اسطوانہ
حنانہ یا  '' اسطوانہ مخلقہ

==========================

عربی میں اسطوانہ '' ستوں '' کو کہتے ہیں - مسجد النبوی کے مقدس حصے '' ریاض الجنہ '' میں مجود چھہ تاریخی اور متبرک ستوں کی اہمیت سے کون واقف نہیں اور ہر زائر مدینہ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان ستونوں کے قریب نوافل ادا کرکے روحانی لذتوں سے فیضیاب ہوں -

ان ہی ستونوں میں موجود ایک ستوں وہ ہے جو '' محراب نبوی صلی الله علیہ وسلم '' کے پیچھے بنا ہوا ہے جو آج کی تصویر میں آپکو نظر آرہا ہے اور میں نے اس پر ایک لال ڈاٹ لگا دیا ہے تاکہ آپ اسے آسانی سے پہچان سکیں -

یہ ستوں دو ناموں سے یاد کیا جاتا ہے - عموما'' لوگ اسے
'' استوانہ حنانہ '' کے نام سے جانتے ہیں اور اس سے منسوب اس واقعہ سے پوری طرح واقف بھی ہیں کہ یہ ستوں در اصل اس مقام پر بنا ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ابتدائی مدنی دور میں ایک کھجور کے درخت کا تنا ہوا کرتا تھا جس سے ٹیک لگا کر آپ سیدنا محمّد صلی الله علیہ وسلم مسجد النبوی میں خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے - اور کافی عرصے کے بعد جب مسجد النبوی کا ممبر شریف تیار ہو گیا اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پہلی مرتبہ اس ممبر پر تشریف فرما ہو کر خطبہ دینے لگے تو سب نے سنا کہ کوئی رو رہا ہے اور اس رونے کی آواز اونٹنی کے اس بچے کا رونے کی آواز سے مماثلت رکھتی تھی جو اپنی ماں سے بچھڑ جانے کے بعد روتا ہے - اس آواز کو عربی میں ''حنانہ '' کہتے ہیں - رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے سوا کوئی نہ جان سکا کہ یہ کون رو رہا تھا - آپ صلی الله علیہ وسلم کھجور کے اس تنے کے قریب گیے جہاں سے رونے کی آواز آرہی تھی - تب صحابہ کو علم ہوا کہ وہ رونے کی آواز اس درخت کے تنے سے آرہی تھی جو اس غم میں کراہ رہا تھا کہ نیے ممبر کی تعمیر کے بعد وہ اس عظیم سعادت سے محروم ہو گیا ہے جو اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ٹیک لگانے سے حاصل ہوتی تھی - اس موقعہ پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس تنے پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ جنت میں ان کے ساتھ ہوگا - اس وعدہ پر اسکے غم میں کمی واقع ہوئے اور اسکا رونا بند ہوا - اس معجزاتی واقعہ کی وجہ سے اس مقام پر بناتے گیے ستوں کو '' ستوں حنانہ '' کہا جانے لگا یعنی وہ ستوں جو اونٹنی کے بچے کی طرح رویا -

لیکن آج کل اس ستوں پر ؛؛ اسطوانہ حنانہ '' نہیں لکھا ہے بلکہ اس کے بجایے '' اسطوانہ مخلقہ '' لکھا ہوا ہے - اور یہ اس لئے ہے کہ اس درخت کے تنے کے ساتھ ایک اور تاریخی واقعہ پیش آیا تھا جس کی مناسبت سے اس کا ایک اور نام '' اسطوانہ مخلقہ '' بھی پڑ گیا تھا - اور یہ واقعہ بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس سے منسلک تھا -
=============
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ابتدائی مدنی دور میں آپ مسجد النبوی کے ریاض الجنہ میں موجود جس تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ، اس تنے پر ایک مرتبہ کسی شخص نے تھوک دیا جس سے یہ مقام مبارک ناپاک ہوگیا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی نفیس اور طاہر طبیعت نے اس شخص کے اس عمل پر نہایت کراہیت کا اظہار فرمایا - اسکا یہ فعل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بہت ناگوار گزرا - آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس مقام کی صفائی کا حکم دیا -

صحابہ اکرم نے اس تنے کی خوب صفائی کی اوراس کو پاک کرنے کے بعد اس کی کراہیت کو مزید دور کرنے کے لیے اس تنے پر ایک خاص خوشبو نہات وافر مقدار میں لگائی گئی جس سے یہ مقام مبارک مہک اٹھا - اس مقام پر جو خوشبو لگائی گئی اہل عرب اسے '' خلوق '' کے نام سے جانتے تھے اور اس خوشبو '' خلوق '' کے نام کی مناسبت سے اس ستوں کا نام '' اسطوانہ مخلقہ '' پڑ گیا جس کے معنی ہیں '' وہ اسطوانہ جس پر خلوق لگائی گئی ''

آج بھی یہ اسطوانہ محراب نبوی کے پیچھے سے جھانکتا ہوا آپکو نظر آیے گا جیسا کہ اس تصویر میں نظر آرہا ہے - آپ کو الله کریم جب مدینہ بلائیں تو آپ ریاض الجنہ میں اس ستوں کو اس کے اس تاریخی پس منظر میں ضرور دیکھیں- یقینا'' آپکی زیارت کا مزہ دوبالہ ہو جاتے گا اور شاید آنکھوں سے کچھ قطرے بھی ٹپک کر ریاض الجنہ کے قالینوں میں جذب ہو جائیں -

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE