سقیفہ رضاض
  جہاں  نور الدین زنگی  نے سیسہ پگھلوایا 

 ----------------------------------------------------------------------------------------
HISTORIC SPOT WHERE NOOR UDDIN ZINGI BOILED LEAD
=================================================




نئی مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد باب السلام کے باہر تقریبا'' اس مقام پر سقیفہ رصاص ہوا کرتا تھا جو میں نے لال تیر سے ظاہر کیا ہے - جس کی زیارت سے مومنوں کے دل جھوم جاتے تھے مگر آپ یہ مقام کہیں کھو گیا ہے - اس کو منہدم کر دیا گیا ہے - لیکن پرانی بلیک اینڈ واہٹ تصویر میں تیر سے اس مقام کو ظاہر کیا گیا ہے -
نیچے دی ہوئی کلرڈ تصویر میں میں نے نیلے کراس کے نشان سے باب السلام کی ظاہر کیا ہے جبکہ اوپر بلیک اینڈ واہٹ تصویر میں میں نے لال کراس سے اسی باب السلام کو ظاہر کیا ہے جو آج سے نصف صدی قبل ایسا نظر آتا ہے 

سقیفہ رصاص ہے کیا ؟ اسکو جاننے کے لیے آپکو اس روح پرور واقعہ کو پہلے پڑھنا ہو گا جو آپکے قلوب کو گرما دے گا اور اسکے بعد سقیفہ رصاص کا راز آپکی روحانی لطافت کو مزید دو چند کر دے گا - یہ واقعہ جو میں درج ذیل میں لکھ رہا ہوں یہ اھلا'' کے پرانے قاری پہلے بھی پڑھ چکے ہونگے لیکن سقیفہ رصاص کا راز انکے لیے بھی نیا ہوگا -

عیسیٰیوں نے ایک گھناونی سازش ٥٥٧ (558 ) ہجری میں کی اور ان گستاخوں کی آرزو تھی کہ وہ معاذ الله روضۂ اقدس تک پہنچ جائیں اور رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم اور انکے دونوں جنت کے ساتھیوں کے اجسام مبارکہ کی خاکم بدھن . معاذ الله نے حرمتی کریں -
اس وقت شام کے بادشاہ نور الدین زنگی تھے - ایک رات نور الدین زنگی نے خواب میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو تین بار دیکھا - ہر بار رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے سلطان سے کہا کہ '' مجھے ان دونون کی شرارت سے بچاؤ '' - کائنات کے سردار رسول مقبول صلی الله علیہ وسلم کو معاذ الله سلطان نور الدین زنگی کی کوئی محتاجی نہیں تھی لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس سلطان کی پارسائی اور عشق پر اس سے یہ کام لیکر اسکے مرتبے کو عزت افزائی بخشنا چاہتے تھے - 

سلطان بیقرار تازہ دم گھوڑوں کی مدد سے پندرہ یا سولہ دن میں مدینہ منورہ پہنچا اور سب کے لیے تحفے لیے گیا - اسکے مشیر نے مدینہ منورہ میں اعلان کیا کہ ہر شخص اپنا تحفہ لینے خود حاضر ہو - سب آیے پر وہ دو اشخاص نظر نہ آیے- سلطان نے پوچھا کوئی شخص باقی تو نہیں رہ گیا ؟ - لوگوں نے جواب دیا دو متقی اور مالدار لوگ ہیں جو صرف عبادت میں مصروف رہتے اور کسی کا تحفہ قبول نہیں کرتے - بہت دیندار لوگ ہیں - سلطان نے حکم دیا انکو بھی حاضر کیا جایے - جب سلطان نے ان کو دیکھا تو وہ وہی دو اشخاص تھے جو خواب میں دکھائے گیے تھے -

تحقیق کرنے سے پتا چلا کہ کہ ان دونون یہودیوں نے اپنے مکان سے روضۂ اقدس تک زمیں کھود کر سرنگ بنائی تھی تاکہ وہ ان طاہر اجسام کو نقصان پہنچا سکیں لیکن الله نے غیب سے مدد فرمائی اور نور الدین زنگی نے ان کے سر خود قلم کیے اور روضۂ مبارک کے چاروں اطراف اتنی گہری کھدائی کروائی کہ پانی نکل آیا اور پھر اس میں سیسہ پگھلا کر زمین دوز ایسی چار دیواری بنوادی کہ اب قیامت تک کوئی زیر 
زمین اس مقدس مقام تک پہنچنے کی جرات نہیں کر سکے گا -

سقیفہ رصاص در اصل وہ مکان تھا جہاں نور الدین زنگی نے وہ بھٹی لگائی تھی جہاں بڑی بڑی دیگوں میں سیسہ پگھلایا گیا تھا اور پھر اس سیسے سے روضۂ اقدس کے چاروں طرف گہری کھدائی کروا کہ سیسے کی زمین دوز دیوار بنوادی تاکہ قیانت تک کوئی گستاخ ایسا عمل دھرانے کی جرات نہ کر سکے -

عربی میں سقیفہ '' کمرے '' یا '' ہال'' کو کہتے ہیں اور رصاص .'' سیسے '' یعنی لیڈ کو کہتے ہیں - اسی لیے اس مقام کا نام 
'' سقیفہ رصاص '' کہتے ہیں 
اس واقعے کی اگر آپ ڈرامای تشکیل دیکھ کر مزید اپنے لہو کو گرمانا چاہتے ہیں تو پلیز یو ٹیوب کے اس لنک کو مس نہ کریں - 
https://www.youtube.com/watch?

 
NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE