MASJID ADAS
AND MOUNT OF TAIF


یہ تصویر حجاز مقدس کے تیسرے متبرک شہر ---------" طائف"----- کی ہے - مجھے یقین کامل ہے کہ اپ آپ آدھے سے زیادہ جواب فوری طور سے سمجھ گیے ہونگے -

جی ہاں یہ طائف کا وہ مقام ہے جہاں طائف کے اوباش لوگوں نے رسول الله صلی الله غلیہ وسلم پر سنگ باری کی تھی اور آپ لہو لہان ہو گیے تھے - اور اس وقت آپکے ساتھ مکّہ سے جانے والے واحد ساتھی" سیدنا " زید بن حارث " تھے- اور ایک اور صحابی
" سیدنا عداس " --{ع د ا س }--- تھے - یہ دوسرے صحابی کون تھے انکا ذکر میں ابھی تھوڑی دیر میں کرتا ہوں -

تصویر میں پہاڑ کے دامن میں وہ مقام ہے جہاں رسول الله صلی غلیہ وسلم پراتنی شدید سنگ باری کے گیئ تھی کہ اس کا اندازہ آپ دو باتوں سے کر سکتے ہیں -
اول یہ کہ جب احد کی جنگ کے موقع پر آپ صلی الله غلیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوے اور آپ صلی الله غلیہ وسلم شدید زخمی بھی ہوے اور ،آپکو اپنے محبوب چچا سیدنا امیر حمزہ کے شہید ہونے کا صدمہ بھی سہنا پڑا- اس وقت آپ صلی الله غلیہ وسلم سے کسی نے دریافت کیا کہ ---" اے الله کی محبوب رسول آپ پر احد کی دن سے زیادہ کوئی اور دن بھاری
نہ گزرا ہوگا تو الله کی رسول صلی الله غلیہ وسلم نے فرمایا " نہیں طائف کا وہ دن مجھ پر سب سے بھاری تھا جب وہاں میرے ساتھ زید بن حارث کی علاوہ کوئی نہ تھا - اہل طائف نے مجھ پر اتنی سنگ باری کی کہ میں لہو لہان ہو گیا - جب وہ داہنی جانب سے پتھر برساتے تو تنہا زید میرے داہنی جانب آجاتا اور ان پتھروں کو تن تنہا اپنے جسم پر روکتا اور جب وہ مجھ پر بائیں جانب سے سنگ باری کرتے تو زید بھاگ کر میرے بائیں جانب آجاتا - وہ دن میری زندگی کا سخت ترین دن تھا -"
دوم یہ کہ جب شریر اہل طائف نے سنگ باری کی انتہا کردی تو الله کی حکم سے فرشتے رسول الله صلی الله غلیہ وسلم کی خدمات میں حاضر ہوے اور عرض کی کہ---- آپکی مرضی ہو تو ہم دونون پہاڑوں کو جو کہ آپکی دونون طرف ہیں آپس میں ملا دیں تا کہ یہ شریر لوگ ہلاک ہو جائیں - اس وقت رسول الله صلی الله غلیہ وسلم نے تاریخ ساز بات کہی اور عفو وہ درگزر فرماتے ہوے کہا نہیں شائد مستقبل انکی نسل سے دین قبول کرنے والے پیدا ہو جائیں - ظلم اور رحم دونون کی انتہا دکھنے کو ملی اس مقام کو اور یوں یہ مقام ہمیشہ کۓ لیا امر ہو گیا -

اس تصویر میں جو بلند پہاڑ نظر آرہا ہی یہ انہی دو پہاڑوں میں سے ایک ہے جس کۓ لیے فرشتوں نے اجازت مانگی تھی کہ انہیں اپس میں ملا دیا جایے تک کہ شریر لوگ ہلاک ہو جائیں -

اس تصویر میں آپکو دائرے میں ایک مسجد نظر آرہی ہے - یہ اصل میں اسوقت ایک چھوٹا سا باغ تھا جہاں رسول الله صلی الله غلیہ وسلم نے پناہ لے تھی - اور اس مسجد کا نام " مسجد عداس " ہے اور یہ نام انہی صحابی کۓ نام پر رکھا گیا ہے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے - یہ طائف میں ایک غلام تھے اور طائف کی تبلیغ کۓ دوران صرف اس واحد عظیم انسان نے رسول الله صلی الله غلیہ وسلم کۓ ھاتھوں پر اسلام قبول کیا تھا - بحیثیت مسلمان ہمیں ان صاحبی کۓ بارے میں معلوم ہونا چا ہے - یہ طائف کی زمین پر سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے انسان ہیں - اور ان ہی کۓ نام سے یہ مسجد آج بھی طائف کۓ اس تاریخی مقام پر موجود ہے -
=============
EK BAT ORR AHAM HAY-

اوپر والی تصویر طائف میں رسول الله صلی علیہ وسلم کی چچا سیدنا عباس
کی نام سے موسوم مسجد ہے جبکہ نیچے والی تصویر اس مقام کے جہاں رسول الله صلی علیہ وسلم پر سنگباری کے گی اور فرشتوں نے اس ہی پہاڑ سے ان اوباش لوگوں کو کچلنے کے اجازت مانگی مگر رسول الله صلی
علیہ وسلم نے فرمایا نہیں شاید انمیں سے ہی کوئی مسلمان ہو جائے اور پھر چن سالوں میں طائف مسلمانوں سے بھر گیا - -- اور کیا آپکو پتا ہے محمّد بن قاسم کا تعلق بھی طائف سے ہی تھا جو سندھ میں آیے اور ہم سب کے مسلمان ہونے کا پیش خیمہ بنے - — 

ANSWER IN ENGLISH
-------------------------------
It is the pic of TAIF where the mischievous people had thrown stones over prophet Muhammad sallallaho allihi wasalam when he sallallaho allihi wasalam was there to preach . ON this occasion only two companions of prophet Muhammad sallalla ho allihi wasalam was with him. one of them was syedna zaid bin haris and other was syedna ADAS. The later one was a slave in taif in those days and he was the only ONE who embrace islam on the hands of prophet Muhammad sallallaho allihi wasalam during whole preaching in taif .

The intensity of throwing of stones was so severe that the whole pure body of prophet Muhammad sallallaho alli wasalam covered with blood. Once Prophet sallalla ho allihi wasalm said that the day of TAIF wa the hardest day of his whole holy life. Syedna zaid bin haris tried his level best to protect prophet MUHAMMAD sallallaho allihi wasalm getting hurt.

you can imagine the intensity of stoning by this fact that the angles descended and asked prophet sallallaho allihi wasalam if he had wanted, both the mountains might be ordered to press the population of taif to abolish them, but merciful prophet sallallaho allihi wasalam had forgave them and showed hope that in future their generation might be muslim.
It is surprising fact that Muhammad bin Qasin borned in Taif and he conquered Sind and because of such fact Islam got introduction inthis part of india (now pakistan )

In the above pic, the mountain you are looking, is one of those two historical mounts. In the bottom in a circle you may say a masjid . It was the small garden in those days and prophet sallallaho allihi wasalam had taken shelter from wild stoning. NOW a masjid is built here and the name of this masjid is attributed to the FIRST EVER MUSLIM OF TAIF EMBRACED ISLAM " SYEDNA ADAS " Radi Allah  o talla anha .

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE