TALHA (r.a) WELL
OR
BEER-E-HAA

'' بیر حا ''
===============


موجودہ مسجد النبوی صلی الله علیہ وسلم کے ایک مرکزی دروازے ''باب فہد بن عبد العزیز '' سے اندر داخل ہوا جایے تو لال قالینوں کا ایک نہ روکنے والا سلسلہ آنکھوں کے سامنے موجود ہوتا ہے جو قبلہ رخ امام مسجد النبوی شریف کی محراب جسے '' محراب عثمانی کہتے ہیں ، پر جا کر ختم ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ھوتا ہے کہ اس مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کا بعد جب وہ آگے کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں تو کچھہ فاصلے پر وہ ایک ایسے مقام پر موجود ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک ایسا روحانی پہلو رکھتا ہے کہ اگر عشاق رسول صلی الله علیہ وسلم کو اسکا علم ہو تو وہ کچھہ ساعتیں یہاں رک کر اسکی زیارت کو اپنے لیے باعت شرف و صد افتخار سمجھیں گے کیوں کہ یہ وہ مقام با برکت ہے جس نے کئی مرتبہ رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کے قدمیں مبارک کو بوسہ دینے کا اعزاز لا فانی حاصل کیا - ہوسکتا ہے آپ اس مقام پر موجود قالین کے اوپر نماز بھی ادا کر لیں کیوں کہ یہاں فرض نمازوں کی صفیں بنتی ہے لیکن کیا کریں کہ یہ مقام قالینوں نے چھپا دیا ہے - 

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ کے وقت مسجد النبوی کی حدود بہت مختصر تھیں اور ظاہر ہے کہ یہ مقام مبارک مسجد النوی شریف کے کافی باہر تھا جہاں مدینہ کے لوگوں کے مکانات ، کنویں اور باغات ہوا کرتے تھے -

اس تصویر میں لال تیر کی مدد سے جس دایرے کی جناب اشارہ کی جا رہا ہے یہ در اصل ایک صحابی سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس کنویں کا مقام ہے جسے '' بیر حا '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے - اس کنویں کا پانی بہت خوش زایقه اور شیریں تھا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم اکثر اس کنویں پر تشریف لاتے تھے اور اس کا پانی نوش فرماتے تھے - یہ کنواں اور اس کے ارد گرد سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کا ایک باغ تھا جو انکو بہت زیادہ محبوب تھا کیوں کہ پورے مدینہ المنوره اتنا خوبصورت باغ کسی اور کا نہیں تھا لیکن جب رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم پر ''سوره ال عمران '' کی آیت ٩٢ نازل ہوئی - ) جو میں نے تصویر پر کنویں کے نشان کے پاس لکھہ دی ہے جس کا ترجمہ ہے :-


'' جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو الله کی راه میں 

خرچ نہیں کرو گے ' ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے '' 

( کچھہ کتابوں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ آیات بھی اسی مقام پر نازل ہوئی تھیں یعنی اس کنویں یا باغ کے قریب - واللہ اعلم - ) 

تو ان آیات کو سن کر سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا '' یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے - میں آپکو گواہ کرتا ہوں میں نے اسے الله کی راہ میں صدقه کیا ' الله تعالی مجھے بھلائی عطا فرمائیں اور اپنے پاس اسے میرے لیے ذخیرہ کریں - آپکو ( رسول الله صلی الله علیہ وسلم) اختیار ہے آپ صلی الله علیہ وسلم جس طرح چاہیں اسکو تقسیم کر دیں ''

آپ صلی الله علیہ وسلم آپکے اس طرز عمل سے بہت خوش ہوے اور فرمانے لگے '' مسمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا ' تم اسے اپنے رشتے داروں میں تقسیم کردو - '' چنانچہ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے اسے اپنے رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا '' 

سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس واقعہ کے 
اور قرانی آیت کے نزول کے تناظر میں اس مقام کی زیارت کی جایے تو یقینا'' دلوں کو روحانی سکوں ملتا ہے -

- آپکو اھلا'' کے اس چھوٹے سے فورم سے جس مقام مقدس کی زیارت کرائی گئی ، اگر آپکو اچھی لگی ہو تو ایک دعا خیر اس احقر اور خاکی کے لیے بھی ضرور کیجیے گا - جزاک الله خیرا'' -

yeh muqam apko bhi mil sakta hay agar aap masjid alnabvi shareef main '' bab fahd '' say dakhil hon orr qalinoon kay sath jo SHOES '' rakhnay walay recks rakhain in main reck number 41 hay sath banay sutoon kay sath yeh muqn hay - apko tasweer main reck nazar aa raha hay
==========================

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE