اسطوانہ سریر
رسول الله صلی الله علیہ وسلم رمضان میں اس مقام پر اعتکاف کیا کر تے تھے
===================


یہ تصویر روضہ اقدس صلی الله علیہ وسلم کے سر مبارک کی جانب موجود جالیوں کی ہے جو ریاض الجننہ یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ کی اصل مسجد نبوی اور روضہ اقدس کی موجودہ پارٹیشں وال ہے -

موجودہ جالیاں اصل دیوار سے اگے کی جانب بنائی گیی ہیں - اسلئے اس کھڑکی کو تمثیلا'' ان جالیوں میں دکھایا گیا ہے - اصل کھڑکی یقینا'' ان جالیوں سے اندر تقریبا'' چار فٹ کے فاصلے پر اصل حجرے کی دیوار میں موجود ہوگی جو اب نظروں سے اوجھل ہے - اس میں آپکو ایک ستوں نظر آرہا ہے جس پر '' اسطوانہ سریر '' لکھا ہے - میں نے اسپر نیلا ڈاٹ بھی ڈال دیا ہے - عربی میں اسطوانہ ''ستوں'' کو اور سریر ''بستر'' کو کہتے ہیں -

رسول الله صلی الله علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مسجد النبوی میں اس مقام پر آرام کے لیے بستر لگا لیا کرتے تھے اور اسی مناسبت سے اس مقام پر ایک یادگاری ستوں بنا دیا گیا ہے جسے
'' اسطوانہ سریر '' کہتے ہیں -

ان جالیوں میں ایک کھڑکی سی نظر آرہی ہے جس پر میں نے سرخ ڈاٹ لگا دیا ہے- مرقوم ہے کہ حالت اعتکاف میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس کھڑکی سے ٹیک لگ کر آرام فرماتے توام المومنین سیدہ بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا حجرہ مبارک کے اندر سے آپ صلی الله علیہ وسلم کے گیسو مبارک میں تیل ڈال دیا کرتی تھیں اور بالوں میں کنگھی کر دیتی تھیں -

رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب رمضان مبارک میں اعتکاف کیا کرتے تھے یو اسوقت مسجد النبوی کی حدود بس اتنی ہی ہوا کرتی تھیں جتنا آج ریاض الجنہ ہے - گویا مسجد النبوی کا موجودہ ریاض الجنہ مکمل مسجد نبوی تھی -

اسلئے آپ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب رمضان مبارک میں اعتکاف کیا کرتے تھے تو سیدہ بی بی عائشہ کا حجرہ مبارک جو مسجد النبوی سے بالکل متصل تھا اسکی دیوار کے ساتھہ آپ لیٹنے یا بیٹھنے کے لیے اپنی چٹائی بچھا لیا کرتے تھے -

الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم دن رات الله سبحان و تعالی کی عبادت میں مصروف رہتے - دنیاوی مسائل بھی حل کرتے مگر زیادہ وقت الله تعالی کی عبادت میں ہی گزرتا - بعض اوقات ایسی صورتحال ہوتی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم اس کھڑکی سے ٹیک لگا لیتے اور سیدہ بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا حجرے مبارک کے اندر سے ہی آپ صلی الله علیہ وسلم کے گیسو مبارک کی آرایش کر دیتی تھیں - آپ صلی الله علیہ وسلم کے سر مبارک میں تیل لگا دیا کرتی تھیں -

اس مقام پر آج بھی آپکو ایک کھڑکی نما نظر آ رہی ہے اور یادگار کے طور پر اس مقام پر ایک ستوں بنا دیا گیا ہے جسکا نصف کرہ حجرے کے اندر اور نصف ریاض الجنہ میں ہے اور اس پر دایرہ بنا کر اسمیں '' '' اسطوانہ سریر '' لکھ دیا گیا ہے جس کے معنی ہیں بستر والا ستوں -

اف---- کتنے حسین ہوتے ہوں گے رمضان اور اعتکاف کے وہ دن -

==========================


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE