مقام شہادت سیدنا عثمان رضی الله عنہ

SPOT WHERE  SYED USMAN RADI ALLAH
HO TALLA ANHO ASSASSINATED
==================================



مسجد النبوی کے باہر عین اس مقام پر جہاں نئی تصویر میں ریڈ دایرہ لگایا ہے وہاں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو مکانات تھے ہوا کرتے اور ان میں سے ایک مکان میں آپکی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا تھا -
اب یہ مکان صرف تصور میں ہی رہ گیا ہے چند پرانی تصاویر اسکا ایک ہیولہ سا ہمارے ذہنوں میں بنا نے کے لیے موجود ہیں - اسلئے اس پرانی تصویر میں میں نے تیر کی مدد سے اس مقام کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے جو مقام شہادت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے اور اسی مقام پر آپکی زوجہ محترمہ کی دو انگلیاں بھی شہید ہوئی تھیں - یہ بہت مسکین شہادت تھی -

 آپ پر باغیوں نے اس کنویں کا پانی بھی بند کر دیا تھا جو آپ نے بھاری رقم دیکر یہودی سے لیکر عام لوگوں کے لیے وقف کر دیا تھا -

خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابوعمرو اور لقب ذوالنورین(دونوروالے)ہے۔ آپ قریشی ہیں اورآپ کا نسب نامہ یہ ہے: عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف۔ آپ کاخاندانی شجرہ عبد منافپر رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے نسب نامہ سے مل جاتاہے ۔

 آپ نے آغاز اسلام ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اورآپ کو آپ کے چچا اوردوسرے خاندانی کافروں نے مسلمان ہوجانے کی و جہ سے بے حد ستایا۔ آپ نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی ا س لئے آپ صاحب الہجرتین (دو ہجرتوں والے)کہلاتے ہیں اور چونکہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے آپ کے نکاح میں آئیں اس لئے آپ کا لقب ذوالنورینہے۔ آپ جنگ بدر کے علاوہ دوسرے تمام اسلامی جہادوں میں کفار سے جنگ فرماتے رہے ۔ جنگ بدر کے موقع پر ان کی زو جہ محترمہ جو رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی تھیں ، سخت علیل ہوگئیں تھیں اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان کو جنگ بدر میں جانے سے منع فرمادیالیکن ان کومجاہدین بدر میں شمار فرماکرمال غنیمت میں سے مجاہدین کے برابر حصہ دیا اور اجروثواب کی بشارت بھی دی۔ حضرت امیرالمؤمنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد آ پ خلیفہ منتخب ہوئے اوربارہ برس تک تخت خلافت کو سرفراز فرماتے رہے ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں اسلامی حکومت کی حدود میں بہت زیادہ توسیع ہوئی اور افریقہ وغیرہ بہت سے ممالک مفتوح ہوکر خلافت راشدہ کے زیر نگیں ہوئے۔ بیاسی برس کی عمر میں مصر کے باغیوں نے آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا اور بارہ ذوالحجہ یا اٹھارہ ذوالحجہ ـ ۳۵ھ؁ جمعہ کے دن ان باغیوں میں سے ایک بدنصیب نے آپ کو رات کے وقت اس حال میں شہیدکردیا کہ آپ قرآنِ پاک کی تلاوت فرما رہے تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کے چند قطرات قرآن شریف کی آیت فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ (1) پر پڑے۔

 آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازہ کی نماز حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھائی اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں مدفون ہیں-

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے شاید یہ بات نئی ہو کہ جب امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی الله تعالی عنہ کی شہادت کا الم ناک واقعہ پیش آیا تو مدینہ منورہ کے حالات اس قدر پُرخطر تھے کہ امیر المؤمنین کو جنت البقیع میں دفن کرنا ممکن نہ تھا ۔
اسلئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ آپکی تدفین اس وقت کے جنت البقیع کے مشرق میں واقع 'حُشِ کوکب نامی ایک باغ میں کر دی جایے -
کسی زمانے میں اس باغ کا مالک کا نام کوکب تھا۔ اسی نسبت سے یہ باغ حُشِّ کوکب کہلاتا تھا۔

سیدنا عثمانؓ رضی الله تعالی عنہ نے یہ باغ اپنی زندگی میں ہی خرید لیا تھا اور شہادت کے دنوں میں یہ آپ ہی کی ملکیت میں تھا۔ چنانچہ آپ کی تدفین آپ کے اسی باغ میں کر دی گئی - بعد میں امیرالمؤمنین سیدنا معاویہ رضی الله تعالی عنہ کے عہد میں بقیع کی توسیع کرتے ہوے حُشِ کوکب کو جنت البقیع میں ضم کا دیا گیا -

حُشِّ کوکب دیکھنے کے لیے اس لنک کو کلک کریں پلیز
http://www.ahlanpk.org/m54.html



PICTURE AND DESCRIPTION THROUGH COURTESY '' JUSTUJOO-E-MADINA '' THANKS
'' JUSTUJOO-E-MADINA '' ..
==========================

NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE