MOUNT OF MASKOOTHA
(JABAL MASKOOTAH )

JABAL MASKOOTHA ADJECENT TO JABAL SOR

مکّہ مکرمہ جانے والے حاجی اور زائرین عمرہ مکّہ میں موجود 
'' جبل ثور '' کی زیارت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں کیوں کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس کی ایک تاریخ ساز غار '' غار ثور '' میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کے موقح سیدنا ابو بکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کے ساتھ قیام کیا 
تھا اور اپنے آپ کو دشمنوں سے چھپایا تھا - 

اس پہاڑ کی عظمت سے تو شاید ہی کوئی مسلمان منکر ہو ، لیکن بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ اس پہاڑ کے سیدھے ھاتھہ پر ایک اور پہاڑ ہے جسکو '' جبل المسخوطة '' کہتے ہیں جو کھردرے اور بنجر ''جبل ثور '' کے مقابلے میں کہیں سر سبز اور شاداب نظر آتا ہے - اس تصویر میں ہرے تیر سے میں نے ' جبل المسخوطة '' کو ظاہر کیا ہے جنکہ نیلے تیر سے میں نے 
'' جبل ثور '' کو دیکھایا ہے - 

read detail of this mount in detail in urdu

جب ہم کسی مذہب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اول نمبر پر ان باتوں پر یقین کرنا پڑتا ہے جو اس مذہب کی بنیادی کتاب (الہامی یا غیر الہامی ) میں درج ہوتی ہیں - دین اسلام میں اس مقام پر بلا شبہ '' قرآن حکیم '' ہے - دوم درجے پر وہ باتیں آتی ہیں جو اس مذہب کے داعی کے احکامات ہوتے ہیں یا اسکی حرکت و سکنات ہوتی ہیں جو اسکے سچے پیرو کار آئندہ کی نسلوں تک پہنچاتے ہیں - ان باتوں میں دائی کے زمانے میں موجود پیروکاروں کا سچا ہونا اور بعد کی نسلوں کا ان باتوں کو جوں کا توں رکھنا ان باتوں کے سچ ہونے کی بنیادی شرط ہوتی ہے - دین اسلام میں اس مقام پر '' احادیث صحیح '' کا مقام ہے اور یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جسکے پیروکاروں نے اس پر بہت محنت کی اور احادیث مبارکہ کو دین اسلام میں '' قران پاک '' کے بعد یقین کے درجے تک پہنچایا ہے -

تیسری صورت تاریخی حوالوں کی ہوتی ہے جو مورخ تحریر کرتا ہے اور تاریخ کی کتابوں میں یہ حوالے ملتے ہیں - کیوں کہ تاریخ کا ہر صفحہ دنیاوی علوم کا ماہر ایک عام انسان تحریر کرتا ہے جس میں صرف اس حد تک تو ملاوٹ کی گنجائش موجود ہوسکتی ہے جہاں اس تاریخ دان کا کوئی ذاتی مفاد موجود ہو یا اس دور کے حکمران تاریخی واقعات کو اپنے مقاصد میں تبدیل کرنا چاہیں - لیکن ایک مخصوص موضوع کی تاریخ لکھنے والے صرف ایک خاص خطے کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ وہی تاریخ دنیا کے دوسرے خطوں میں بسنے والے مورخ بھی لکھ رہے ہوتے ہیں ، اس لیے تاریخ بھی بہت حد تک قابل اعتبار دستاویز تصور کی جاتی ہے -

چوتھی صورت روایات کی ہوتی ہے جوزبانی ، سینہ بہ سینہ نسلوں میں منتقل ہوتی جاتی ہے اور کسی مستند کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہوتا لیکن صدیوں سے یہ روایات اس قدر شد و مد 
سے بہ زبان تذکرہ رہتی ہیں کہ ان کی سچائی پر یقین سا ہونے لگتا ہے - جیسے روایات میں ہی آیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب '' غار ثور '' میں پناہ لی تو مکڑی نے اسکے دھانے پر جالا تن دیا اور کبوتریون نے اس پر انڈے دے دیے تاکہ قریش کے کافر جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تلاش میں تھے انھیں یہ یقین دلایا جا سکے کہ اس غار کے اندر کوئی موجود نہیں کیوں کہ مکڑی کا جالا اور کبوتروں کے انڈے یہ ظاہر کر رہے تھے کہ اس غار کو بہت عرصے سے کسی نے استمعال ہی نہیں کیا - اب دیکھیں یہ واقعات روایات ہیں اور یقین کی حد تک پہنچ چکے ہیں - 

اھلا'' کے آج کے کویز میں بھی جو سوال پوچھا گیا تھا وہ ایک مشہور روایت کے تناظر میں تھا - اب آپ جواب سنیں -

جبل ثور کے داہنی جانب موجود پہاڑ '' جبل المسخوطة '' دار اصل جبل ثور کا ہی تسلسل ہے لیکن روایات کہ مطابق یہاں ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ اس کو ' جبل المسخوطة '' کے نام سے مخصوص کر دیا گیا - ''مسخوطة'' کے معنی کلاسیکل عربی زبان میں '' "The Cursed کے ہیں یعنی جس پر'' تف ہو ''-

کہا جاتا ہے کہ ہجرت کے سفر کے موقع پر جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکرصدیق رضی الله تعالی عنہ کے ساتھہ '' غار ثور '' میں پناہ لیے ہوۓ تھے اور قریس کے کفّار تلواریں تھامے آپکی تلاش میں ''جبل ثور '' کی جانب بڑھ رہے تھے تو اس وقت '' جبل المسخوطة '' پر ایک عورت جو وہاں اپنی بھیڑیں چرا رہی تھی - اس نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ، سیدنا ابو بکرصدیق رضی الله تعالی عنہ کو '' ثور '' کی غار کی جانب جاتے دیکھ لیا تھا - جب قریس کے کفّار نے اس عورت سے دریافت کیا کہ کیا اسنے دو اشخاص کو اس جانب آتے تو نہیں دیکھا تو اس عورت نے انکو یہ بات بتانا چاہی کہ اس نے '' غار ثور '' کی جانب دو لوگوں کو جاتے دیکھا ہے تو وہ عورت الله کریم کے عذاب سے دو چار ھوئی اور الله سبحان و تعالی نے اپنی قدرت سے اسے پتھر کے مجسمے میں تبدیل کر دیا اور اسی واقعہ کی وجھہ سے اس پہاڑ کو '' جبل المسخوطة '' کہا جانے
لگا - واللہ اعالم بالصواب ( الله ہی کو ہر ظاہر اور ڈھکی چھبی بات کا مکمل علم ہے -)

پچیس تیس سال پہلے تک اس پہاڑ پر ایک مجسمہ نما صورت موجود تھی اور اسکی ایک بلیک اینڈ واہیٹ اخباری تصویر بھی میرے پاس تھی پر نا جانے میں نے وہ کہاں رکھ دی ہے - بہت تلاش کی نہیں ملی - جب الله سبحان و تعالی کا حکم ہوگا وہ نادر تصویر مجھے مل جایے گی تو انشااللہ آپکی خدمت میں پیش کر دوں گا -
=========================

اور الحمد الله مجھے وہ تصویر مل گئی اور  پیش خدمت ہے - بت کی صورت میں اس چرواہی کو دیکھا جا سکتا ہے
- اور ہر چیز کا مکمل اور بہترین علم الله سبحان و تعالی کو ہی ہے -



=======================================

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE