حجرہ مبارک

 
ام المومینین سیدہ حفصہ رضی الله تعالی عنہا


----------------------------




سوال 
====
اس مقام کو کون مسلمان ہے جو نہیں جانتا ہوگا - یہ ہمارے پیارے نبی کریم آقا دو جہاں صلی الله علیہ وسلم کا دربار اقدس ہے جہاں آپ مجسم موجود ہیں اور آپکے عاشقان ہر وقت ان جالیوں کے سامنے عجز و انکساری سے درود اور سلام کے ہدیے آپکی خدمت اقدس میں پیش کر تے رہتے ہیں - 

مرد حضرت تو اس جانب سے آپ صلی الله علیہ وسلم پر درود اور سلام عرض کرتے ہیں لیکن خواتین باوجود اسکے کہ انکو اس جانب آنے کی اجازت نہیں ، وہ بھی اس مقام کو خوب جانتی اور پہچانتی ہیں - 

اس تصویر میں ، میں نے چھوٹے سے تیر سے جالی اقدس رسول صلی الله علیہ وسلم میں بنے اس بڑے دایرے کی نشان دہی کی ہے جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی قبر مبارک شریف کے عین سامنے ہے جبکہ نیلے تیر سے میں نے مسجد نبوی کے دروازے باب بقیع کو ظاہر کیا ہے جو اس وقت تو بند ہے لیکن عاشقان رسول صلی الله علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر درود و سلام کے نذرانے نچھاور کر کے اسی دروازے سے باہر نکل جاتے ہیں - 

لیکن شاید کم ہی لوگوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ جب وہ جالی روضۂ اقدس رسول صلی الله وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر درود و سلام عرض کر رہے ہوتے ہیں تو وہ حقیقت میں کس مقام پر موجود ہوتے ہیں - اس تصویر میں اس مقام کو اورنج چوکور خانے سے ظاہر کیا گیا ہے - یہ مقام بھی بہت مقدس ہے اور اسکی اصلیت جاننا بھی آپ کا حق ہے - 

جواب 
=======
یہ بات تو سب کے علم میں میں ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جس حجرے میں آرام فرما رہے ہیں یہ آپکی چہیتی زوجہ سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا کا حجرہ مبارک ہے جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم وصال مبارک سے قبل آپ کے ساتھہ رہا کرتے تھے اور اس حجرے کے اطراف میں آپکی دیگر ازواج مطہرات کے حجرے بھی تھے - اس وقت بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا جو خلفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی بیٹی بھی تھیں ، کے حجرے کے سامنے ایک پتلی سی گلی تھی اور ساتھہ ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کی ایک اور محبوب زوجہ سیدہ حفصہ رضی الله تعالی عنہا جو خلیفہ دوم سیدنا عمررضی الله تعالی عنہ کی بیٹی تھیں کا حجرہ تھا - گویا یہ دونوں حجرے انتہائی قریب تھے - اورنج چوکور خانہ سیدہ حفصہ رضی الله تعالی عنہا کے حجرے مبارک کی نشان دہی کر رہا ہے 

وصال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا کے حجرہ مبارک میں مدفون ہوگیے اور یوں یہ حجرہ قیامت تک کے لیے امر ہوگیا لیکن بی بی حفصہ رضی الله تعالی عنہا کا حجرہ مبارک بھی اس لحاظ سے تاریخی حیثیت اختیار کر گیا کہ انشااللہ قیامت تک اس مقام پر کھڑے ہوکے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم درود اور سلام کے ذکر سے فضاؤں کو معطر کرتے رہیں گے - لیکن تف ہے ہم کم عقلوں پر جو بی بی حفصہ کے حجرہ مبارک کی جگہہ کھڑے ہوکر اس مقام کے تقدس پر چند آنسوں بہانے کے بجایے آج کل سیلفیاں بنواتے نظر آتے ہیں - یہ بہت قیمتی مقامات ہیں اور ان کا تقدس ہمارا ایمان ہونا چاہیے - 

ام المومینین سیدہ حفصہ رضی الله تعالی عنہا کے بارے میں اس تفصیل کو بھی ضرور پڑھیں - 
حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج میں سے ایک تھیں۔آپ بعثت نبوی سے 5 سال قبل پیدا ہوئیں - آپ رضی اللہ عنہا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب بنت مظعون تھا۔ عثمان بن مظعون کی بہن تھیں -آپ پڑھی لکھی اور حافظ قرآن تھیں۔ زید بن ثابت نے قرآن کا جو نسخہ جمع کیا تھا وہ حضرت حفصہ کے پاس امانت رکھا تھا۔ حضرت عثمان نے اسی نسخے کی نقلیں کراکے دوسرے مقامات کو بھیجیں۔

ماں باپ اور شوہر کے ساتھ اسلام قبول کیا ہجرت اپنے پہلے شوہر خنیس بن خذافہ کے ساتھ کی غزوہ بدر میں آپکے شوہر زخمی ہوئے انہی کی وجہ سے شہادت پائی - ن کی پہلی شادی خنیس بن خذافہ سے ہوئی جو خاندان بنو سہم سے تھے۔حضرت حفصہ نے ان کے ساتھ مدینہ ہجرت کی۔ غزوہ بدر میں خینس نے زخم کھائے اور مدینہ واپس پہنچ کر شہادت پائی۔ 3 ھ میں حضرت حفصہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حبالۂ عقد میں آئیں۔ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔

حضرت حفصہ امیر معاویہ کے عہد خلافت میں شعبان45ھ ( 665ء ) مدینہ میں وفات پائی۔مروان گورنر مدینہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
=========================

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE