درب زبیدہ
 
( shahr-e- zubaidah)





جی ہاں یہ سڑک بھی مکّہ مکرمہ جاتی ہے -
=====================================
بڑی عجیب اور سنسان سی سڑک ہے جس کے ایک کونے پر ٹوٹ پھوٹا پیٹرول پمپ بھی آپکو نظر آرہا ہے حقیقت میں یہ مکّہ کی جانب جاتی ہے - اور اگر اس سڑک پر سفر کیا جایے تو آج بھی جا بجا ٹوٹے پھوٹے پیٹرول پمپ اور کنویں اور محافظوں کی چوکیوں کے متعدد آثار سڑک کے ساتھہ ساتھہ دیکھنے کو ملتے ہیں -

گو کہ یہ سڑک اب نہ قابل استمعال ہے اور متروک ہو چکی ہے لیکن اسکی تاریخی اہمیت آج بھی برقرار ہے - یہ سڑک اس وقت لوگوں کو مکّہ تک لیے جاتی تھی جب مکّہ تک بائی روڈ پہنچنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا - تقریبا'' ایک ہزار سال تک یہ سڑک لوگوں کو تجارت اور حج و عمرے کے لیے مکّہ پہنچاتی رہی -

مکّہ کے اطراف میں موجود متعدد میقاتوں میں سے ایک میقات جس کا نام ''ذات عراق '' ہے ، اگر اس جانب سے مکّہ کی طرف آئین اور اس سڑک کو دیکھنے کی جستجو کریں تو آپ آج بھی یقینا'' اس تاریخ سازسڑک کی باقیات کو دیکھ سکتے -



اس سڑک کا نام '' درب زبیدہ '' ہے - عربی میں ''درب '' راستے کو کہتے ہیں - رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم کے وصال کے صرف 155 سالوں بعد عراق میں ایک ایسی نیک خاتون پیدا ہوئیں جنہوں نے تاریخ اسلام میں بہت نام کمایا - یہ خاتون ملکہ زبیدہ کے نام سے پہچانی جاتی ہیں - یہ ایک خدا ترس اور نہایت نیک اور پارسا خاتون تھیں - یہ خلیفہ ہارون رشید کی زوجہ محترمہ تھیں - 

اس خاتون کے متعلق مشہور ہے کہ انکی کبھی کوئی نماز قضا نہ ھوئی - یہ معاملہ تو یقینا'' انکے اور الله سبحان و تعالی کے درمیان ہے لیکن انکی خدمات نے اسلامی تاریخ میں بیشمار انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور انہی نقوش میں سے ایک نقش یہ سڑک '' درب زبیدہ '' ہے - یہ خدا ترس عورت جب ایک مرتبہ حج پر مکّہ تشریف لائیں تو انھوں نے دیکھا کہ مکّہ تک پہنچنے کے کوئی مستقل راستہ موجود نہیں ہے اور سفر کے دوران بہت سے حجاج راستہ بھٹک جاتے ہیں اور پانی کی فراہمی کا کوئی مناسب انتظام بھی نہیں ہے تو اس خاتون نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوے یہ 1200 کلو میٹر لمبی سڑک عراق سے مکّہ مکرمہ اور مدینہ المنوره تک بنوائی -

اس سڑک کے کے درمیان 40 موقف یعنی اسٹاپ اس طرح بنوائے گیے کہ ہر اسٹاپ پر پانی پینے کا ایک کنواں ، مسجد ، مسافر خانہ ، محافظوں کی چوکی .. جانوروں کے پانی پینے کے تالاب اور بلند مینار بنیے گیے تھے جن پر رات کو روشی کردی جاتی تھی تاکہ مسافروں کو منزل یعنی اسٹاپ کی دوری کا اندازہ ہو سکے - زمانے کی ترقیوں کے بعد جب آٹوموبیل کا دور شروع ہوا تو یہ جا بجا پیٹرول پمپ بھی بنا دیے گئے - 

یہ سڑک یعنی ''درب زبیدہ '' ایک ہزار سال تک مکّہ مدینہ کی جانب آنے والوں مسافروں اور حجاج کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھی - ترقی یافتہ اور جدید سڑکوں کے موجودہ جال نے اس سڑک کی اہمیت ختم کردی ہے لیکن اسلامی تاریخ کے لازوال کارناموں میں یہ سڑک کبھی فراموش نہ کی جاسکے گی جسکو مکّہ مکرمہ اور مدینہ المنوره کی جانب آنے والی پہلی سڑک کا لازوال اعزاز حاصل ہے -

یہ سڑک بغداد سے شرو ع ہوکر کوفہ ، نجف، قدسیہ ، تھلبیہ ، سمیرہ سے ہوتی ہوئی نقرہ کے مقام پر پہنچتی ہے جہاں سے یہ دو شاخہ ہوجاتی ہے - ایک رستہ مدینہ المنوره کی جانب مڑ جاتا ہے جبکہ دوسرا بیر غفاری ، السلیلہ . مہد اور دباب سے ہوتا ہوا میقات ''ذات عراق '' کو مس کرتا ہوا مکّہ مکرمہ تک جا پہنچتا ہے -

اس سڑک کے علاوہ شہزادی زبیدہ نے ایک اور معرکتہ الارا کام کیا جس کا ذکر اھلا'' کی کسی پرانی پوسٹ میں تفصیلا''ہو چکا ہے - یہ کام '' نہر زبیدہ '' کا تھا - اس نیک خاتون نے عراق سے مکّہ مکرمہ تک ایک نہر بھی کھدوائی تھی جو سالوں حاجیوں کو پینے اور وضو کرنے کا پانی فراہم کرتی رہی - آج بھی عرفات کے میدان میں آپ اس نہر کو جبل رحمت کے دامن میں دیکھ سکتےہیں - گو کہ اب اسمیں پانی نہیں ہے مگر نہر موجود ہے - یہ نہر کیسی نظر اتی ہے - اسکو جاننے کے لیے اور بہت سی تصاویر دیکھنے کے لیے آپکو اھلا'' کے اس لنک کو ضرور کلک کرنا چاہیے -

http://www.ahlanpk.org/z3.html


 LIST PAGE

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE