PRESENT PULPIT
OF MASJID AL NABVI

(A UNIQUE KNOWLADGE )




منبر رسول صلی الله علیہ وسلم جب پہلی مرتبہ مسجد النبوی میں قایم ہوا تو اسکے تین اسٹپ ( سیڑھیاں ) تھے جسا کہ ہمیں آج کل عام مسجدوں میں نظر اتے ہیں - رسول صلی الله علیہ وسلم اسکی سب سے اوپر یعنی تیسری سیڑھی پر تشریف فرماتے اور آپکے قدمیں دوسری یعنی بیچ کے سیڑھی پر ہوتے تھے -

رسول صلی الله علیہ وسلم کے بعد جب سیدنا ابوبکر(ر- ض) جب خطبہ دینا شروع کیا تو آپ دوسری سیڑھی پر بیٹھتے ارر قدمیں پہلی سیڑھی پر ہوتے - اسی طرح سیدنا عمر (ر- ض) پہلی سیڑھی پر بیٹھے اور آپکے قدمیں زمین پر ہوتے -

سیدنا عثمان (ر - ض ) پہلے کچھ عرصے تو سیدنا عمر کی تقلید کرتے رہے ، اسکے بعد آپ رسول صلی الله علیہ وسلم کے سنّت کی اتباع کرتے ہوے تیسری یعنی سب سے اوپر والی سیڑھی پر بیٹھنے لگے اور آپکے قدمیں دوسری سیڑھی پر ہوتے تھے

سیدنا امیر معاویہ کے دور میں اسمیں مزید چھہ اسٹپ
( سیڑھیوں ) کا اضافہ کیا گیا اور اسکی تعداد نو ہو گیئ اور یہ اسقدر بلند ہو گیا جتنا اس تصویر میں نظر آرہا ہے - پرانے تینوں اسٹپ نیچے سے ساتویں ، آٹھویں اور نویں نمبر پر آگیے - سیدنا امیر معاویہ ساتویں اسٹپ پر بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے - گویا وہ پرانے منبر کے تیسری سیڑھی پر ہوتے جہاں سیدنا عمر( ر - ض ) تشریف فرماتے تھے -

سیدنا امیر معاویہ کے دور میں پرانے تینوں استپ کی لکڑی خراب ہونے لگی تو انھوں نے اس کو تبدیل کرنے کا حکم دیا لیکن جس دن اس کم کو کرنا تھے اس دن اہل مدینہ نے ایک معجزہ دیکھا اور دن کے وقت پورے آسمان پر اسقدر اندھیرا چھا گیا کہ ستارے نظر آنے لگے - امیر معاویہ نے کام فوری طور سے رکوادیا اور یہ سمجھا گیا کہ اس کام کو کرنے میں الله کی مرضی شامل نہیں -

اور یوں یہ منبر ٦٥٤ ہجری تک قایم و دایم رہا اور سن ٦٥٤ ہجری میں جب مسجد النبوی میں آگ لگی تو اس منبر کو شدید نقصان پہنچا اور یوں سن ٦٥٦ ہجری میں یمن کے حکمران "المظاھر" نے نیا منبر مدینہ بھیجا جو دس سال اس مقام پر رہا -

اسکے بعد مصر کے حکمران الظاھر بیبرس نے سن ٦٦٦ ہجری میں ایک اور منبر بطور تحفہ مسجد النبوی کے لئے بھیجا -

سن ٧٧٩ ہجری اور اور ٨٢٠ ہجری میں دو مرتبہ پھر منبر تبدیل کیا گیا - سن ٨٨٦ ہجری میں ایک مرتبہ پھر آتشزدگی نے منبر رسول صلی الله علیہ وسلم کو شدید نقصان پہنچا اور ا ہل مدینہ نے اینٹوں سے ایک پکا منبر بنا دیا

دو سال بعد ٨٨٨ ہجری نے سلطان الاشرف قتبائی نے ایک بہت ہی خوصورت منبر تعمیر کروایا جو ایک سو دس سال مسجد نبوی کے زینت بنا رہا اور پھر یہ منبر مسجد قبا میں رکھوا دیا گیا جو آج تک وہاں موجود ہے- اھلا'' کے پلیٹ فارم سے اس منبر کے متعلق پہلے ایک سوال پوچھا جاچکا ہے - اور کیوں کہ یہ منبر ٨٨٨ ہجری سے لیکر آج تک یعنی ١٤٣٢ ہجری یعنی چار سو چوالیس ( ٤٤٤ ) سے قائم و دائم ہے - پہلے ایک سو دس سال مسجد نبوی میں رہا اور اب تین سو چونتیس سال سال سے مسجد قبا کے زینت بنا ہوا ہے - اگر آپکے دل میں اس عظیم منبر کو دیکھنے کی خواہش جاگی ہو تو آپ  اس    کو ضرور دیکھیں


PREVIOUSLY KEPT IN MASJID AL NABVI AND NOE IT IS IN
''QUBA MASJID ''

قتبائی کا منبر مسجد قبا اس لیے
بھج دیا گیا کہ سن ٩٩٨ ہجری میں عثمانی سلطان مراد سویم نے ایک خوبصورت منبر مسجد نبوی کے لیے بنوایا اور آج کل جو منبر ہم مسجد النبوی میں دیکھتے ہیں اور جسکی تصویر اوپر دی گیی ہے وہ اس ہی تاریخ ساز منبر کی ہے جو تین سو چونتیس سال سے مسجد نبوی میں موجود ہے اور زائرین اس منبر کو بڑے شوق سے دیکھتے ہیں لیکن کم ہی جانتے ہیں کہ اس منبر کی پیشانی پر دروازے کے اوپر بارہ بیضوی دایروں میں کچھ لکھا ہے جسکو میں نے سرخ چوکور خانہ میں واضح کیا ہے -

کیا آپ بتا سکتے ہیں ان بارہ بیضوی دایروں میں کیا لکھا یا کم از کم یہ بتادیں کہ آخری یعنی بارہویں دایرے میں کیا لکھا ہے ؟


جواب نوٹ کر لیں -
--------------------------
اس منبر کے پوری تاریخ تو میں نے سوال میں لکھ دی ہے اب آپ صرف یہ نوٹ کرلیں کہ موجودہ منبر کے پیشانی پر بارہ بیضوی دائروں میں عربی رسم الخط میں یہ لکھا ہے - جو حاجی یا زائرین مسجد نبوی جائیں اس کو ضرور ملاحظه کریں :

١- سلطان مراد بن سلیم نے یہ منبر بھیجا ہے -

٢- وہ اس کا اجر روز قیامت لینا چاہتے ہیں -

٣- اسکی ریاست ہمیشہ پہلے پھولے -

٤- بہترین شہر اسکے امن والے کنٹرول میں رہیں

٥- یہ (منبر) رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے باغ کے لیے ہے-

٦- الله اسکو (منبر) کو اعزاز اور عزت عطا فرمائیں کہ -

٧-لوگ اس (منبر) سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں

٨ - یہ منبر اخلاص سے بنایا گیا ہے تاکہ اس سے رہنمائی حاصل کے جائے -

٩ - یا رب اس منبر کے اونچائی سے بہت زیادہ رہنمائی ملے

١٠- ان لوگوں کو جو اس سے رہنمائی حاصل کرا چاہیں

١١ - یہ جملے " سعد " نے لکھے ہیں -

١٢ - اور یہ منبر سلطان مراد نے سن ٩٩٧ ہجری میں بنوایا -

( گویا یہ منبر ٣٣٤ سالوں سے مسجد النبوی کے زینت بنا ہوا ہے اور ہر جمعہ اور دونون عیدوں کے خطبے یہیں سے پیش کیے جاتے ہیں )


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE