MASJID E TAUBA
TABUK BATTLE SPOT






Muhammad s.a.w.w stayed for 20 days in Tabuk city at time of Ghazwah Tabuk and offered Salaah ,where Masjid Taubah is currently present .


رجب 9 ھ مطابق 630ء میں مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ شام کے عیسائی ہرقلکی مدد سے مدینے پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ یہ افواہ پھیل گئی کہ ہرقل قیصر روم نے چالیس ہزار ہتھیار بند فوج بھیج دی ہے۔ رسول اللہ نے تیاری کا حکم دیا۔ ان دنوں عرب میں سخت قحط تھا اور گرمی بھی شدید تھی ۔ منافقوں نے اسے بہانہ بنا کر انکار کر دیا۔ وہ مسلمانوں کو بھی بہکانے لگے مگر مسلمانوں نے کمال وفاداری کا ثبوت دیا۔ اور جو کچھ ہو سکا حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔ رسول پاک تیس ہزار جان نثار غلاموں کے ساتھ مدینے سے روانہ ہوئے۔ تبوک کے مقام پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ حملے کی خبر غلط تھی۔ حضور نے وہاں چند دن قیام فرمایا اور اردگرد کے عیسائی حکمرانوں کو مطیع بنا کر واپس تشریف لے آئے۔ یہ غزوہ تبوک کے نام سے مشہور ہے۔

MASJID TAUBA OUTER LOOK AT TABUK
BATTLE FIELD

تبوک مدینہ کے شمال میں سرحد شام پر ایک مقام کا نام ہے، شام اس وقت رومی مسیحیوں کی حکومت کا ایک صوبہ تھا، رسول کریم ﷺ 8ھ ہجری میں جب فتح مکہ اور غزوہ حنین سے فارغ ہو کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اُس وقت جزیرۃ العرب کے اہم حصے اسلامی حکومت کے زیر نگیں آچکے تھے، اور مشرکینِ مکہ کی ہشت سالہ مسلسل جنگوں کے بعد اب مسلمانوں کو ذرا سکون کا وقت ملا تھا۔

مگر جس ذات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی لیظھرہ علی الدین کلہ، نازل فرما کر پورے عالم کی فتوحات اور اس میں اپنے دین حق کو غالب کرنے کی بشارت دیدی تھی اس کو اور اس کے رفقاء کار کو فرصت کہاں، مدینہ پہونچتے ہی ملکِ شام سے آنے والے تجارت پیشہ لوگ جو ش ام سے زیتون کا تیل لر کر مدینہ وغیرہ میں فروخت کیا کرتے تھے ان لوگوں نے یہ خبر پہنچائی کہ شاہ روم ہرقل نے اپنی فوجیں مقامِ تبوک مین سرحد شام پر جمع کردی ہیں، اور فوجیوں کو پورے ایک سال کی تنخواہیں پیشگی دے کر مطمئن اور خوش کردیا ہے، اور عرب کے بعض قبائل سے بھی ان کی سازباز ہے، ان کا تہیہ یہ ہے کہ مدینہ پر یکبارگی حملہ کریں۔

جب رسول کریم ﷺ کو اس کی اطلاع پہونچی تو آپ ﷺ نے یہ ارادہ فرمالیا کہ ان کے حملہ آور ہونے سے پہلے پیش قدمی کر کے وہیں۔ مقابلہ کیا جائے جہاں ان کی فوجیں جمع ہیں۔ (تفسیر مظہری بحوالہ محمد بن یوسف صالحی)

یہ زمانہ اتفاق سے سخت گرمی کا زمانہ تھا، اور مدینہ کے حضرات عموماََ زراعت پیشہ لوگ تھے، ان کی کھیتیاں اور باغات کے پھل پک رہے تھے جس پر ان کی ساری معیشت اور پورے سال کے گزارہ کا مدار تھا، اور یہ بھی معلوم ہے کہ جس طرح ملازمت پیشہ لوگوں کی جیبیں مہنہ کے آخر دنوں میں خالی ہو جاتی ہیں اسی طرح زراعت پیشہ لوگ فصل کے ختم پر خالی ہاتھ ہوتے ہیں، ایک طرف افلاس دوسری طرف قریب آمدنی کی امید، اس پر مزید موسم گرما کی شدت اس قوم کے لئے جس کو ابھی ابھی ایک حریف کے ساتھ آٹھ سال مسلسل جنگوں کے بعد زرا دم لینے کا موقع ملا تھا، ایک انتہائی صبر آزما امتحان تھا۔

مگر وقت کا تقاضا تھا، اور یہ جہاد اپنی نوعیت میں پہلی سب جنگوں سے اس لئے بھی ممتاز تھا کہ پہلے تو اپنی ہی طرح کے عوام سے جنگ تھی، اور یہاں ہرقل شاہ روم کی تربیت یافتہ فوج کا مقبلہ تھا، اس لئے رسول کریم ﷺ نے مدینہ طیبہ کے پورے مسلمانوں کو اس جہاد کے لئے نکلنے کا حکم دیدیا، اور کچھ آس پاس کے دوسرے قبائل کو بھی شرکتِ جہاد کے لئے دعوت دی تھی۔
یہ اعلانِ عام اسلام کے فدا کاروں کا ایک سخت امتحان تھا، اور منافق دعویداروں کا امتیاز بھی، اس کے علاوہ لازمی نتیجہ کے طور پر اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کے مختلف حالات ہوگئے، قرآن کریم نے ان میں سے ہر حالت کے متعلق جُدا جُدا ارشاد فرمائے ہیں۔

ایک حالت ان کامل مکمل حضرات کی تھی جو بلا تردد جہاد کے لئے تیار ہوگئے ، دوسرے وہ لوگ جو ابتداء کچھ تردد کے بعد ساتھ ہوگئے، ان دونوں طبقوں کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا الدین اتبعوہ فر ساعۃ العسرۃ من بعد ما کاد یز یغ قلوب فریق منھم۔ یعنی وہ لوگ قابلِ مدح ہیں جنھوں نے سخت تنگی کے وقت رسول کریم ﷺ کا اتباع کیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک فریق کے قلوب لغزش کرنے لگے تھے۔

تیسری حالت ان لوگوں کی تھی جو کسی صھیح عذر کی بناء پر اس جہاد میں نہ جاسکے ، اس کے متعلق قران کریم نے آیت لیس علی الضعفاء ولا علے المر ضیمیں ان کے عزر کی قبولیت کا اظہار فرمایا۔

چوتھی قسم ان لوگوں کی تھی جو باوجود کوئی عذر نہ ہونے کے کاہلی کے سبب جہاد میں شریک نہیں ہوئے، ان کے متعلق کئی آیتیں نازل ہوئیں۔
اور

اخرون مرجون لا مراللہ

اور

وعلی الثلثۃ الذین خلفو الا

یہ تینوں آیتیں ایسے ہی حضرات کے بارے میں نازل ہوئی، جن میں ان کی کاہلی پر زجر و تبنیہ بھی ہے اور بالآ خر ان کی توبہ کے قبول ہونے کی بشارت بھی۔

پانچواں طبقہ منافقین کا تھا جو اپنے نفاق کی وجہ سے اس سخت امتحان میں اپنے نفاق کو چھپا نہ سکا، اور شرکت جہاد سے الگ رہا، اس طبقہ کا ذکر بہت سی آیات میں آیا ہے۔

چھٹا طبقہ ان منافقین کا تھا جو جاسوسی اور شرارت کے لئے مسلمانوں کے ساتھ ہولیا تھا ان کے حالت کا ذکر قرآن کریم کی ان ایات میں ہے:

وفیکم سمعون لھم

ولئن سالتھم لیقولن

وھموابما لم ینالوا۔
لیکن اس ساری سختی اور تکلیف کے باجود شرکتِ جہاد سے باز رہنے والوں کی مجموعی تعداد پھر بھی برائے نام تھی، بھاری اکثریت انھی مسلمانوں کی تھی جو اپنے سارے منافع اور راحت کو قربان کر کے اللہ کی راہ میں ہر طرح کی مشقت برداشت کرنے کے لئے تیار ہوگئے، اسی لئے اس جہاد میں نکلنے والے اسلامی لشکر کی تعداد تیس ہزار تھی، جو اس سے پہلے کسی جہاد میں نظر نہیں آئی۔
نتیجہ اس جہاد کا یہ ہوا کہ جب ہرقل شاہِ روم کو مسلمانوں کی اتنی بڑی جمعیت کے مقابلہ پر آنے کی خبر پہونچی تو اس پر رعب طاری ہوگیا، مقابلہ پر نہیں آیا، رسول رکرم ﷺ اپنے فرشتہ خصلت صحابہ کرامؓ کے لشکر کے ساتھ چند روز محاذ جنگ پر قیام کر کے جب مخلاف کے مقابلہ پر آنے سے مایوس ہوگئے تو واپس تشریف لے آئے۔
(معارف القرآن جلد 4 صفحہ 376، سورہ توبہ: آیت 42)



NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE