مقام شہادت سیدنا عمر

SPOT WHERE SYEDNA UMER RADI ALLAH HO TALLA ANHO
WAS ASSASSINATED DURING FAJIR PRAYER IN MASJID ALNABVI
SHAREEF

 

زیر نظر تصویر مسجد النبوی میں ریاض الجننہ میں محراب النبوی صلی الله علیہ وسلم سے آگے پہلی اور دوسری صف کے سنگم پر ہے جہاں سرخ رنگ کے کارپیٹ بچھے رہتے ہیں اور اس مقام سے محراب عثمانی صاف نظر آ ر ہ ہے جہاں آج کل امام صاحب کھڑے ہوکر فرض نمازوں کی امامت کرتے ہیں - اس مقام کو میں نے لال تیر سے ظاہر کیا ہے - 

زیر نظر تصویر اصل میں دو تصاویر ہیں - اوپر والی تصویر میں زمین پر لال کارپیٹ بچھے ہوے ہیں اور میں نے ان کارپیٹ پر چوکور خانے سے اس مقام کی نشاندھی کی ہے جو بہت ہی دلگداز اور دلوں کو مغموم کرنے والا مسجد النبوی کا گوشہ ہے - گو کہ یہ خطہ دلوں کو رلاتا ہے اور اس کی زیارت سے دلوں میں ایک ایسی پھانس گڑ جاتی ہے کہ جب اس کا خیال آتا ہے تو قلوب میں اس کی چبھن کا احساس قوی سے قوی ہونے لگتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ حصہ متبرک ہے - نہ جانے کتنے لوگ روز انہ فرض نمازوں اور نفل نمازوں کے دوران اس مقام پر اپنی جبینیں الله سبحان تعالی کے سامنے سجدہ ریز کرتے ہیں لیکن اگر انکو علم ہو جایے کہ یہ کون سا اعلی مقام ہے تو انکی آنکھوں سے سیل بے رواں کا بہنا نہ گزیر ہوجایے اور وہ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگیں -

نیچے والی تصویر بھی اسی مقام کی ہے مگر اس وقت کارپیٹ اس مقام سے ہٹا ہوا ہے اور تیر سے نہات وضاحت سے مسجد النوی کے فرش پر اس مقام متبرک کی نشان دہی کی جارہی ہے - 
حدیث پاک میں ہے کہ رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا--- ''کیسا رہے گا اگر میں مسجد نبوی کو کو قبلہ رو وسیع کر دوں اور یہ کہتے ہوے آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے قبلہ رو اشارہ فرمایا تھا -
سینا عمر رضی الله تعالی عنہ نے اپنے دور حکومت میں اس حکم کی تعمیل فرمائی اور مسجد النبوی کو قبلہ رخ اتنا بڑھایا جو آپکو اس تصویر میں نظر آرہا ہے - گویا سینا عمر رضی الله تعالی عنہ کے دور میں امام صاحب کے کھڑے ہونے کی جگہ یہی مقرر ہوئی - یہ میرے علم نہیں کہ یہاں کوئی محراب بنائی گئی تھی یا نہیں . تا ہم یہ یہ ضرور ہے کہ یہی وہ مقام تھا جہاں سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ نمازوں کی امامت کرتے تھے -

اور پھر اسلامی تاریخ کا دلوں کو رلا دینے والا واقعہ اس مقام پر. جس کی تصویر آپکو کو نظر آ رہی ہے . وقوع پزیر ہوا جب 7 نومبر 644ء، بمطابق 26 ذوالحجہ 23ھ کو عین فجر کی نماز کے وقت امامت کے فرائض کے دوران سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ پر چپکے سے ایک غلام ابو لولو فیروز نے مسجد نبوی میں خنجر سے حملہ کیا اور تین جگہ وار کیے- ایک مقام پر چھہ وار کا ذکر بھی ہے ۔ آپ ان زخموں سے جانبر نہ ہوسکے اور دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ اف کس قدر بد قسمت تھا ابو فیروز لولو جو محسن امّت اور یار نبی صلی الله علیہ وسلم کی قدر و قیمت کو نہ جان سکا - اور یوں مسجد النبوی کا یہ گوشہ عاشقان عمر رضی الله تعالی عنہ کے لیے ہمیش کے لیے امر ہوگیا - لیکن مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے زایرین اس کی زیارت اور لطافتوں سے محروم رہتے ہے -

بعد میں صحابہ اکرم نے ابو لولو فیروز کو بھی وہیں موقع پر جہنم واصل کر دیا - 

شہادت کا پورا واقعہ چاہیں تو درج ذیل میں پڑھ لیں =
===================================
مدینہ منورہ میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک مجوسی علام فیروز تھا جو کے ابو لولو کی کنیت سے مشہور تھا۔ ایک دن وہ مغیرہ رضی اللہ عنہ کی شکایت لے کے آیا کہ میرا مالک مجھے سے زیادہ محصول لیتا ہے آپ کم کرائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رقم دریافت کی تو اس نے جواب دیا دو درم روزانہ۔ آپنے اسکا پیشہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ آہنگری اور نقاشی کا کام کرتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو یہ رقم زیادہ نہیں۔ ابو لولو یہ سن کے بہت غصے میں آیا اور وہاں سے چل دیا۔
دوسرے دن جب فجر کی نماز کی امامت شروع کی آپ نے تو اس ملعون نے آگے بڑھ کے خنجر سے تابڑ توڑ 6 وار کئیے۔ جس میں سے ایک وار ناف کو چیرتا ہوا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فورا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کھینچ کے آگے امامت میں کردیا اور خود زخموں کی شدت سے بے ہوش ہو کے گر پڑے۔
ملعون ابو لولو مسجدِ نبوی سے بھاگا لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی جس میں بہت صحابی زخمی اور ایک صحابی کلیب بن ابی بکیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ اس سے پہلے کے گرفتار ہوتا اس نے خود کشی کر لی اور یوں نامراد ٹھرا۔

فورا نماز ختم ہوتے ہی طبیب کو بلایا آپ رضی اللہ عنہ جیسے ہی ہوش میں آئے تھوڑے تو عظمت دیکھیں کہ یہ پوچھا کی کسی مسلمان نے تو حملہ نہیں کیا۔ بتلایا گیا نہیں ملعون مجوسی ابو لولو نے کیا تو فورا کہا الحمد اللہ مجھے کسی مسلمان نے نہیں مارا۔
زخموں کی شدت کچھ ایسی تھی کے جب کچھ کھلایا پلایا جاتا تو ناف والے زخم سے خوراک انتڑیوں سے باہر نکل جاتی اس طرح کی حالت دیکھ کے لوگ غمزدہ ہو گئے اور ساتھ ہی آپ سے اپنا جانشین مقرر کرنے کو بھی کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحٰمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ ، طلحہ رضی اللہ عنہ ، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو طلب کر کے یہ ذمہ داری ان پہ سونپی اور اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پیغام بھجوایا کہ ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت طلب کرو۔کیا مقام کیا عزت تھی انکی نبی پاک ﷺ کے گھرانے کے لئیے کہ اجازت مانگ رہے دفن کے لئیے بھی۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئیے رکھی تھی لیکن میں فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو اپنی ذات پہ ترجیح دیتی ہوں ۔یہ خبر سن کے آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کا شکر ادا کیا کے ان کی خواہش پوری ہوئی اور آخر یکم محرم الحرام اور بعض کے مطابق دوم محرم کو آپ شہادت کا جام نوش کرتے ہوے اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے اور ہمیشہ کے لئے حیات ہو گئے۔ آپکی نمازِ جنازہ صہیب رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ، علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے قبرِ مبارک میں اتارا ۔


ANOTHER VIEW OF SPOT WHERE SYEDNA UMER RADI ALLAH HO TALLA ANHO
WAS ASSASSINATED DURING FAJIR PRAYER IN MASJID ALNABVI SHAREEF
------------------------------------------------------------------------------------------------------------
NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE