SOUQ AKAZ
(BAZAR AKKAS )



مکّہ مکرمہ سے طائف کی جانب سفر کریں تو طائف سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک سڑک اندر کی جناب مڑتی ہے جہاں گیٹ پر اور سڑک کے کنارے ایک خوبصورت چھوٹے سے ٹیلے پر بڑے واضح الفاظ میں 

'' سوق عکاظ '' لکھا ہے اور اسی مقام کی تصویر آج آپکو اھلا'' کویز میں دکھائی جا رہی ہے - 

عربی میں '' سوق '' بازار کو کہتے ہیں اور عکاظ اس بازار کا نام ہے - گو کہ آج بھی یہ بازار اپنی جگہ قائم ہے تاہم کم لوگوں کو ہی علم ہے کہ اس بازار کو اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے میں اہم تجارتی مقام حاصل تھا - یھاں بڑے بڑے تجارتی قافلے دور دراز علاقوں سے آتے تھے اور تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے - اس کے علاوہ یھاں اہل عرب کے نامور شعرا بھی جمع ہوتے تھے اور خوب بھرپور ادبی اور شعری مقابلے ہوتے تھے -

ان تمام باتوں کے علاوہ اس بازار کا زمانہ جہالیت میں کعبہ مشرفہ سے ایک خاص تعلق تھا جو یقینا'' اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعد ختم ہوگیا - کیا آپ بتا سکتے کہ '' سوق عکاظ '' کا کعبہ مشرفہ سے ایسا کیا خاص رشتہ رہا ہے جس نے اسکی اہمیت کو اور بڑھا دیا


زمانہ جہا لت میں سوق عکاظ میں جو میلے لگا کرتے تھے ،
ان اجتما عا ت میں شعرا بھی شر کت کر تے اور اپنے قبا ئل کی برتری اور فضیلت جتا تے اور اس مو ضو ع پر اپنے تازہ
قصا ئد سنا تے ان میں جو قصید ہ سب سے زیادہ مقبو ل قرا ر دیا جا تا ہے اُسے سنہر ی حرو ف سے لکھ کر کعبہ کے دروازہ پر لٹکا دیا جا تا ، ان لٹکے ہو ئے قصا ئد کو متعلقا ت کہا جا ت تھا -

یہی ایک تعلق تھا عکاظ کے بازار کا کعبہ مشرفہ سے - رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب ''سوره کوثر '' کی تین آیات کعبہ پر آویزاں کی اس وقت بھی روایت کے مطابق عکاظ کے میلوں کے سات کامیاب قصیدے کعبہ کے دروازے پر لٹکے ہوے تھے جنہیں تاریخ میں '' سبعہ ملقات '' یعنی سات قصیدے کہا جاتا ہے -

لیکن سوره کوثر کی آیات کو کعبہ مشرفہ کی دیوار پر آویزاں کرنے کے بعد جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان آیات کے مقابل کوئی شعر بنانے کا چیلنج دیا تو بڑے بڑے شعرا یہ کہنے پر مجبور ہوگۓ کہ '' یہ انسانی کلام نہیں -'' اور یوں قصیدوں کو کعبہ کی دیواروں پر لٹکا کر داد حاصل کرنے اور اپنی شاعری پر ناز کرنے کا دور ختم ہوگیا-

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE