہماری عورتیں کہیں تمہاری ہی ہو کر نہ رہ جائیں - اس لیے ہم ایسا نہیں کر سکتے - تب کعب نے کہا اپنے بیٹے ہمارے پاس رکھوادو - '' سیدنا محمّد بن مسلمہ '' نے پھر چال چلی اور کہا'' کعب ہم یہ طعنہ نہیں سن سکتے کہ کوئی ہم پر انگلی اٹھاۓ اور یہ کہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہوں نےتھوڑے سے غلے کے بدلے اپنے بیٹے رہن رکھ دیے - اس لیے تم ایسا کرو کہ ہمارے ہتیار اپنے پاس رکھ لو -- گو کہ ہمیں انکی اس وقت اشد ضرورت ہے'' - وہ راضی ہو گیا - '' سیدنا محمّد بن مسلمہ '' کا یہ منصوبہ کامیاب ہوا کیوں کہ اب انکو یقین تھا کہ جب وہ ہتیاروں سے لیس ہوکر اسکو قتل کرنے اسکے گھر یعنی '' قلعہ کعب بن اشرف '' آیئں گے تو اسکو رتی برابر شک نہ ہو گا کہ وہ اسکو قتل کرنے آیے ہیں بلکہ وہ سمجھے گا کہ وہ ہتیار رکھوانے آیے ہیں -

اس کے کچھ دنوں بعد '' سیدنا ابو نائلہ '' جو کعب کے رضائی بھی تھے ، انہوں نے بھی ایسا ہی حربہ استمعال کیا اور اس سے کہا کہ [ معاذ الله ] ہم تو اس دین میں صدقہ کر کر کے سب غلہ استمعال کر چکے ہیں اور میرے ساتھہ تین ساتھی اور ہیں جو ہتیاروں کے بدلے تم سے غلہ لینا چاہتے ہیں - کعب اپنی کامیابی پر خوش تھا - اسنے سب سے ہتیاروں کے بدلے غلہ دینے پر آمادگی ظاہر کردی -

جس دن یہ معرکه سر کرنا تھا رسول الله صلی الله علیہ وسلم 
'' جنت البقع '' تک اپنے ان سپاہیوں کو چھوڑنے آیے اور انکے لیے دعا کی - گویا یہ مہم ایک '' سریہ '' کی مانند تھی - سریہ ایسی جنگ کو کہتے ہیں جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حکم پرلڑی جاتی ہے لیکن اس میں آپ صلی الله علیہ وسلم بنفس نفیس خود شریک نہیں ہوتے - 

رات کا وقت تھا - چاند پوری اب و تب سے چمک رہا تھا - قلعہ کعب بن اشرف پہنچنے کے بعد انکے رضائی بھائی 
'' سیدنا ابو نائیلہ '' نے اسکو آواز دی - کعب کی بیوی نے جس سے اسکی نئی نئی شادی ہوئی تھی اسکو بہت روکا لیکن وہ یہ کہ کر باہر آ گیا کہ مجھہ سے ابو نائیلہ کا گہرہ یارانہ ہے - 

تھوڑی دیر اسنے ان پانچوں سے گپ شپ کی تب وہ مدینہ میں موجود ایک مقام '' شعب الاجوز '' کی جانب چال دیے - راستے میں ابو نائلہ نے اسکے بالوں میں ہاتھہ پھرتے ہوے اسکو خوش کرنے کے لیے کہا '' میں آج تک ایسا خوشبودارعطر نہیں دیکھا جو کعب نے لگایا ہوا ہے - کعب خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا - دو تین مرتبہ ایسا ہی کرنے کے بعد اسکے بالوں کو مضبوطی سے جکڑ کے کھنچا اور ہتیاروں سے لیس دوسرے صحابہ اکرم نے چشم زدن میں اس گستاخ رسول کی گردن سر سے جدا کردی - کعب کی دلخراش چیخ سے اسکے قبیلے کے لوگ باہر نکل آیے لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے یہ پانچوں جانثار اسکا سر لیے کر دوسرے راستے سے '' جنت البقیع '' تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیے - یہاں پہنچ کر ان جانثاروں نے نعرہ تکبیر بلند کیا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس وقت الله کی بارگاہ میں سربسجود تھے اور کامیابی کے لیے الله کریم سے التجائیں کر رہے تھے - جب آپ نے نعرہ تکبیر سنا تو آپکو یقین ہوگیا کہ مہم کامیاب ہوگئی
ہے - 

ان پانچوں کامیاب جا نثاروں نے گستاخ اور شریر '' کعب بن اشرف '' کا سر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے قدموں میں رکھ دیا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کامیابی پر الله کا شکر ادا کیا -

اھلا'' کے فورم سے اس سوال کے ساتھہ جو تصویر اوپر دی گئی ہے یہ اسی بدبخت انسان '' کعب بن اشرف '' کے قعلے کے کھنڈرات کی تصویر ہے جو آج ایک مقام عبرت سے زیادہ کچھ نہیں -


LIST PAGE
Previous Page

Next Page