محراب رسول صلی الله علیہ وسلم پر محراب رسول صلی الله علیہ وسلم پر
 نبی سیدنا زکریا علیہ سلام اور بی بی مریم سلام الله علیھا کے متعلق  یہ کیا لکھا ہے

===============================================
محراب رسول صلی الله علیہ وسلم کس محترم نبی اور کس محترم محراب کو
سب سے منفرد اور یکتا بنا رہی ہے -

===================================

مسجد النبوی کی اس محراب کی تقدیس تو ہر مومن کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے کیوں کہ یہ وہ مقام اقدس ہے جہاں کھڑے ہو کر آقا سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم اصحاب اکرم کو پانچ وقتوں کی فرض نمازیں پڑھایا کرتے تھے اور آج جب کوئی مومن و مسلم مرد یا خاتون اس مقام پر پہنچتی ہیں تو آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھہ انکو اس سے زیادہ کسی بات کی طلب نہیں ہوتی کہ بس ذرا سی جگہ اس مقام مقدس پر مل جایے تا کہ وہ دو رکعت نفل ادا کر کے اپنی پیشانیوں کو اس مقام سے مس کر لیں جہاں آقا سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کے حالت نماز میں قدمین مبارک ہوا کرتے تھے -

یقینا'' اس مقام پر عاشقان رسول صلی الله علیہ وسلم کا یہی جذبہ ہونا چاہیے اور کسی اور تصور کو اس محبت میں حائل بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن صرف اس لیے کہ اس محراب مقدس سے اگر کسی کی کوئی نسبت قایم ہو چکی ہو تو اسکا علم بھی محض آپکو اس لیے ہونا چاہیے کہ آپ اس ''صاحب منسوب '' کی قسمت پر رشک کریں کہ '' سبحان الله اس ہستی نے کیا عمدہ اور مبارک مقام پایا '' اور وہ ہستی رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کی قدم بوسی سے مزید متبرک ہوگی -

جی ہان اگر میں غلطی نہیں کر رہا تو قرآن پاک میں تقریبا'' کم و بیش تیس اںبیا علیہ سلام کا ذکر انکے مبارک ناموں کے ساتھہ آیا ہے جو سب کے سب بڑی مقدس ہستیاں ہیں اور بطور مسلمان ہماری جانیں ان پر قربان ہیں اور ان سب انبیا علیہ سلام پرایمان لانا ہمارے با ایمان ہونے کا لازمی جز ہے - لیکن شاید آپ نے مسجد النبوی میں محراب نبی صلی الله علیہ وسلم کے اوپر بننے اس دایرے اور اسمیں لکھی قرانی آیات کے ان چند الفاظ پرکم ہی غور کیا ہو کہ یہ آیات کس نبی علیہ سلام سے منسوب ہیں اور اس میں انکا اسم مبارک بھی درج ہے - تصویر میں ان آیات پر آپکی آسانی کے لیے ایک سرخ دایرہ بھی بنا دیا گیا ہے ٠٠

اصل میں محراب نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیشانی پر سورة آل عمران کی آیات سینتیس ( 37 ) کے پانچ الفاظ تحریر ہیں جو یہ ہیں :-

'' كُلَّما دَخَلَ عَلَيْها زَكَرِيَّا الْمِحْرابَ ''

ترجمہ :- '' جب زکریا انکے پاس نماز پڑھنے کی جگہ جاتے ( یعنی محراب کی جگہ جاتے '' )

گویا محراب نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیشانی پر نبی سیدنا زکریا علیہ سلام کا نام قرآن پاک کی ایک آیت کی صورت میں درج ہے جس میں بی بی مریم علیہ سلام الله علیھا کی محراب کا ذکر کیا گیا ہے ٠ اسکی تفصیل سمجھنے کے لیے پوری آیت شریفہ اور اسکے ترجمہ کو پہلے دیکھیں :-

پوری آیت شریفہ یوں ہے :-

'' فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ "

ترجمہ :- '' پھر اسے اس کے رب نے اچھی طرح سے قبول کیا اور اسے اچھی طرح بڑھایا اور وہ زکریا کو سونپ دی، جب زکریا اس کے پاس حجرہ میں آتے تو اس کے پاس کچھ کھانے کی چیز پاتے کہتے اے مریم ! تیرے پاس یہ چیز کہاں سے آئی ہے، وہ کہتی یہ اللہ کے ہاں سے آئی ہے، اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے۔

گویا اس آیت مبارکہ میں نبی سیدنا زکریا علیہ سلام کا بھی ذکر ہے اور بی بی مریم سلام الله علیھا کا بھی - تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ '' بی بی مریم '' جب یتیم ہو گئیں یا قحط سالی آ گئی تو آپکی کفالت کی ذمہ داری آپکی خالہ پر آ گئی اور کیوں کہ سیدنا زکریا علیہ سلام آپکے خالو تھے تو آپ انکی کفالت کرتے تھے - اس سلسلے میں جب آپ بی بی مریم سلام الله علیھا کے حجرے میں انکے نماز پڑھنے کی جگہ جسکو قران حکیم کی اس آیت میں '' محراب '' کہا گیا ہے تشریف لیے جاتے تو قرآن پاک میں بیان کردہ انکی کرامت کو دیکھتے کہ آپکی محراب کے پاس بے موسمی میوے موجود ہوتے یعنی سردیوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں سردیوں کے میوے - قرآن پاک کی اسی آیت میں آیا ہے کہ ایک دن نبی سیدنا زکریا علیہ سلام نے بی بی مریم سلام الله علیھا سے دریافت کیا کہ مریم یہ سب رزق تمھارے پاس کہاں سے آتا ہے تو آپ سلام الله علیھا نے فرمایا '' الله کے پاس سے ، وہ جسے چاہے بے حساب روزی دیتا ہے - ''

اس پوری تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ مسجد النبوی '' میں محراب نبی صلی الله علیہ وسلم کی پیشانی پر مذکورہ آیت شریفہ کے جو پانچ الفاظ مبارک درج ہیں انمیں سے ایک لفظ '' زکریا '' -------، نبی سیدنا زکریا علیہ سلام کی عظمت ظاہر کر رہا ہے جبکہ ایک اور لفظ '' محراب ''----- ، بی بی مریم سلام الله علیھا کی محراب کی فضیلت بیان کر رہا ہے -

اس حقیقت کے پاس منظر میں اگر محراب نبی صلی الله علیہ وسلم کی زیارت کی جایے تو اسکی زیارت کا مزہ دو چند ہو جاتا ہے -
==========================


 NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE