ریاض الجننہ ''
کی  اصل  حدود
=================================


زیر نظر تصویر مسجد النبوی میں '' ریاض الجننہ '' کی ہے جہاں عموما'' فرش پر سبز رنگ کا قالین پیچھا ہوتا ہے جو اس وقت ہٹا ہوا ہے اور آپکو فرش نظر آ رہا ہے - ریاض الجنہ کے ساتھ آپکو ایک سبز جالیوں والی دیوار بھی نظر آرہی ہے جس میں تین گول تاریخی ستوں اسطرح پیوست ہیں کہ ان ستونوں کا نصف کرہ آپکو ریاض الجننہ میں نظر آرا ہے اور بقیہ نصف کرہ سبز جالیوں یا دیوار کے اس پار ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل
ہے -
یہ دارصل رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اقدس کے سرہانے والی دیوار ہے - روضہ اقدس کی تین اطراف یعنی چہرہ مبارک . قدمین مبارک اور عقب مبارک کی دیواروں کے ساتھہ مسجد النبوی جو حصے منسلک ہیں وہ عام مسجد النبوی کے حصے ہیں اور یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارک کے وقت مسجد النبوی سے باہر تھے لیکن زیر نظر تصویر میں جو سبز دیوار یا جالیان نظر آرہی ہیں یہ سر مبارک کی جانب کی دیوار ہے اور اسی دیوار سے منسلک جو حصہ ہے , بس یہی حصہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات پاک میں مسجد النبوی کا حصہ تھا اور اس وجہہ سے مسجد کے اس ٹکڑے کو خاص حیثیت حاصل ہے اور اسی حصے کو ؛؛ ریاض الجننہ '' یعنی جنّت کا باغ کہا جاتا ہے کیوں کہ اس حصے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے قدمیں پاک خوب چلے پھرے ہیں اور اس حصے نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے قدمین پاک کا خوب خوب بوسہ لیا ہے - اسی لیے یہ حصہ الله تعالی کو اتنا محبوب ہوگیا کہ آپ نے اسے جنّت کا ٹکڑا قرار دے دیا اور فرمایا کہ روز قیامت اس ٹکڑے کو یونہی اٹھا کر جنّت کی کیاری بنا دیا جایے
گا -
سبز جالیوں میں پیوست ان تینون ستونوں کی بھی اپنی ایک روحانی تاریخ ہے - پہلا ستوں '' اسطوانہ سریر '' کہلاتا ہے جس پر میں نے سرخ الفاظ میں لکھ بھی دیا ہے - ''سریر'' عربی میں بستر کو کہتے ہیں -جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم حالت اعتکاف میں ہوتے تھے تو سی مقام پر اپنا بستر لگاتے تھے اور بی بی سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا حجرے کے اندر سے دیوار میں بنی ایک کھڑکی سے آپکے سر مبارک میں تیل ڈال کر کنگھی کر دیا کرتی تھیں -
درمیان والا ستوں '' اسطوانہ حرس '' کہلاتا ہے جو میں نے ستوں پر سیاہ الفاظ میں تحریر بھی کر دیا ہے - عربی میں '' حرس '' خوف یا چوکیداری کو کہتے ہیں- اصل میں اس مقام پر حالت خوف میں رسول الله کی حفاظت کے لیے سیدنا علی رضی الله تعالی عنہ پہرہ دیا کرتے تھے - اسی لیے کچھ لوگ اسے ''اسطوانہ علی '' بھی کہتے ہیں - جب الله تعالی نے آپ صلی الله علیہ وسلم کی حفاظت کی ذمداری لے لی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس پہرے کو ختم کروا دیا تھا -
