شفیق الزماں
پاکستان کے ممتاز خطاط جو خطاط مسجد نبوی (خطّاط الحرم
المسجد النّبوی ) اور استاذ الخطاط کے لقب سے مشہور ہیں۔

تاریخ میں یہ بات رقم ہوگئی کہ حرم میں جہاں ترکوں اور عربوں نے اپنے فن کے
ذریعے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چار چاند لگائے وہیں پاکستان کے
 کہنہ مشق فن کار شفیق الزماں کو بھی اپنا فن پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
===================================




حرمِ مدنی ؐ میں روضہ رسولؐ کے اوپر کندہ قرآنی آیات کا رسم الخط تبدیل کیا گیا ہے اور یہ کام ایک پاکستانی خطاط کی زیر نگرانی انجام دیا گیا ہے، جنہیں دنیا استاذ شفیق الزمان کے نام سے جانتی ہے۔ مسجد نبوی کی موجودہ جدید تعمیرات میں دیواروں اور روضہ رسول ؐپر کندہ آیات و احادیث وغیرہ کی خطاطی کا کام انہیں کے زیر نگرانی سرانجام پایا ہے( ماشااللہ) -

شفیق الزمان کی ولادت 2-نومبر 1956ء میں چکلالہ (راولپنڈی) میں پیدا ہوئے
استاد شفیق بچپن میں اپنے والدین کے ہمراہ کراچی منتقل ہو گئے کھوکھرا پار میں سکونت پزیر ہیں۔ ملیرمیں انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ ابتداء ہی سے انہیں خوش خطی لکھنے کا بہت شوق تھا
گھر میں دینی ماحول کی وجہ سے والدین نے ہمیشہ شفیق صاحب کی لکھی ہوئی خطاطی کی حوصلہ افزائی کی اور رفتہ رفتہ خود شفیق صاحب کو فنِ خطاطی سے اس قدر لگاؤ اور رغبت میں جنون کی سی کیفیت پیدا ہو گئی کہ وہ مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔

شفیق الزمان نےاپنے فن کی ابتداء پینٹر کے کام سے کی اور ہر طرح کے سائن بورڈ بنانے لگے۔ ایک دفعہ وہ بندر روڈ پر کسی کمپنی کا سائن بورڈ عربی میں بنا رہے تھے کہ اتفاق سے وہاں ایک عرب کا گزر ہوا۔ وہ عرب ان کی خطاطی سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے شفیق الزماں کو سعودی عرب میں عربی لکھنے کے لئے ملازمت کی پیش کش کی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

سب سے پہلے شفیق الزماں کا نام اس وقت سامنے آیا جب 1986ء میں حکومت سعودیہ عرب کی جانب سےایک مقابلہ خطاطی منعقد ہوا۔ مقابلے کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ شریک مقابلہ کسی فن کار نے اپنے شہ پارے پر نام نہیں لکھا تھا، لٰہذا مقابلے میں کسی قسم کی سفارش یا جانبداری کا خطرہ نہیں تھا۔ اس پروگرام میں شفیق الزماں نے بھی حصہ لیا۔ خوش قسمتی سے تمام فن کاروں کے مقابلے میں شفیق کے فن پارے کو سب سے بہتر قرار دے دیا گیا۔ جب نمائش کے منتظمین اور منصفین کو اس بات کا علم ہوا کہ یہ کسی پاکستانی فن کار کا کام ہے تو انہوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کردیا اور شفیق صاحب سے دوبارہ لکھنے کی درخواست کی اور انہوں نے حاضرین کی موجودگی میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح انہیں اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا اور دس ہزار ریال کی خطیر رقم انہیں اس اعزاز کے ساتھ پیش کی گئی کہ پورے سعودی عرب میں اس معیار کی عربی خطاطی کرنے والا کوئی دوسرا نہیں

حکومت پاکستان نے استاذ شفیق الزمان کی خدمات کے اعتراف میں14 اگست 2013ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔
شفیق صاحب مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مسجدی نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں
فن خطاطی کے ذریعے تزئین و آرائش کے سلسلے میں فن کاروں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے حکومت سعودیہ عرب نے ایک مقابلہ خطاطی کا اہتمام کیا، جس میں ترکی، لبنانی، مصری، فلسطینی، سورین، یمنی، انڈین اور پاکستانی فن کاروں نے حصہ لے کر طبع آزمائی کی۔ شفیق الزماں کو سعودی عرب کے ایک مقتدر عرب دوست نے مقابلے کے لیے آمادہ کرلیا۔ اس مقابلے میں چار سو کے قریب ماہر اساتذہ فن شریک تھے۔ جو فن کار مدینہ میں بالمشافہہ موجود نہیں تھے ان کا کام ان کے ملکوں سے سعودی عرب پہنچ چکا تھا اس مقابلہ خطاطی میں ترکی کے تمام ججوں اور محکمہ اوقاف کے فیصلے کے مطابق شفیق الزماں کو سب سے مستند خطاط قرار دیا تھا۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہلی مرتبہ کسی پاکستانی خطاط کو اس کام کے لیے منتخب کیا گیا - شفیق صاحب کے لیے بھی باعثِ اعزاز ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کو یہ سعادت عطا فرمائی کہ وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے دررِ اقدس پر فن خطاطی کی اعلٰی ترین صلاحیتوں
کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
تمام منصفین اور محکمہ اوقاف کے فیصلے کے مطابق شفیق صاحب کے فن پارے کو کسی ترک استاذ کا فن پارہ سمجھ کر سب سے بہتر قرار دے دیا گیا ۔ بعد میں تمام ججوں اور محکمہ اوقاف کو یہ جان کر ازحد مسرت بھی ہوئی اور تعجب بھی ہوا کہ یہ کسی پاکستانی خطاط کا کام ہے ۔ اس کے بعد شفیق الزماں کو مسجد نبوی میں خطاطی کے لیے منتخب کر لیا گیا ۔ جب سے اب تک انھوں نے دس گنبدوں میں کام کے علاوہ "باب البقیع" اور "باب الرحمتہ" کے گنبدوں میں خط ثلث میں اپنی خطاطی کا کام مکمل کر لیا ہے اور اب ان دنوں محراب الرسول کے اوپر "ریاض الجنتہ" کے گنبدوں میں خطاطی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔

ہ بات جہاں پاکستان اور پاکستانی فن کاروں کے لیے باعثِ افتخار ہے کہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہلی مرتبہ کسی پاکستانی خطاط کو اس کام کے لیے منتخب کیا گیا ہے وہیں خود شفیق صاحب کے لیے بھی باعثِ اعزاز ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کو یہ سعادت عطا فرمائی کہ وہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور رحمت اللعلمین کے دررِ اقدس پر فن خطاطی کی اعلٰی ترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرکے ان کو گلہائے عقیدت پیش کریں اور قلبی سکون کے ساتھ دین و دنیا کی فلاح حاصل کریں۔ یوں تاریخ میں یہ بات رقم ہوگئی کہ حرم میں جہاں ترکوں اور عربوں نے اپنے فن کے ذریعے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چار چاند لگائے وہیں پاکستان کے ایک نو عمر مگر کہنہ مشق فن کار شفیق الزماں کو بھی اپنا فن پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ بلاشبہ ہم اس بیناد پر شفیق الزماں صاحب کو اسلامی دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد اور باوقار سفیر قرار دے سکتے ہیں۔
یہ اعزاز حاصل کرکے انہوں نے جس طرح اپنے وطن عزیز کا
 
نام روشن کیا بقول شخصے " اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں۔
ایں سعادت بزور بازو نیست

-
 NEXT PAGE

PREVIOUS PAGE
LIST PAGE