جبل ورقان

==========================
========

حج اور عمرے پر جانے والوں میں بمشکل ہی کوئی عاشق رسول صلی الله علیہ وسلم '' بیر روحا '' تک پہنچ پاتا ہے اور جو پہنچ بھی جاتا ہے ، وہ مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے سامنے نظر آنے پہاڑ ''جبل ورقان '' کی زیارت سے محروم رہتا ہے حالانکہ اسمقام سے اس متبرک پہاڑ کی زیارت میں صرف نظر اٹھا کے دیکھنے کا مرحلہ ہی باقی رہ جاتا ہے -
رسول مکرم صلی الله علیہ وسلم سے قبل تقریبا'' ستر انبیا علیہ سلام حج پر جاتے ہوے بیر روحا کے مقام سے گزرے اور اس کے پانی سے مستفید ہوے اور یہ کنواں تاریخ میں متبرک مقام کی حیثیت حاصل کر گیا مگر جب الله سبحان و تعالی کے آخری نبی سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم یہاں تشریف لاتے تو آپ نے اس مقام پر قیام کے دوران اس کنویں میں کلّی کی جس کی وجہہ سے اس کا پانی '' آب شفا '' بھی کہلانے لگا اور آج بھی اس میں وافر پانی موجود ہے جو عشاق کے ذوق کی تسکین اور بیماروں کی شفا کا ذریعہ ہے -

رسول الله صلی علیہ وسلم کے فرمان عالیشان کے مطابق
'' بیر روحا '' بذات خود اور یہ میدان جہاں بیر روحا موجود ہے جنت کا حصہ ہیں - اور یہاں سے سامنے نظر آنے والا ''جبل ورقان '' بھی جنتی پہاڑ ہے -
''جبل ورقان '' کیوں جنت کا پہاڑ ہے ؟ اسکی حقیقت کیا ہے ؟ اور کیوں اس کی زیارت کی جستجو ہر مومن اور مسلم کو ہونی چاہیے ؟ جاننے کے لیے اھلا'' کی درج ذیل سطور پڑھیں
 -
سیرت کی کتابوں میں آیا ہے ( حوالہ مدنی چینل - یو ٹیوب ) کہ 
جبل طور پر جب موسیٰ علیہ سلام کو الله تعالی نے جب اپنا جلوہ دکھایا تو اسکی تاب نہ لاکر کوہ طور مزید تین حصوں میں تقسیم ہوگیا - ایک حصہ احد کا پہاڑ بنا جو مدینہ منورہ میں موجود ہے اور ہر حاجی اسکی ضرور زیارت کرتا ہے اور اس پہاڑ کے متعلق جانتا ہے کہ رسول الله صلی علیہ وسلم نے اسے ارشاد فرمایا کہ '' احد جنت کے دھانے پر قایم ہے '' یعنی یہ جنت کا پہاڑ ہے -
جبکہ کوہ طور کا ٹوٹ کر دوسرا حصہ مدینہ المنوره سے پینسٹھ کلومیٹر دور بدر کے راستے میں آنے والے مشہور شفا کے کنویں '' بیر روحا '' کے سامنے ہے جسکو ''جبل ورقان '' کہتے ہیں 

  جسکو احد کی طرح رسول الله صلی علیہ وسلم نے جنتی پہاڑ قرار دیا - لیکن اس پہاڑ کی زیارت ہم میں سے کوی بھی نہیں کر پاتا - لحظہ اب جب بھی آپ بلایے جائیں تو '' جبل ورقان '' کی زیارت کا اہتمام ضرور کریں - اگر آپ بیر روحا جائیں گے تو اس پہاڑ کو بھی وہیں پائیں گے -
کوہ طور کا ٹوٹا ہوا تیسرا حصہ یانبو میں '' جبل ردواہ '' کے نام سے موجود ہے جس کی تفصیل پھر کبھی - 
=====================================================


NEXT PAGE
PREVIOUS PAGE
LIST PAGE