آخری ستوں جس پر میں نے نیلے سے تحریر کیا ہے '' اسطوانہ وفود '' کہلاتا ہے - عربی میں وفود '' وفد '' کی جمع ہے جس کے معنی DELIGATION کے ہیں اور اس مقام پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم مختلف علاقوں کے وفود سے سیاسی مزاکرات کیا کرتے تھے -
میں نے زیر نظر تصویر میں نظر آنے والے ریاض الجننہ کے ٹکڑے ، سبز جالیوں اور اس میں پیوست ستونوں کے بارے میں تو آپ کو مختصرا'' معلومات دے دی ھے - بس آج کے کویز میں آپ اتنا بتا دیں کہ ان سبز جالیوں کی دیوار کے وسط میں آپکو جو ایک دروازہ نظر آ رہا ہے .- اگر آپکو یہ دروازہ کھلا مل
جایے اور آپ اپنا ایک قدم اندر رکھیں تو اسوقت پیچھے رہ جانے والا اپکا قدم تو یقینا'' ریز الجننہ میں ہوگا مگر کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اندر داخل ہونے والا اپکا پہلا قدم کس مقام کو ٹچ کرے گا ؟
==========
جواب حاضر ہے
==========
موجودہ صورت حال میں آج کل جب ہم روضہ اقدس صلی الله علیہ وسلم کے چاروں طرف موجود جالیوں کی دیوار کو دیکھتے ہیں تو ہم یہ سنجھتے ہیں کہ ان جالیوں کی دوسری طرف بی بی عائشہ رضی الله تعالی عنہا کا وہ حجرہ مبارک ہے جہاں رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے دو ساتھیوں کی قبور موجود ہیں - حالانکہ ایسا نہیں ہے -
زیر نظر تصویر میں سر مبارک کی جانب موجود ان سبز جالیوں سمیت چاروں اطراف موجود جالیوں سے اگر کسی کو اندر داخل ہونے کی سعادت نصیب ہو جایے تو وہ دیکھے گا ان جالیوں کی دوسری جانب ایک پانچ کونوں والا کمرہ موجود ہے اور حقیقت میں یہ وہ کمرہ ہے جو حجرہ بی بی عائشہ یا اصل روضۂ اقدس صلی الله علیہ وسلم ہے -
زیر نظر تصویر میں نظر آنے والی سبز جالیاں روضۂ اقدس کی سرہانے کی جانب کی جالیاں ہیں اور اگر اس جالی میں نظر آنے والے اس دروازے سے کوئی خوشقسمت اندر داخل ہو تو اسکو اصل روضۂ اقدس کی سرہانے والی دیوار تقریبا'' ساڑھے چار میٹر کے فاصلے پر ملے گی -
اور کیوں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ میرے گھر سے مسجد النبوی کے ممبر تک کا راستہ '' ریاض الجننہ '' ہے ، اس سے آج کویز میں پوچھے گیے اس سوال کا جواب واضح طور سے مل جاتا ہے کہ جب آپ اس جالی میں بنے دروازے سے اندر داخل ہوں گے تو آپ کا پیچھے رہ جانے والا قدم جالیوں کی اس جانب '' ریاض الجننہ '' میں ہوگا تو اپکا اندر داخل ہونے والا پہلا قدم بھی جالیوں کے اس پار '' ریاض الجننہ '' میں ہی ہوگا - گویا سرہانے کی جانب جالیوں کے اندر کا ساڑھے چار میٹر کو رقبہ '' ریاض الجننہ '' ہی ہے جو جالیوں کے بننے کے بعد ہم سب کی نظروں سے
اوجھل ہو گیا ہے -
'' ریاض الجننہ '' کا کل رقبہ ساڑھے چھبیس ( 5 . 26 ) میٹر لمبا اور 15 میٹر چوڑا ہے لیکن جالیوں کے بننے کے بعد اب اس کا نظر آنے والا حصہ 22 میٹر لمبا اور 15 میٹر چوڑا رہ گیا ہے اور جو حصہ ان سرہانے والی جالیوں کے اندر آ گیا ہے وہ ساڑھے چار میٹر لمبا اور 15 میٹر چوڑا ہے -


NEXT PAGE .

PREVIOUS PAGE.


LIST PAGE






.




//