پانچ سو سولہ سال کا فاصلہ ہے

===================




یہ تصویر مسجد النبوی میں موجود '' محراب نبی صلی الله علیہ وسلم '' کی عقبی دیوار ہے جس پر آٹھہ سطور درج ہیں لیکن کیا آپ کے علم میں ہے کہ پہلی پانچ سطور اور سرخ حاشیے میں جو میں نے آخری تین سطور بریکٹ کر دی ہیں ان میں کیا فرق ہے -

تو جان لیں - اصل میں مسجد نبوی میں یہ وہ مقام ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نمازوں کی امامت فرمایا کرتے تھے - اس مبارک دور میں یہاں کوئی محراب نہیں تھی جیسا کہ آج کل نظر آتی ہے - بس مخصوص '' مقام امامت '' تھا جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کھڑے ہو کر نمازیں پڑھایا کرتے تھے -

سن ٨٨٨ ہجری میں مدینہ منورہ کے فرمانروا '' اشرف قتبائی '' جو اپنے آپ کو الله کا غلام کہتے تھے انہوں نے موجودہ محراب کو اس مقام امامت پر نصب کروایا جو ہمیں آج بھی مسجد النبوی شریف میں ریاض الجننہ میں ایستادہ نظر آتی ہے جس کی ہم سب بخوبی اس وقت زیارت کر لیتے ہیں جب ہم ریاض الجننہ میں موجود ہوتے ہیں - سامنے سے اس محراب کی زیارت خواتین بھی کر سکتی ہیں جب وہ ریاض الجننہ میں ہوں لیکن اس محراب کی اس عقبی دیوار کی زیارت صرف مرد حضرات کر سکتے ہیں کیوں کہ موجودہ دور میں ریاض الجننہ کے آگے والی صفوں تک خواتین کو جانے کی اجازت نہیں ہے -

مرد حضرات جب باب سلام سے مسجد النبوی میں داخل ہو کر روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی جانب بڑھہ رہے ہوتے ہیں تو محراب نبی صلی الله علیہ وسلم کی یہ چھوٹی سی عقبی دیوار روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم آنے سے سے اندازا'' سات آٹھہ گز پہلے الٹے ہاتھہ پر نظر آتی ہے جس پر یہ آٹھہ سطور لکھی ہیں جو تصویر میں نظر آ رہی ہیں -

پہلی پانچ سطور آٹھہ سو اٹھاسی ہجری میں اسوقت کے فرمانروا '' اشرف قتبائی '' نے تحریر کروائی تھیں اور پانچ سو سولہ سال تک اس مقام پر یہی پانچ سطور لکھی نظر آتی تھیں - لیکن پانچ سو سولہ سال کے طویل عرصے کے بعد آج سے تیس پینتیس سال قبل سن چودہ سو چار ہجری میں سعودی فرمانروا '' ملک فہد بن عبدلعزیز '' جو اپنے آپ کو خادم حرمین شریفین کہلواتے تھے , نے آخری تین سطور کا جنکو میں نے سرخ بریکٹ سے ظاہر کیا ہے اضافہ کیا- اضافہ کرتے وقت رسم الخط کو ویسا ہی رکھا گیا جو پانچ سو سولہ سال قبل تھا تا کہ اسکی خوبصورتی میں کمی نہ آیے -

سعودی فرمانروا '' ملک فہد بن عبدلعزیز '' نے اس مبارک محراب کی چودہ سو چار ہجری میں کیونکہ از سر نو تزیین و آرائش کروائی تھی اور اس لیے اس موقع پر ان تین نئی سطور کو اس میں شامل کیا گیا تھا - لیکن علم نہ ہو تو دیکھنے سے بالکل یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ چھٹی ، ساتویں اور آٹھویں سطور کی تحریروں اور ابتدائی پانچ سطور کی تحریروں میں پانچ سو سولہ سال کا وقفہ ہے -

اب آیے دکھتے ہیں ان آٹھہ سطور میں لکھا کیا ہے - جو کچھ بھی لکھا ہے وہ عربی نہیں ہے تا ہم ہم یہان اسکا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں :-

1. "اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے ، اور ہو سلامتی ہمارے رہنما محمد صلی الله علیہ وسلم پر -

2.یہ مقدس محراب، (اللہ کے ) عاجز بندے کے حکم سے نبی صلی اللہ علیہ کی نماز کی جگہ رکھی گئی ہے -

3.خود مختار حکمران، الاشرف،

4.ابو امام نصر قتبائی . اللہ ابدی اورعالی ہے -

5. ٨٨٨ ہجری کے . ذوالحجة رحمہ اللہ تعالی الحجہ (حرمت والے مہینوں میں سے) میں -

===============
اسکے بعد جو نئی تین سطور ہیں انکا ترجمہ کچھہ یوں ہے :-

6. اس کی تزئین و آرائش کا حکم اعلیحضرت طرف سے دیا گیا تھا

7.ملک فہد بن عبد 'عزیز السعود ،

8.جو ، اللہ کی تسبیح کرتے ہیں - سال 1404 ہجری میں ..

==========================


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE