REMOVE CONFUSION 
WHY PART OF 
GREEN DOME RAISED



گنبد خضرا پر یہ ابھار کیوں ہے - اس کے متعلق مختلف لوگوں کی مختلف آرا ہیں - آیے ذرا اس پر روشنی ڈالتے ہیں اور اپنی ناقص عقل سے کچھہ سمجھنے کو کوسش کرتے ہیں اس بات کو تسلیم کرتے ہوے کہ ہر چیز کا  سب سے اچّھا اور  مکمل علم صرف الله سبحان ا تعالی کو ہی ہے -







اس اہم سوال کا جواب دینے سے پہلے مجھے ایک بات تسلیم کر لے نے دیجے ک
ہ

     " ہر چیز  کا علم اور سب سے بہترین علم الله رب العزت ہی

       کے  پاس ہے اور وہی علم الغیب ہیں  - اور ہم اس حساس 
       سوال  میں جو کچھ بھی جاننے کی  کوشش کر رہے ہیں 
       اسمیں   ہم سب کا مقصد نیک نیتی پر مبنی ہی - 
  رب کائنات ہم  ناقص العقل ہیں - ہم جاننا ضرور چاہتے ہیں لکن رب  العزت آپکی غیب کی باتوں میں دخل اندازی کرنا ہمارا ہرگز 
        مقصد نہیں . رب العلمین ہم سب کو آپ  اپنے غیض و غصہ 
        سے ہمیشہ محفوظ فرمائیں-آمین  "

----------------------------------------------------------------------------------------

گنبد خضرا پر جو ایک ابھار  سا نظر آ رہا ہے اس کے متعلق دو خیالات کے  لوگ پایے جاتے ہیں - پہلے دونون تصورات کے بارے میں تھوڑا سا جان لیں :-
پہلا تصور

----------- 

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ میں کسی انسان نے گنبد خضرا کو  معاذ الله شہید کرنے کا ارادہ کیا اور وہ اس مقام پر اس بد ارادے سے پہنچا مگر ایک تیز بجلی کی کوند نے اس انسان کو موت کے گھاٹ اتر دیا اور جب اسکی لاش وہاں سے ہٹائی جانے لگی تو ایسا نہ ہوسکا - پھر ایک بزرگ شخص کے خواب میں یہ آیا کہ  
اس انسان کی اس  ہی   مقام پر قبر بنا دی جایے تا کہ یہ سب کے لیے  عبرت کو پاعت بن جاتے اور آیندہ کوئی اسی جرات  دوبارہ نہ کر سکے - اسکے بعد اس انسان کی وہیں قبر بنا دی گیئ اور اس پر سبز رنگ کر دی یا گیا -(و الله ا عالم
با الصواب )


دوسرا تصور
---------------
ایک دوسرا طبقہ نے جو یہ خیال کرتا ہے کہ  رسول الله صلی الللہ علیہ وسلم کےوصال  مبارک کے بعد ایک مرتبہ جب مدینہ میں قحط پڑا تو صحابہ اکرام اماں بی بی عائشہ کی خدمات میں حاضر ہوے اور مدینہ کی خشک سالی سے لوگوں کی پریشانی کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا -  "  رسول الله صلی الللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اور آسمان کے درمیان جو روضۂ اقدس کی چھت حائل ہے اسمیں ایک سوراخ بنادو - "  نوگوں نے اسوقت کی چھت جو کھجور کی ٹہنیوں سے بنی تھی اسمیں ایک روشن دان  سا  بنادیا -اور پھر مدینہ میں خوب بارش ہوئی - اور آج کے گنبد خضرا پر جو یہ ابھار ہے یہ اسی  روشندان کی نشان دیہی کرتا ہے -(و الله عالم با الصواب )-


اب ایک حقیقت ملاحظہ فرمائیں 

-----------------------------------

گنبد خضرا کی تعمیر تو ١٢٣٣ ہجری میں ہوئی - ظاہر ہے یہ صحابہ کے دور کے  بہت بعد کی بات ہے - لیکن اس سبز گمبد  سے پہلے تین اور گمبد روضہ مبارک پر بنے جو کبھی بھی توڑے نہیں گئی بلکہ ایک کہ اوپر دوسرا گمبد بنتا گیا - سب سے پہلا گمبد ٦٧٨ ہجری میں تعمیر ہوا جسے " قبہ الرزاق " کہا جاتا تھا - اس کے بعد ایک نیلا گمبد اس پر تعمیر ہوا پھر تیسرا ایک سفید گمبد تعمیر ہوا اور اسکے بعد موجودہ سبز گمبد تعمیر ہوا- اھلا '' کی پچھلے کسی سوال میں ان گنبدوں کے بارے میں بیان کیا جا چکا ہے کہ جب بھی   نیا گمبد بنایا جاتا تو پرانا توڑا نہی جاتا تھا بلکہ ایک کے اوپر دوسرا گمبد بنا دیا جاتا تھا -
اب آپ ایک تصویر دیکھیں  جس سے یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ یہ روشن دان صرف سبز گمبد پر ہی موجود نہیں ہے بلکہ اس کے نیچے جو گمبد  ہے اسپر بھی ایک روشن دان موجود تھا - اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بی بی   عائشہ کے حکم  کی تعمیل میں روضہ اقدس کی  کھجور کی ٹہنیوں سے بنی  چھت پر جو روشن دان بنایا گیا تھا ، وہ سنت  ان گمبدوں پربھی  قائم  رکھی گئی -


The present window on green dome is at no.1
and the window on inner dome is at no.2

نتیجہ کیا اخذ کیا جا سکتا ہے 
----------------------------------
وہ لوگ جو اس مقام کو ایک قبر کا مقام  قرار دیتے ہیں وہ پہلے ان دو تصاویر کو دیکھیں جو ایک کافی پرانی ہے اور ایک موجودہ دور کے ہی  اور تقریبا '' ایک ہے زاویہ سے لی  گئی  ہیں - ان دونون  تصاویر میں وہ مخصوص ابھار صاف نظر آرہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ  ابھار کوئی نیا نہیں ہے - پرانی تصویر  سعودی حکمرانوں کے دور سے پہلے کی ہے  



oNEW
OLD 

ان تمام باتوں کہ علاوہ ایک بات اور---- روضہ اقدس پر قبر والی بات کسی مستند کتاب میں نہیں لکھی ہوئی ہے اور جب سے انٹرنیٹ عام ہوا ہے، یہ بات لوگوں تک پوھنچی ہے - اگر کوئی مستند کتاب کے بارے میں اپ جانتے ہوں  تو ضرور مطلع کریں
خواہ کسی بھی مکتب فکر کی ہو - 

اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی جو صرف عقلی بنیاد پر کی جاسکتی ہے کہ ایک ایسا  انسان جو گنبد اقدس کو نقصان پہچانا چاھتا ہو اسکی آخری آرام گاہ  اس مقام مبارک  پر بنے  - لیکن اگر ایک  لمحے کو یہ درست بھی تصور کر لیا جایے تو پھر بات یہاں آ کر رک جاتی ہے کہ اس انسان نے اپنی ذاتی حیثیت  میں تو ظاہر ہے گمبد کو شہید کرنے کا ارادہ نہیں کیا ہو گا - بلکہ اس نے یہ عمل ارباب  اختیار کے حکم پر کیا ہوگا - تو پھر حکمران عذاب سے کسے بچ گے- اصل قصور وار تو حکمران ٹھرتے -

ان سب حقایق کو جاننے کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ گمبد خضرا پر  بنا  یہ ابھار  ایک روشندان ہے جو ہوا اور روشنی کے لیا بنایا گیا تھا اور کعبہ مشرفہ کی چھت پر بھی ایک  ایسا ہی روشندان اس مقصد کے لیے بنا ہوا ہے - اس کے علاوہ یہ روشندان امان بی بی  عائشہ کے حکم کی تعمیل کی یاد بھی دلاتا ہے -

گمبد خضرا کا یہ روشندان ابتدئی دور میں  کھلا بھی رہتا تھا لیکن  روضہ اقدس کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے  پرندوں, خاص کر حرم کے کبوتروں  سے اسے  پچانے کے لیے  بند کر دیا گیا ہے -


آخر میں ، میں رفرنس کے لیے دو لنک دونگا ان میں سے پہلا ریفرنس ہمارے ایک مکّہ کے عربی دوست کا ہے جن کا آبائی شہر مکّہ مکرمہ ہے اور وہ ہمیشہ سے وہاں آباد ہیں  ، انہون نے بھی اس مقام ، کی تصویر دیتے ہوتے بی بی عائشہ والی
 
روایت بیان کی ہے-
(یہ عربی  زبان میں ہے)


 جبکہ دوسرا ریفرنس ایک فقہ  جعفریہ کی ویب سائٹ سے ہے جس میں  اس مقام  کو  یہ کہتے ھوے ایک روشندان  ہی قراردیا گیا  ہے"  کہ جسا کہ اندر کے گمبد میں روشندان ہے ویسا ہی اسکی سیدھ میں یہ گمبد خضرا پر بھی روشندان بنا ہوا
 ہے -"


http://www.facebook.com/photo.php?fbid=1141659956999&set=a.1141653916848.15441.1692476229&theater


http://www.shiachat.com/forum/index.php?/topic/234977025-inside-prophetss-grave/page__st__25\


LIST PAGE
Previous Page

Next Page