سبز گنبد اقدس رسول صلی الله علیہ و الیہ وسلم نے ہماری انکھوں کے
 سامنے سے کیا اوجھل کر دیا ہے ؟ -
 اگر محترم و مکرم گنبد خضرا کو ذرا سرکا کر دیکھا جایے تو کیا نظر آئیے گا ؟
==============================================

its just model of ptesent green holy dome
سوال
====
گنبد خضرا ہر محب رسول صلی الله علیہ و الیہ وسلم کے دل اور روح میں رچا بسا ہے کیوں کہ آج یہی وہ مقام ہے جو ہم گنہگاروں اور رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم کے درمیان ایک رابطے کی علامت ہے-

روضۂ اقدس صلی الله علیہ و الیہ وسلم پر جو سبزگنبد قایم ہے . یہ سن 1233 ہجری میں '' سلطان محمود بن عبدالحمید '' نے تعمیر کروایا تھا - گویا اس گنبد کی تاریخ محض ٢٠٠ ( دو سو سال پرانی ) ہے - اور اس پر سبز رنگ مزید ٢٢ سال یعنی سن1255 ہجری میں پہلی مرتبہ کروایا گیا اور آج بھی ہم اسکو اسی رنگ میں دیکھتے ہیں -

سبز گنبد سے جو ہماری عقیدت ہے اسپر کوئی دو رائے نہیں - ہم تمام مسلمانوں کے دل اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں لیکن بطور مسلمان ہمارا یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس مقدس سبز گنبد بننے سے ایسا کیا ہوا کہ کچھہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا حالانکہ جو کچھہ اوجھل ہوا وہ آج بھی موجود ہے لیکن اب شاید کبھی اسے کوئی نہ دیکھ سکے -

آج کے اھلا'' کویز میں آپ آج صرف یہ بتا دیں کہ سبز گنبد نے ہماری آنکھوں سے کیا اوجھل کر دیا ہے جبکہ وہ موجود بھی ہے ؟

آپ جواب ٹرائی کریں ورنہ میں آپکو ایک دو دن میں تفصیلا'' اسکا جواب پیش کردوں گا -

اور .پھر اپ کے پاس ایسی لاتعداد تصاویر اور معلومات کے لیے
وسیم کی ویب "اہلا" تو ہے ہی نا
CLICK
http://www.ahlanpk.org/
====================================
جواب حاضر ہے
============
مبارک باد کے حقدار ہیں '' بھائی عدنان ظاہر '' بھائی عتیق عتیق اور '' بہن مھرینیا خان '' جنہوں نے اس سوال کا درست جواب دیا - الله سبحان و تعالی انکے حرمین شریفین سے محبت کے ان جذبات میں اضافہ فرمائیں - آمین

سبز گنبد کے مقدس نظارے نے اب ہماری آنکھوں سے کیا اوجھل کردیا ہے حالانکہ وہ اوجھل ہونے والی تمام چیزیں ابھی بھی موجود ہیں کا جواب جاننے کے لیے آپکو درج ذیل نکات کو ترتیب وار پڑھنا ہوگا -
1-روضہ اقدس صلی الله علیہ و الیہ وسلم پر سن 678
ہجری تک کوئی گنبد موجود نہیں تھا -

2-. رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم کا وصال مبارک سن 10 ہجری میں ہوا تھا اور یوں 668 سال تک روضہ اقدس صلی الله علیہ و الیہ وسلم پر صرف ایک چھت قایم تھی - کوئی گنبد وغیرہ نہ تھا -

3-. سن 678 ہجری میں پہلی مرتبہ ایک لکڑی کا گنبد تعمیر کیا گیا - اس میں لکڑی کے ٹکڑے اور سیسے کی پلیٹیں استمعال کی گیں -

4-. 886 ہجری میں یعنی لکڑی کے پہلے گنبد کے 208 سال بعد '' ملک اشرف قتبائی '' نے اس لکڑی کے پہلے گنبد کے اوپر ایک نیا گنبد بنوایا جو کالے اور سفید رنگ کے پتھروں کا تھا - اسکو'' گنبد بیضا '' یعنی '' سفید گنبد '' کہا جاتا تھا - ( اس طرح لکڑی کا بنا ہوا گنبد موجود ہونے کے باوجود ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا )

its just model indicating white dome beneath present
green dome.

 
5-. 892 ہجری میں یعنی صرف 6 سال بعد اسی حکمران یعنی '' ملک اشرف قتبائی '' نے اسی '' سفید گنبد '' کے اوپر ایک '' نیلے رنگ '' کا ایسا گنبد بنوایا جس کے پتھروں پر آگ کا اثر نا ممکن تھا - گویا یہ '' فایر پروف '' پتھر تھے جو مصر سے منگوائے گیے تھے - اس نیلے گنبد کی تعمیر بھی اس طرح کی گئی کہ نیچے والا سفید گنبد اپنی جگہہ بر قرار رہا -(اور یوں نیلے گنبد کی تعمیر کے بعد لکڑی کے گنبد کے ساتھہ سفید رنگ والا ''گنبد بیضا '' بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا - )

its just immiginary purple or blue dome

6.-- 1233 ہجری میں یعنی مزید 341 سالوں بعد '' عبدالحمید ثانی '' نے '' ملک اشرف قتبائی '' کے بنایے گنبد کو از سر نو تعمیر کیا ارر پھر 22 سال بعد یعنی 1255 ہجری میں پہلی بار سبز رنگ کیا گیا جو آج تک ماشا لله موجود ہے - ( اور یوں سبز گنبد کی تعمیر کے بعد لکڑی والا گنبد . سفید گنبد اور نیلا گنبد ، گویا تینوں گنبد سبزگنبد کے نیچے چھپ گئے - اور شاید اب انکو کبھی نہ دیکھا جا سکے باوجود اسکے کہ وہ آج بھی موجود ہیں -)
ALMIGHTY ALLAH KNOWS THE BEST
======================

EXT PAGE

PREVIOUS PAGE
LIST PAGE